وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا


ایک طرف جہاں انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیں مظلوم کی بلا امتیاز داد رسی کی دعویدار ہیں تو دوسری طرف جب کسی ایسے ملک میں انسانیت پر ظلم ہو رہا ہو جہاں ان انسانی حقوق کی تنظیموں کے مفادات آڑے آئیں تو بنیادی انسانی حقوق اور وقار کی مساوات تبدیل ہوجاتی ہے۔ مودی کے دیس میں بھی انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے کچھ ایسا ہی رویہ اپنایا جا رہا ہے جہاں مذہبی اختلاف کی بنیاد پر بیسیوں لوگ مار دیے جاتے ہیں، سینکڑوں لوگوں کی معاشرتی آزادی ختم کر دی جاتی ہے، ہزاروں لوگوں سے کاروبار کا حق چھین لیا جاتا ہے، لاکھوں لوگوں کی ثقافتی و مذہبی شناخت کو متاثر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ لیکن مجال ہے کسی انسانی حقوق کی علمبردار تنظیم کو کچھ نظر آیا ہو۔

مودی کے دیس کے میں آئے روز ایسے واقعات جنم لیتے رہتے ہیں جن پر انسانی حقوق کی تنظیموں کے پلے کارڈز اور سوشل میڈیا پر تحریک چلانے والے خاموش رہتے ہیں۔ ایسا ہی ایک واقعہ چند ماہ پہلے اگست 2021 ء میں ریاست اتر پردیش کے شہر کانپور میں پیش آیا جس میں ایک 45 سالہ مسلمان رکشہ ڈرائیور کو اسکی کمسن بیٹی کی موجودگی میں کانپور کی گلیوں میں گھسیٹ کر بے دردی سے مارا گیا جبکہ اسکی کمسن بیٹی دھاڑیں مار کر روتی ہوئی التجا کرتی رہی کہ اس کے والد کو نہ مارا جائے لیکن ہندو گروہ بضد تھا کہ مظلوم ”ہندوستان زندہ باد“ اور ”جے شری رام“ نعرہ لگائے۔

بعد ازاں جب اس واقعے کی ویڈیو وائرل ہوئی تو کانپور پولیس نے تین ملزمان کو گرفتار کیا اور ایک ہی دن کے بعد ان کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا، جہاں بھارت اپنے لبرل ہونے کا دعویدار ہے وہیں پر شدت پسند عناصر کا گڑھ بھی ہے اگر خدانخواستہ ایسا ہی واقعہ پاکستان میں پیش آتا تو انسانی حقوق کی تنظیمیں چڑھ دوڑتیں لیکن افسوس مودی کے دیس میں کسی بھی انسانی حقوق کی تنظیم کو محنت کش رکشہ ڈرائیور کی دھاڑیں مارتی کمسن بیٹی نظر نہیں آتی۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا یہی دوہرا معیار بھارت میں رہنے والے لوگوں کی زندگیاں مزید مشکل میں ڈال رہا ہے اور شر پسند عناصر کو تقویت مل رہی ہے۔ اسی تقویت کے باعث چند ماہ قبل مدھیا پردیش میں چوڑی فروخت سلیم علی نامی مسلمان کو تھپڑوں، لاتوں اور ہر طرح کے غیر انسانی طریقے سے ہندو انتہا پسند مذہبی گروہ نے تشدد کیا۔ سلیم علی سے اس کے ضروری کاغذات اور رقم چھین لی اور مارتے ہوئے یہ بھی کہتے رہے کہ آئندہ اس طرف آنے کی جرات مت کرنا؛ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ اس غیر انسانی سلوک کے بعد اگلے ہی دن سلیم علی نامی شخص کے خلاف اسی ہندو گروہ میں سے ایک شخص نے اپنی 13 سالہ بیٹی کی ہراسانی کا جھوٹا مقدمہ درج کروا دیا جبکہ اس سارے غیرانسانی سلوک پر نہ تو بھارتی قانون حرکت میں آیا نہ ہی نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیموں کے کان پر جوں رینگی۔ اس لاقانونیت کی وجہ سے بھارت اپنے معاشرے کو انسان کی بجائے بھیڑیے دے رہا ہے جو کسی بھی وقت کسی پر جھپٹ کر نوچ ڈالتے ہیں لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔

ایسے واقعات صرف مسلمانوں تک ہی محدود نہیں ہیں بلکہ ہندو، سکھ اور باقی اقلیتوں کے ساتھ بھی غیر انسانی سلوک کی مثالیں مودی کے دیس میں آئے روز رونما ہوتی رہتی ہیں۔ رواں سال جنوری 2022 میں جھاڑ کھنڈ کے رہائشی انتہا پسند ہندو گروہ 32 سالہ سنجو کو پتھروں اور ڈنڈوں سے مار مار کر ہلاک کرنے کے بعد اس کی لاش کو اس لئے آگ لگا دیتا ہے کہ سنجو نے کچھ ایسے درختوں کی کٹائی کی جو کہ ان کے قبیلے کی روایات کے خلاف تھی یا وہ درخت فرضی طور پر مذہب کے ساتھ نسبت رکھتے تھے لیکن اس مذہبی انتہا پسندی پر ہم نہ تو کسی انسانی حقوق کی تنظیم کی طرف سے مذمت پڑھتے ہیں اور نہ ہی کوئی ریلی پلے کارڈز اٹھائے سنجو کو انصاف دلاتی دکھائی دیتی ہے۔

مودی کے دیس میں آئے روز انسانیت کش واقعات پر ہیومن رائٹس آرگنائزیشن چلانے والے ممالک جب لب کشائی کرنے کا سوچتے ہیں تو ان کی انسانیت کا جذبہ بھارت کے ساتھ اپنی تحاشا تجارت اور سفارتی تعلقات کے سامنے بہہ جاتا ہے جس کا سرا سر نقصان بھارت میں رہنے والے مظلوم طبقے کو ہے جس کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔

ہاں لیکن کچھ واقعات ایسے ضرور ہیں جن کی ویڈیوز وائرل ہوئیں تو ہیڈ لائنز میں آ گئیں جن پر کچھ دکھاوے کی کارروائی تو کی گئی لیکن ان واقعات میں بھی ہم ہندتوا کی انتہا پسندی کی شدت اور مودی کی ایسے عناصر کی پس پردہ حوصلہ افزائی کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر حال ہی میں کچھ ایسے واقعات ہماری نظروں سے گزرے ہیں جنہوں نے بھارت کے لبرل ریاست کے الاپ کی یکسر نفی کی ہے۔ جیسا کہ پانچ فروری کو بنگلور کے پی ای ایس کالج میں مسلم طالبہ مسکان کا واقعہ سامنے آیا جس میں باحجاب مسکان ”اللہ اکبر“ کا نعرہ بلند کرتے ہوئے آگے آگے چل رہی ہے جب کہ ”جے شری رام“ کے نعرے لگاتا ہوا ہندو انتہا پرست گروہ مسکان کا پیچھا کر کے اپنے شدت پسند ہونے کی گواہی دے رہا ہے۔

ایسا ہی ایک واقعہ گزشتہ برس مارچ میں پیش آیا جس میں 14 سالہ مسلم بچے کو مندر سے صرف دو گھونٹ پانی پینے پر ہندو گروہ نے بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس کے علاوہ گزشتہ جون میں اتم نگر دہلی میں مسلم سبزی فروش کو ہندتوا تنظیم کے ایک گروہ نے مار مار کر برا حال کر دیا اور ایسے کئی واقعات جن کو دیکھ انسانی آنکھ دنگ رہ جائے لیکن مودی کے دیس کو ایسے واقعات کے بعد بھی لبرل ریاست کا ٹائٹل بہر حال مل جاتا ہے۔ انہی وجوہات کی بدولت گزشتہ سالوں میں بھارت کے اندر بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مبنی واقعات میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 10 سال میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مبنی واقعات میں 90 فیصد مسلمان تشدد کا شکار بنے لیکن نہ تو شر پسند عناصر کی پشت پناہی کرنے والی مودی کی حکومت انہیں روکنا چاہتی ہے اور نہ ہی بڑی بڑی انسانی حقوق کی علمبردار تنظیمیں اس پر ایسے آواز اٹھاتی ہیں جیسے کسی دوسرے ملک میں صرف ایک واقعے کے رونما ہونے پر طوفان برپا کر دیتی ہیں۔ اگر تجارت، سفارتی تعلقات اور دوسری نا دیدہ سرگرمیوں کی بنا پر انسانی حقوق کی تنظیمیں اور ہیومن رائٹس آرگنائزیشنز کو چلانے والے ممالک بھارت کو انسانیت سوز واقعات پر کلین چٹ دیتے رہیں گے تو سنجو جیسی مزید نوجوانوں کی لاشیں جلنے کا اندیشہ ہے، کانپور میں رکشہ ڈرائیور کی کمسن بیٹی کو دیکھ کر دوسرے مزدور طبقہ کی بیٹیاں ڈر میں مبتلا ہیں، سلیم علی جیسے مزید کئی نوجوان بے روزگار ہونے کے درپے ہیں اور انہی واقعات کا تسلسل بھارت میں رہتے غریب طبقے اور اقلیتوں کے لئے زہر قاتل ہیں۔

Facebook Comments HS