پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں چالیس دن
دسمبر کی ٹھٹھرتی رات میں ہسپتال کے ٹھنڈے فرش کی ٹھنڈک وجود کو ہی نہیں روح کو بھی گھائل کر رہی تھی اور یہ درد کسی آ بلے کی طرح کسی وقت بھی بہہ جانے کو تیار تھا۔ دور کہیں ذہن کے دریچوں میں ایک فلم سی چلنے لگی۔
وہ دن تھا نو دسمبر کا جب پہلی بار ہسپتال کا رخ کیا۔ اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ خیر اس کا آغاز کیسے ہوا وہ بیان کرتی چلوں۔ والد صاحب کی طبیعت ذرا ناساز تھی تو بس معمولی معائنہ کرانے گئے تھے۔ کچھ ٹیسٹ ہوئے جن کی رپورٹ کچھ اچھی نہ تھی۔ ڈاکٹر نے جو انکشاف کیا وہ قبول کرنے کے لیے ذرا وقت لگا۔ مشکل یہ آن پڑی کہ وہ اچانک میں والدین کو بتا کر ان کو پریشان نہیں کر سکتی تھی۔ میں نے ان کی تسلی کرا دی سب ٹھیک ہے کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے بس معمولی سا مسئلہ ہے۔ باقی کل میں رپورٹ لے لوں گی۔
اگلے دن میں رپورٹ لینے گئی تو ہسپتال کی ایمرجنسی میں قدم رکھا ہی تھا تو جو منظر دیکھا روح کانپ اٹھی۔ ایک بیٹی تڑپ رہی تھی میرے ابو مجھے چھوڑ کر نہیں جا سکتے۔ سارا حوصلہ ادھر تمام ہوا۔ بڑی ہمت مجتمع کر کے اس منظر سے نکلی۔ تو ہسپتال کے کاؤنٹر تک گئی۔ اور رپورٹ طلب کیں۔ وہاں موجود لڑکا کہتا آپ کا مریض کدھر ہے میں نے بتایا وہ تو گھر ہیں میں تو بس رپورٹ لینے آئی ہوں اور ڈاکٹر کو دکھانی ہے۔ وہ کہتا آپ مریض کو بلا لیں ان کو داخل کرانا پڑے گا۔
میں نے اس کی بات پہ یقین نہ کیا اور ڈاکٹر کے پاس گئی تو اس نے بھی وہ ہی سب دہرایا۔ لیکن دل نا مانا تو دوسرے ڈاکٹر پاس لے گئی رپورٹ۔ اس کا بھی یہ ہی جواب تھا۔ تو ہمت کر کہ گھر فون کیا والد صاحب کو لے کر ہسپتال آ جائیں اور شاید ایک دن رکنا پڑے۔ اس کے بعد آغاز ہوا ایسے دور کا جس میں اتنا کچھ برداشت کیا کہ صبر کا کشکول کبھی ڈوب جاتا تو کبھی کناروں سے چھلک جاتا۔
خوب کاوشوں کے بعد رات کے اڑھائی بجے ایمرجنسی وارڈ تک رسائی حاصل ہو سکی۔ وہاں کا منظر ایسا تھا کہ حد نظر تک ہر شخص ایک جیسا درد لیے ہمدرد نگاہوں سے نئے آ نے والوں کو دیکھ رہا تھا۔ دسمبر کی وہ ٹھنڈی رات ایک طویل رات تھی۔ اگلے دن اینجیو گرافی کے بعد آ نے والی رپورٹ نے کم اور ڈاکٹر کے الفاظ نے زیادہ خون نچوڑ دیا۔ جب اچانک سے کہا گیا۔ اس کا آ خری حل ہے بائی پاس اور بات ادھر ہی ختم نہیں ہوتی ساتھ DVR کا آپریشن بھی ہے۔ اس انجان بیماری اور اس آپریشن سے ناآشنائی والد صاحب اور والدہ دونوں کے لیے مشکل لمحہ تھا۔ ان کو حوصلہ دینا اور فیصلہ لینا مجھ پہ چھوڑ دیا گیا۔ اس سب میں اندر کی دنیا میں جو ہوا اس کے بعد آ نے والی ہر گھڑی گزر جانے والی سے مشکل ہوتی گئی۔
وہ اک کڑا امتحان اور لمبے انتظار کا وقت تھا جو گزر جانے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ جو ہر روز پریشانی میں اضافہ کر رہا تھا۔ مگر کوئی سن ہی نہیں رہا تھا کارڈیک سرجری وارڈ کے چکر لگانے اور ڈاکٹر سے ملاقات نہ ہو پانا کہ وقت لے سکیں سرجری کے لئے۔ پھر خیال آ یا کہ جو حالات نظر آ رہے ہیں ان میں بس انتظار کی گھڑیاں گننے سے بہتر ہے ان سے ان کے انداز سے چلا جائے۔ تو بس پھر ایک فون کال نے ہسپتال کے ایم ایس کو وارڈ کا راستہ دکھا دیا۔ اور اگلے دن والد صاحب کو سرجری کے لیے بلا لیا گیا۔ اک طرف تو طویل انتظار ختم ہوا۔ تو دوسری طرف کاٹو تو لہو نہیں۔ ہائے افسوس کس ڈگر میں چل رہا ہے سب، جہاں مریض کی حالت نہیں، سفارش کا راج ہے۔ اور جن کے پاس یہ سب نہ ہو وہ حسرت سے رہ تکتے رہیں۔
سنا تھا پیسہ بولتا ہے ادھر چلتا پھرتا بھی دیکھا۔ ہر مرحلے پہ چاہے وہ گیٹ پہ کھڑا گارڈ یا واش روم میں بیٹھی صفائی والی ہر جگہ رکاوٹ ڈال کر پھر مانگتی مسکراہٹ سے کہنا باجی چاہ (چائے) ہی پلا دو اور وہ چاہ سو دو سے ہزار کی صورت ہو جائے تو کو اعتراض نہیں۔ اور اگر انکار کیا گیا تو آپ کو تو اندر نہیں داخل ہونے دیا جاتا۔ وہ کام جو ہوتا نظر نہیں آ تا بس اس چاہ کے نام سے ہو جاتا۔ وہ جراثیم جو بغیر چاہ کے مریض کے پاس جانے تھے ایک دم دھل جاتے تھے۔
کبھی خیال آ تا چلو ان کی مدد ہو گئی نہیں تو صدقہ دے دیا۔ مگر وہ لوگ اسے اپنا حق سمجھتے ہر چکر پہ نہیں تو ہر دن۔ اور اگر بیڈ کی چادر تبدیل کرنی تو اس پہ بھی چائے کا نام لے کر بھیک مانگنا اک معمول تھا ان کا۔ بات ادھر ختم نہیں ہوتی۔ ایک مریض جو بارہ گھنٹے سے آپریشن تھیٹر میں زندگی اور موت کی کشمکش میں تھا اس کے گھر والوں کے سانس رکے ہوئے ہیں۔ تو اچانک سے ایک فوج آتی ہے آپ کے مریض کا آپریشن ہو گیا ہے۔ چاہ پلا دو اور وہ چاہ ذرا بھاری قسم کی ہوتی یہ کام والے فقیر جلتی چنگاری پہ تیل ڈال کر مزید شعلہ بھڑکا کر اپنی چاہ پینا اچھے سے جانتے۔ کیا ہسپتال کی انتظامیہ کو یہ چاہ نظر نہیں آتی؟ جو ہسپتال میں ہر جگہ ہر قدم پہ لازم ہوتی جو مریض کے ساتھ آ نے والوں کو ذہنی ٹارچر دیتی۔
سرجری کے بعد مشینوں سے جکڑا وجود دیکھنا اک لمحے تو پیروں تلے زمیں نکل گئی ہو جیسے۔ ڈاکٹر سے پوچھا کہ مریض کی حالت کیسی ہے۔ تو جواب میں تسلی نہیں ٹکا سا جواب ملا نہ صحیح ہوئی مریض کی حالت تو آپ کیا کر لیں گی؟ ڈاکٹر کا یہ رویہ کرب دینے کی انتہا۔ تکلیف میں سرد رویے وجود پہ کپکپی طاری کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ کیا ڈاکٹرز کا یہ رویہ ہونا چاہیے؟ شفا تو اس رب نے دینی دوا آپ نے تو دعا تو ہم کر سکتے ہیں تو اس قدر کڑوے الفاظ کیوں؟
پھر اس کے بعد سلسلہ شروع ہو گیا خون کی ضرورت جو چھ بوتلوں سے بیس تک جا پہنچا۔ اور خون بھی او نیگیٹو جو ملنا جان جوکھوں کا کام تھا۔ لیکن بھلا ہو ہر اس شخص کا جو اتنی ہمت رکھتا ہے کہ اپنے وجود کا بہتا دریا کسی کی زندگی بچانے میں ذرا نہیں ہچکچاتا۔ وہ شخص جو اس ہستی سے مکمل انجان مگر اس کی زندگی بچانے کے لیے اک آواز پہ چلا آیا۔ تو لگا شاید انسانیت ابھی بھی کہیں زندہ ہے۔ جو اور ہر وہ شخص قابل قدر ہے جس نے اس سفر میں ساتھ دیا۔ اور زندگی کی ڈوبتی کشتی کو کنارہ دیا۔
دعا اور یقین سے ہر مشکل آ سان ہو جاتی ہے۔ ہر بیماری سے شفا مل جاتی ہے۔ بس جس لمحے حوصلہ ٹوٹنے لگے وہ وقت ہی اصل میں ہمت دکھانے کا ہوتا ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ اک نازک دوشیزہ ہو یا نڈر مرد۔ اور آپ اس سسٹم میں رہتے ہو جہان سفارش، پیسہ، اور سرد رویے ہیں۔ اگر آپ میں کسی بھی مشکل کا سامنا کرنے کا جوہر ہے تو وقت اور حالات کبھی آپ کو خوف زدہ نہیں کر سکتے ہیں۔ ہمت سے دوستی ڈر سے لاتعلقی اور خدا پہ بھروسا جو موت کے منہ سے واپس لا سکتی ہے یہ حقیقت افشاں ہسپتال میں ہوئی۔ جہاں لگتا ہے جسے ساری دنیا بیمار ہے۔ جدھر لگتا ہے فرشتہ بس ادھر ہی موجود رہتا ہے جو کسی لمحے بھی ساتھ لے جائے۔ جس جگہ لگتا ہے رب بس میرا ہے مسجد سے زیادہ سچے دل سے اس کو ادھر پکارا جاتا ہے۔ جہان پر ہر اجنبی سے اپنوں جیسی ہمدردی محسوس ہوتی ہے۔ ہر کسی کی تکلیف سانجھی لگتی ہے۔
