دکان مگر مذہب کیوں؟
مذہب ایک ایسا کارخانہ ہے جس میں غریب جنت اور امیر غریبوں کو دھوکہ دینے کے لیے انویسٹمنٹ کرتا ہے جب کہ ملا پادری پارسی پوپ دونوں کو دھوکہ دیتا ہے جبکہ مذہب اور خدا کو صحیح معنوں میں جاننے والے اپنے آپ کو کوستے رہتے ہیں پاکستانی معاشرے میں جس تیزی سے مذہب کی آڑ میں واردات ہوتی رہتی ہے عنقریب اندھیرا چھا جائے گا۔ کیونکہ افلا یتدبرون القرآن پر کام بند ہو چکا بات صرف جنت کی لالچ ذاتی کاروبار اور گناہ ثواب تک محدود ہو گیا ہے یہاں انسانیت حکمت سائنس علم پر بات کرنا گناہ تصور کی جاتی وجہ وہی گناہ ثواب جنت اور دنیا کی حقیقت جھٹلانا ہے اگر دنیا عارضی ہے تو اللہ تعالیٰ کی اتنی بڑی سائنس کی کیا ضرورت تھا یعنی کائنات گلیکسی کلسٹر خلا سمندروں میں طوفان کا آنا سورج کی روشنی زمین تک پہنچنا یا زمین کی ایک حصے سے دوسرے حصے تک کچھ لمحوں کے لیے منتقل ہونا یہ کوئی عارضی بات نہیں ہے۔
یہ دنیا فانی ہے ٹھیک ہے اس سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا مگر آج پہلے سے زیادہ عمریں پائی جاتی ہے آج جوانی کو سو سال تک برقرار رہنے کی ہنر میڈیکل سائنس نے دریافت کیا ہے کائنات کا ذرہ ذرہ کسی بڑی پشن گوئی سے خالی نہیں ہے۔ کیا یہ اور دوسری بڑی رازوں کو صرف گناہ ثواب کے لیے بنایا گیا ہے کیا قرآن میں غور و خوض تدبر کی ذکر کو گناہ ثواب جنت دوزخ تک محدود کیا گیا ہے بالکل نہیں۔ مرتے وہ ہیں جو خدا کے ان رازوں سے بے خبر ہوں۔
وہ نہیں مرتے جو خدا کی ان نشانیوں کو سامنے لاتا ہے خدا پر یقین پختہ کرتا ہے کائنات کی ان رازوں کا کچھ تو مطلب ہے جو قرآن کریم میں بتایا گیا ہے کہ غور و خوض کریں تدبر سے کام لیجیے اتنی تمہید کا مطلب ہے کاروباری تو کیسے بھی اپنا کاروبار کرتا ہے آپ اپنے آپ میں حوصلہ نئی سوچ کی طاقت ڈالیں تاکہ آنے والے وقتوں میں اللہ تعالیٰ کی رازوں کو انسانیت کی بھلائی میں صرف کرنے میں مسلمانوں کا نام بھی ہو نہ کہ ان پیشہ وروں کی جال میں پھنسے گناہ ثواب تک محدود رہو۔ اپنی سوچ کی اکائی یہاں سے شروع کیجئے جو بندے آپ کو گناہ ثواب جنت دوزخ کا درس دیتے ہیں اس کے اپنے بچے کیا کرتے ہیں کون سے سکول کالج یونیورسٹی میں کیا سبجیکٹ پڑھتے ہیں۔


پیاری تحریر۔ بہت شکریہ