ایک صفحے اور ایک عینک کی کہانی


کہانی تو بلی اور شیر کی سنانی تھی جس میں بلی شیر کو درخت پر چڑھنا نہیں سکھاتی لیکن سوال یہ آڑے آ گیا کہ شیر اگر جنگل کا بادشاہ ہے تو اسے تو ہر بات خود سے آنی چاہیے، وہ بلی کا مرہون منت کیوں ہو؟ چنانچہ سوچا کہ فی الحال ایک صفحے اور ایک عینک کی کہانی سنائی جائے۔

یہ صفحہ بلی اور شیر نے مل کر لکھا۔ اگر چہ اس کے لکھے جانے کے گواہ موجود نہیں، بس یک دم یہ کہہ دیا گیا کہ ایک صفحہ موجود ہے، اور چونکہ عوام میں سوال پوچھنے کا رواج نہیں لہذا کسی نے نہیں پوچھا کہ کس نے اس صفحے پر لکھا اور کیا لکھا، صفحہ کس سائز کا تھا اور تحریر کتنی لمبی؟ بس مان لیا گیا کہ صفحہ موجود ہے اور ایک ہی ہے۔ ویسے ہی جیسے شیر کو شیر مان لیا گیا، کوئی سوال اٹھائے بغیر۔

یہ شیر کا معاملہ بھی خوب ہے۔ دنیائے سائنس خواہ مخواہ اس غلط فہمی کا شکار ہے کہ کلوننگ کے نتیجہ میں ڈولی بھیڑ وہ پہلا جانور تھی جو انیس سو چھیانوے میں سکاٹ لینڈ میں ایک لیبارٹری میں بنایا گیا۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ کلوننگ سے شیر بنانے کا تجربہ کرہ ارض پر موجود ایک اور ریاست کے مقتدر ادارے انیس سو اسی کی دہائی میں ہی کامیابی سے کر چکے تھے۔ تاہم ایک مسئلہ جو ہر مرتبہ ان کلوننگ والے شیروں کے ساتھ پیش آتا وہ یہ تھا کہ کسی مقام پر آ کر یہ اپنے آپ کو واقعی شیر سمجھنا شروع کر دیتے۔

بار بار کے تجربے کی بنا پر بلی اس امکان سے خائف تھی۔ سو مشورہ کے لئے پوری کمان کی میٹنگ بلائی گئی۔ مسئلہ سامنے رکھا گیا کہ شیر کے واقعی اپنے آپ کو شیر سمجھنے یا وقت سے پہلے دھاڑنے کا سد باب کیسے کیا جائے؟ طے پایا کہ ایک ایسا معاہدہ کیا جائے کہ جس کے تحت طے ہو کہ کتنے وقت میں کن مراحل سے ہوتا ہوا شیر درخت پر چڑھ جائے گا۔ پوچھا گیا ”اس کا کیا ہو گا اگر یہ والا شیر واقعی درخت پر چڑھ گیا؟“ ، جواب ملا کہ یہ معاہدہ ایک صفحے پر لکھ لیا جائے۔ اور لکھنے کے لئے ٹیکنالوجی ایسی استعمال کی جائے کہ جس سے لکھا گیا صفحہ وقت آنے پر چھو منتر کے زیر اثر خالی ہو۔ نہ اس پر تحریر نظر آئے، نہ پڑھی جائے۔ مگر کیسے؟

ففتھ جنریشن وار کے ماہرین نے یہ تجویز کیا کہ اس مشترکہ صفحے کو ایسی روشنائی سے لکھا جائے جس میں شہد ملا ہو۔ شہد کی وجہ سے سیاہی سوکھتی نہیں لہذا یہ کہہ کر کہ شہد کو سکھانے کے لئے ہوا کی ضرورت ہے، ہم اسے باہر رکھ دیں گے۔ سب جانتے ہیں کہ باہر مکھیاں بھی ہوتی ہیں، تو مکھیاں شہد پر بھنبھنا کر آئیں گی اور شہد کے ساتھ سیاہی کو بھی چاٹ جائیں گی۔ پھر نہ رہے گی سیاہی اور نہ پڑھی جائے گی لکھائی۔

اگر مکھیاں نہ آئیں تو؟ سوال اٹھا۔ فورتھ جنریشن وار والوں نے کہا کہ مکھیاں لانا، انہیں صفحے پر بٹھانا اور ضرورت پڑنے پر اڑا دینا یہ ہمارا کام ہے۔ اس بات پر اتفاق ہو گیا اور یوں صفحے پر لکھائی دونوں طرف کا شہد ملا کر کی گئی۔ ابتدائی دنوں میں جب کہ لکھائی ابھی تازہ تھی اور پڑھی جا سکتی تھی، تو یہ رسک موجود تھا کہ شیر اسے پڑھ نہ لے۔ اس کا حل شیر نے خود ہی سمجھا دیا۔ اسے شیروانی کے اندر پہنی ہوئی قمیص کی جیب میں رکھی عینک کو نکالنے میں بہت دیر لگتی تھی۔ سمجھدار لوگوں نے بہت سی جیبوں والی بہت سی قمیضیں بنوا دیں اور ہر دفعہ مختلف جیب میں عینک رکھ دیتے۔ چنانچہ نہ عینک نکلی، نہ صفحہ پڑھا گیا۔

کچھ ہی دنوں میں جب صفحے کو خشک کرنے کا وقت آ گیا اور اسے باہر رکھ دیا گیا تو شیر کے خیر خواہوں نے بھانپ لیا اور بہت کہا کہ احتیاط کیجئے۔ وہ صفحہ جو آپ نے بلی کے ساتھ مل کر لکھا تھا اور صرف آپ ہی اس کے بارے میں جانتے ہیں، اسے تو باہر کھلے میں رکھ دیا گیا ہے اور اس پر مکھیاں بھنبھنا رہی ہیں۔ لیکن شیر نے کہا کہ مکھیوں سے اسے کوئی خطرہ نہیں۔ مکھیاں تو غلیظ ہوتی ہیں، گندگی پر بیٹھتی ہیں اور گندگی ہی پھیلاتی ہیں، ان کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ عوام کو بتا دیا جائے کہ وہ مکھیاں ہیں۔ پھر کوئی ان کا اعتبار نہیں کرے گا۔ چنانچہ شیر مکھیوں کو مکھیاں کہتا رہا اور مکھیاں بھنبھناتی رہیں، شہد چاٹتی رہیں۔

شہد کو انگریزی میں ہنی کہتے ہیں اور ہر اچھے وقت کو ہنی مون۔ اور کائنات کا طریقہ یہ ہے کہ ہر وقت کی طرح اچھے وقت کو بھی گزر ہی جانا ہوتا ہے۔ چنانچہ ہنی مون گزر گیا اور وہ وقت آ گیا جب سوال جواب شروع ہوئے۔ بلی اور شیر کا کیا معاہدہ ہوا تھا اور کس نے کیا کرنا تھا تاکہ شیر درخت پر چڑھ سکے، یہ جاننے کی نوبت آ گئی۔ یہ سب کچھ راوی کے مطابق ایک صفحے پر ہی تو لکھ رکھا تھا۔ جب صفحہ منگوا کر دیکھا گیا تو مکھیاں شہد چاٹ چکی تھیں اور ساتھ میں سیاہی بھی۔ صفحہ بالکل سپاٹ تھا اور اسے لکھنے والے چہرے بھی۔

ایک صفحے کی یہ کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی۔ آج کی تاریخ میں کہانی کا ایک اور صفحہ لکھا جا رہا ہے۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ صفحے کا ذکر تو سب کر رہے ہیں، کتاب کا خیال کسی کو بھی نہیں۔ صفحے کتاب میں ہوں تو ہی اپنا وجود رکھتے ہیں، کتاب سے باہر ان کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ یہ کتابیں ہیں، جو ترقی کا راستہ بتاتی ہیں۔ کامیابی کے نتیجے میں جن کے نئے ایڈیشن آیا کرتے ہیں۔ زیر نظر کتاب البتہ ایسی ہے کہ اس کا ایڈیشن تو کوئی نہیں آیا البتہ سن اکہتر میں دنیا کے نقشے سے یہ کتاب آدھی ڈیلیٹ ہو گئی تھی۔

یہ خستہ حال کتاب بار بار ہمیں یاد دلاتی ہے کہ صفحے کم ہوں یا زیادہ، کتابیں و ہی کامیاب ہوتی ہیں، جن کے اندر کی کہانیاں لازوال ہوں۔ اور کہانیاں لازوال تبھی بنتی ہیں، جب ان کے کردار اپنے آپ سے انصاف کریں۔ جس کہانی میں بلی شیر کو بتائے کہ شیر کیسا ہوتا ہے اور شیر اس پر یقین کر لے، اس کہانی کا انجام کبھی اچھا نہیں ہو سکتا۔ موجودہ کہانی کے لازوال بننے کے لئے شیر کو خود اپنے آپ پر یقین کرنا ہو گا، یہی واحد راستہ ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

ڈاکٹر زعیم الحق

ڈاکٹر زعیم الحق ایک میڈیکل ڈاکٹر ہیں اور اپنے شعبہ کے تکنیکی امور کے ساتھ ان انفرادی و اجتماعی عوامل پر بھی نظر رکھتے ہیں جو ہماری صحت یا بیماری کا باعث بنتے ہیں۔

dr-zaeem-ul-haq has 9 posts and counting.See all posts by dr-zaeem-ul-haq

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments