ڈرامہ سنگ ماہ اور پشتون تہذیب و ثقافت


سبط حسن اپنی کتاب ’پاکستان میں تہذیب کا ارتقاء‘ میں لکھتے ہیں کہ تہذیب کسی معاشرے کی بامقصد تخلیقات اور سماجی اقدار کے نظام کو کہتے ہیں۔ چنانچہ زبان، آلات و اوزار، سماجی رشتے، رہن سہن، علم و ادب، فنون لطیفہ، عشق و محبت کے سلوک اور خاندانی تعلقات وغیرہ تہذیب کے مختلف مظاہر ہیں۔ اس کے مطابق انگریزی زبان میں تہذیب کے لئے کلچر کی اصطلاح رائج ہے، جو کہ لاطینی زبان کا لفظ ہے۔ تہذیب و ثقافت عام طور پر ایک ہی معنوں میں استعمال ہوتے ہیں اگر چہ ادب اور کلچر کے اساتذہ ان دونوں لفظوں میں فرق واضح کرتے نظر آتے ہیں۔

پشتو ڈیپارٹمنٹ کے پروفیسر بدر الحکیم حکیمزے کہتے ہیں کہ انسان نے غار سے شہر کی طرف تمدنی سفر کیا ہے انسان نے اپنی بقاء کے لئے ہاتھ سے جو چیز بنائی ہے، اپنی نسل کو بڑھایا ہے، اپنی زندگی کو سہولت دی ہے۔ یہ تمام تمدن میں آتے ہیں۔ اگر انسان نے اپنا سر چھپانے کے لئے غار بنایا ہے، کھیت بنایا ہے، بیج بویا ہے، آنے جانے کے لئے راستہ بنایا ہے، مختلف پتھروں سے زیورات بنائے ہیں، اسلحہ بنایا سردی اور گرمی میں جو کپڑے بنائے ہیں یہ تمام انسانی تمدن کہلاتا ہے۔

پشتو زبان میں ہم کلچر کے لئے لفظ ’کلتور‘ استعمال کرتے ہیں۔ جس سے مراد وہی ہے جو ہم نے اوپر بیان کی ہے۔ کلتور میں ہماری روایات، اٹھنے بیٹھنے کے طریقے، شادی بیاہ، رسومات، لباس وغیرہ کا اظہار ہوتا ہے۔

ادب کے حوالے سے بات کی جائے تو ڈرامہ ادب کا ایک اہم صنف ہے جو عوام میں ہمیشہ سے مقبول رہا ہے۔ اس کی مقبولیت کی وجہ یہ ہے کہ ڈرامہ سادہ انداز و زبان میں بڑے پیچیدہ مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ڈرامے میں آپ کرداروں کے ساتھ روتے ہیں ہنستے ہیں اور ان کے جذبات کو محسوس کرتے ہیں ڈرامے میں جو دکھایا جاتا ہے، ناظرین اس کو سچ اور حقیقت سمجھتے ہیں اور اس کا ہم پر غیر ارادی طور پر اثر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ فلموں اور ڈراموں کے کرداروں میں اپنے آپ کو دیکھتے ہیں۔ اور انہی کی نقل کرتے ہیں۔

ڈرامہ ’سنگ ماہ‘ عوام میں کافی مقبول ہے۔ اس ڈرامے کے کردار، مناظر، سینماٹو گرافی، ڈائیلاگ اور سٹوری لائنز وغیرہ جاذب توجہ ہے۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ اس ڈرامے میں پشتون کلچر کی جس طرح نمائندگی ہوئی ہے اس پر بہت سے لوگ خفا ہیں۔ ڈرامے میں جو کلچر دکھایا جاتا ہے وہی پرسیپشن یا ادراک /فہم/شعور/خیال لوگوں کا بھی بن جاتا ہے۔ جیسا ایک میڈیا کے ماہر نے کہا ہے کہ باہر کی دنیا کے مناظر جو میڈیا دکھاتا ہے وہ ہماری دماغ کے شعور و لاشعور کے کیمروں پر چسپاں ہو جاتے ہیں۔ اب شاید نا خبر لوگوں کے ذہنوں پر کلچر کا وہی عکس چسپاں ہو گا جو ڈرامے میں پشتونوں کا دکھایا جاتا ہے۔

’سنگ ماہ‘ غگ یا غژ رسم کے گرد گھومتی ہے جس میں ایک لڑکا، لڑکی کے گھر کے سامنے فائر کرتا ہے جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اب وہ لڑکی کسی دوسرے شخص کی نہیں ہو سکتی۔ اس لڑکی کا رشتہ اسی سے ہو گا جس نے فائر یا غگ کیا ہو۔ اس رسم یا رواج کے بارے میں ہم نے سنا ہے، نہ دیکھا ہے اور بحیثیت پشتون نہ اس کا مشاہدہ کسی پشتون علاقے میں کیا ہے۔ لیکن ڈرامہ چونکہ مصطفی آفریدی نے لکھا ہے تو ممکن ہے کہ پختونخوا یا قبائلی علاقوں میں یہ رسم اب بھی موجود ہو۔

دوسری بات جو اس ڈرامے میں غلط انداز میں دکھائی گئی ہے وہ ایک لڑکے اور لڑکی کی ملاقاتیں ہیں۔ جو پشتون معاشرے کا خاصہ نہیں ہے۔ پشتون معاشرے میں لوگ ایک دوسرے سے بھرپور تعلقات رکھتے ہیں۔ ایک دوسرے کے گھر آنا جانا ہوتا ہے۔ کزنز ملتے ہیں۔ غم اور خوشی میں ایک دوسرے کا ہاتھ بٹھاتے ہیں اور ہر ممکن مدد کرتے ہیں۔ مگر میل فی میل کزنز بغیر کسی رشتے کے ایک دوسرے سے نہیں مل سکتے۔ ذرغونہ کی بیٹی گل مینہ اور حاجی مرجان خان کا بیٹا حکمت خان بہت سارے سین میں ملتے رہتے ہیں اور ایک دوسرے سے محبت کی پینگیں لڑاتے ہیں۔

ماڈرن دور میں شہری علاقوں میں ایسا شاید ہوتا ہو گا مگر دیہی علاقوں میں ایسی ملاقاتوں سے دشمنیاں پیدا ہوتی ہے۔ دیہی علاقوں میں لڑکا لڑکی ایک دوسرے سے اکیلے میں نہیں مل سکتے ایک تو بدنامی کا ڈر ہوتا ہے دوسرا اس گھر والوں کے بڑوں کی عزت خراب ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔ مگر ڈرامے میں لڑکے اور لڑکی کی ملاقات کو ایک عام سی بات کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ زرغونہ کو اس بات کا علم بھی ہوتا ہے۔ مگر اتنا واویلا نہیں کرتی۔

پشتون معاشروں میں لڑکیاں گھروں کے اندر اپنا زیادہ تر وقت گزارتی ہے اور گھر کے کام کاج سے فارغ نہیں ہوتی پھر گھر سے باہر محبت کی باتیں اپنے کزن سے شیئر کرنا اپنی اور خاندان کی بدنامی و رسوائی کا باعث بنتی ہے، لوگوں کے طعنے علیحدہ سے سننے پڑتے ہیں۔

زرعونہ شوہر کی وفات کے بعد ایک مرد کی طرح چال ڈھال اپناتی ہے۔ وہ اپنے کھیتوں کو سنبھالتی ہے۔ مردوں کی طرح اس کا چکر لگاتی ہے۔ بندوق اپنے ساتھ رکھتی ہے۔ گھڑسواری کرتی ہے۔ میں نے ابھی تک ایسی عورت کسی پشتون معاشرے میں نہیں دیکھی۔ پرانے زمانے میں عورتیں کھیتوں میں کام کرتی رہتی تھیں مگر اب حالات بدل گئے ہیں۔ مرد کی نظر میں ایسی عورت کی کوئی عزت نہیں ہوتی۔ وہ نظر انہیں برا بھلا کہتی ہے اور پیٹھ پیچھے اس پر طرح طرح کے بے بنیاد الزامات اور بہتان لگاتی ہیں۔ اگر چہ مرد کا یہ رویہ ٹھیک نہیں ہے۔

اس ڈرامے میں کئی مناظر اور کردار ایسے بھی ہے جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ پشتونوں کی پروفائلنگ کی گئی ہے۔

خیر ڈرامہ ڈرامہ ہوتا ہے یہ حقیقت کا عکس کہلاتا ہے۔ مگر چینلز پر بہت سے ڈرامے ایسے پیش کیے جاتے ہیں جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ میڈیا یا چینل کا کام پیسہ بنانا ہوتا ہے۔ اس کے لئے وہ چیزوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہے اور سنسنی پیدا کرتے ہیں۔ ڈراموں کی یہ مجبوری ہوتی ہے کہ وہ سچ میں جھوٹ کی آمیزش کریں۔ صحیح میں غلط ملائے، ہیرو کو ولن اور ولن کو ہیرو بنائے۔ ڈرامہ یا فلم جو دکھاتا ہے وہی ہمارا کلچر، ثقافت و تہذیب بن جاتا ہے اگر چہ حقیقت کا اس سے دور دور تک واسطہ نہ ہو۔

Facebook Comments HS