ایک طویل عشق کا المناک انجام


ہمارے عشق کا دورانیہ کم و بیش پینتیس سال ہے اس لیے اس کی حکایت بھی کچھ طویل ہو گی۔ ہمیں بچپن ہی سے کرکٹ کا جنون تھا۔ چھٹی کا سارا دن کرکٹ کھیلتے گزرتا۔ بچپن میں کہیں سے سن لیا کہ قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان کا تعلق ہمارے ضلع میانوالی سے ہے۔ ایک طرف کھیل سے محبت تو دوسری طرف کپتان سے عشق ہمارا اوڑھنا بچھونا بن گیا۔

ہم پاکستان کے دورہ آسٹریلیا انیس سو چھیاسی ستاسی کے میچ تو بوجوہ ٹی وی پر نہ دیکھ سکے لیکن فروری انیس سو ستاسی میں پنجم جماعت کے امتحان سے فارغ ہوئے تو ٹیلی ویژن کے سامنے کرسی ڈالی اور بنگلور ٹیسٹ کی جیت پر اس کرسی سے اٹھے۔ پی ٹی وی نے مگر یہ زیادتی کی کہ ون ڈے سیریز براہ راست نہ دکھائی لہٰذا ان میچوں پر ریڈیو سے رواں تبصرہ سنا تھا۔ اس کے بعد ایسا کبھی نہ ہوا کہ ہمیں پی ٹی وی پر لائیو میچ دیکھنے یا اپنے محبوب کو کسی ٹی وی شو میں دیکھنے، کسی اخبار یا رسالے میں ان کے خیالات پڑھنے کا موقع ملا ہو اور ہم نے اس سے فائدہ نہ اٹھایا ہو۔

یہ سلسلہ جاری رہا کہ انیس سو بانوے کا مشہور زمانہ ورلڈ کپ آ گیا۔ عین ورلڈ کپ کے دنوں میں ہمارے میٹرک کے سالانہ امتحانات ہو رہے تھے۔ ہم پر تو گویا میچ دیکھنا فرض تھا نہ کہ امتحانات کی تیاری۔ میٹرک کا آخری پیپر چھبیس مارچ کو تھا اور ورلڈ کپ فائنل پچیس کو۔ لہٰذا ہم نے سارا دن میچ ہی دیکھا۔ پھر جیت کے نشے اور خوشی میں رات کو بھی پرچے کی تیاری کے لیے دل نہ کرتا تھا۔ اسی لیے تو صبح کے پیپر میں سرگودھا بورڈ نے سٹار لگا کر رعایتی نمبروں سے ہمیں پاس کر دیا تھا۔

میٹرک کے بعد ہم کرکٹ، کھیتی باڑی اور مویشی پالنے میں جت گئے۔ انیس سو چورانوے کے موسم گرما کی ایک شام میرے محبوب کا پی ٹی وی پر انٹرویو تھا۔ ان دنوں ہمارے ذمہ گھر سے تین چار کلومیٹر دور واقع آبائی زمین سے مویشیوں کا چارہ کاٹ کے لانا بھی تھا۔ ہم نے اس خوف سے جون کے مہینے میں سہ پہر چار بجے (دراصل دوپہر ) گدھا گاڑی جوتی اور چارہ کاٹنے چل دیے کہ اگر دیر ہو گئی تو شام کو محبوب کی زیارت و سماعت سے محروم ہو جائیں گے۔

نومبر انیس سو چورانوے کا ایک دن تو گویا عید کا دن تھا جب میرے محبوب نے ہمیں چندہ مہم کے دوران گرلز کالج میانوالی سے نکلتے وقت سرخ رنگ کی لینڈ کروزر میں بیٹھتے ہوئے شرف مصافحہ، شرف زیارت اور شرف قبولیت چندہ بخشا تھا۔ اس دن نا صرف ہم نے اپنی جیب سے چندہ دیا تھا بلکہ اپنے کھاتے پیتے رشتہ داروں سے بھی چندے کا انتظام کیا تھا۔ وہ دن ہماری زندگی کا اس وقت تک حسین ترین دن تھا۔ گاہے ہم اپنے نصیبوں پر رشک کرتے اور گاہے اس وہم میں پڑ جاتے کہ کہیں یہ گھڑیاں خواب یا سراب تو نہ تھیں۔ یہ کیفیت ہم پر کم و بیش ایک ہفتہ طاری رہی۔

میٹرک کے کم و بیش چار سال بعد جنوری انیس سو چھیانوے میں کسی رد عمل کی بنا پر ہم نے ایف اے کا پرائیویٹ امتحانی فارم جمع کرا دیا اور حسن اتفاق دیکھیے کہ اب کی بار پھر امتحانات سے چند دن پہلے تک ورلڈ کپ جاری رہا۔ وہ تو برا ہو اجے جادیجہ کا جو ہمارے کوارٹر فائنل کی شکست کا سبب بنا ورنہ ایف اے میں تو ہم مکمل فیل ہی ہو جاتے۔ اس میچ کا سب سے خوبصورت لمحہ وہ تھا جب روی شاستری پچ رپورٹ کے لیے پچ پر موجود تھے اور انھوں نے اچانک اعلان کیا کہ آج ہمارے ساتھ موجود ہیں عمران خان۔

ابھی انھوں نے میرے محبوب کا نام نہ لیا تھا لیکن سچے عشق کی وجدانی طاقت نے ہمیں بتا دیا کہ شاستری کے ساتھ موجود شخص میرے محبوب ہوں گے۔ ادھر شاستری نے میرے محبوب کا نام لیا اور ادھر کیمرہ مین نے میرے محبوب کی طرف کیمرا پھیرا۔ میرے محبوب نے سفید رنگ کا قومی لباس زیب تن کیا ہوا تھا اور پیروں میں تلے کی کھیڑی تھی۔ اللہ اللہ! اس لمحے ہمارے دل کی کیا کیفیت تھی وہ الفاظ میں بیان نہیں کی جا سکتی۔

کرکٹ تو خیر ہمیں پھر بھی پیاری لگتی مگر انیس سو بانوے کے بعد اس میں محبوب کی عدم موجودگی بہت افسردہ کر دیتی۔ اس افسردگی میں اس وقت قدرے کمی آ جاتی جب کوئی مبصر دوران تبصرہ میرے محبوب کے تذکرے شروع کر دیتا۔ وہ لمحے بھی گویا غنیمت ہوتے جن میں ہمارا محبوب موضوع سخن ہوتا۔

ہمارے اوپر مگر اللہ کا یہ احسان ہوا کہ اس کمی کو میرے محبوب نے انیس سو ترانوے چورانوے میں شارجہ میں بطور مبصر شرکت کر کے پورا کر دیا۔ اسی ٹورنامنٹ کے دوران سگریٹ پیتی کسی انگریز خاتون تماشائی پر کیمرا گیا تو ساتھی مبصر نے میرے محبوب سے کہا کہ وہ سگریٹ پی رہی۔ میرے محبوب نے فرمایا کہ مجھے تمباکو نوشی سے نفرت ہے کیونکہ یہ کینسر کا سبب بنتی ہے اور میں کینسر کے خلاف لڑ رہا ہوں۔ ہم نے سبحان اللہ کہا اور اسی دن خود سے یہ عہد کر لیا کہ محبوب کے احترام میں ہم بھی زندگی بھر تمباکو نوشی نہیں کریں گے۔

ہمیں بچپن سے ہی سیاست میں دلچسپی تھی اور ہماری خواہش تھی کہ ہمارا محبوب بھی سیاست میں آ جائے مگر اپنے ہر انٹرویو میں میرا محبوب سیاست میں آنے کے سوالات پر ہمیں بے حد مایوس کر دیتا۔ بالآخر عید جیسے وہ لمحے بھی آ گئے جب میرے محبوب نے سیاست میں آنے کا فیصلہ کیا، اپنی پارٹی بنائی اور اس کا نام تحریک انصاف رکھا۔ پارٹی کا نام ہی ہمارے قلب و ذہن کو مطمئن و شاد کر دیتا اور ہم اپنے محبوب کو داد دیے بغیر نہ رہ سکتے کہ کس طرح ایک قابل حکیم کی طرح ہمارے محبوب نے پاکستان کے سب سے بڑے مرض یعنی نا انصافی کی درست تشخیص کی ہے۔

خوش بختی کی اس گھڑی کے کیا کہنے کہ جب انیس سو ستانوے کے انتخابات میں میرے محبوب نے دیگر حلقوں کے علاوہ ہمارے حلقے سے بھی الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا۔ اس الیکشن مہم میں ہم نے اپنے محبوب کی زیارت اور جلسے میں شرکت کے لیے کئی بار بیس بیس کلو میٹر کا سفر بھی کیا۔ ایک بار پانچ سات کلومیٹر کے پیدل سفر میں ہم کبھی بھاگ پڑتے اور جب تھک جاتے تو چلنا شروع ہو جاتے کہ پیچھے سے غیر ملکی پریس رپورٹرز کی ایک گاڑی رکی اور ان میں سے ایک انگریز خاتون نے ہم سے ہمارے محبوب کے جلسے کی جگہ کا پتا پوچھا۔

چونکہ عشق میں بندہ اپنا بھرم اور اپنی وضع داری کھو چکا ہوتا ہے اس لیے ہم نے موقع کو غنیمت جان کر ان خاتون کو کہا کہ ہم بھی وہیں جا رہے ؛ اگر آپ ہمیں بھی ساتھ لے لیں تو آپ کا کام بھی آسان ہو جائے گا اور ہمارا بھی۔ وہ خاتون مگر اپنے ’تخلیے‘ میں ہمیں شامل نہیں کرنا چاہتی تھیں اس لیے انھوں نے بھی ہماری طرح وضع داری ایک طرف رکھی اور فرمایا کہ آپ رستہ بتا دیں۔ ہم نے رستہ تو بتا دیا لیکن کچھ دن خود سے شرمندہ شرمندہ ضرور رہے۔

بہت بعد میں جب ہم نے ذاتی گاڑی استعمال کرنی شروع کی تو ہمیں پتا چلا کہ ’تخلیہ‘ کیا ہوتا۔ پہلے پتا ہوتا تو ہم کبھی اس شرمندگی سے دوچار نہ ہوتے جس سے لفٹ مانگ کر ہوئے تھے۔ اس دن کی خاص بات یہ ہوئی کہ ہم گھر پہنچے تو ٹی وی پر پاکستان، آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز کی سیریز کا کوئی میچ آسٹریلیا سے براہ راست دکھایا جا رہا تھا جس میں مبصرین ہمارے محبوب کو یاد کر رہے تھے۔ ہمارا سینا ایک بار پھر چوڑا ہو گیا کہ ادھر ہم جس محبوب کی بچشم خود زیارت کر کے آ رہے ادھر اس محبوب کے عالمی نشریاتی فورم پر تذکرے ہو رہے۔ بہر حال اس الیکشن میں ہمیں اپنے محبوب کی شکست کے دکھ کے ساتھ خوشی یہ ہوئی کہ ہمارا حلقہ میرے محبوب کا جان دار حلقہ قرار پایا۔

دو ہزار دو کے انتخابات میں تو صبح شام محبوب کی زیارت کا راستہ ہموار ہوا۔ دو ہزار دو تا دو ہزار آٹھ ہمارا محبوب ہمیں اپنے گاؤں میں ہر قابل ذکر فوتگی پر فاتحہ پڑھتے نظر آتا رہتا اور ہم اسے دیکھ کر شاد ہو جاتے۔ دو ہزار پانچ کے بلدیات اور ازاں بعد دو ہزار آٹھ میں ایک نجی تقریب میں ہمیں اپنے محبوب کی موجودگی میں سٹیج پر دو بار گفت گو کرنے کا موقع ملا اور ہر بار ہمارے محبوب نے ہمارا نام لے کر ہماری گفت گو کو سراہا اور اپنی گفت گو میں اس کے حوالے دیے۔

سونامی دو ہزار گیارہ، دو ہزار تیرہ کی انتخابی مہم، دو ہزار چودہ کا میراتھن دھرنا، دو ہزار اٹھارہ کی انتخابی مہم اور اس دوران مختلف سیاسی ٹاک شوز میں محبوب کی گفت گوؤں کی بنا پر ہم بھی لاکھوں پاکستانیوں کی طرح محبوب کو حقیقی نجات دہندہ سمجھنے لگے کہ اٹھارہ اگست دو ہزار اٹھارہ کا تاریخی دن آ گیا جب ہمارے محبوب نے پاکستان کے سب سے طاقت ور منصب کا حلف اٹھایا۔

منٹو کے افسانے ’نیا قانون‘ کے کردار منگو کوچوان کی طرح ہم بھی ’نئے پاکستان‘ کی سچ مچ امید لگائے بیٹھے تھے کہ ہمیں اپنے محبوب کی نو دن میں کرپشن ختم کرنے کی سبھی تقریریں ازبر تھیں۔ بات آگے بڑھی تو وزارتوں کی تقسیم پر ہم جھنجھلائے مگر شروع کے دنوں میں شک کا فائدہ اپنے محبوب کو ہی دیا۔ محکمہ جاتی اصلاحات کا انتظار کیا اور نئی قانون سازی کی امید رکھی۔ مگر یہ کیا؟ بد عنوانی کم ہونے کے بجائے بڑھنے لگی۔ رشوت کے نرخ اوپر اٹھے۔

محبوب سے عام سائل تو درکنار اپنے ضلع کے ممبران قومی و صوبائی اسمبلی کو ملاقات کے لیے ترلے کرتے دیکھا۔ حکومت کو آٹا، چینی، پٹرول، ادویات، سیمنٹ مافیاز کے سامنے بے بس پایا۔ ملک کو لوٹنے والوں (بقول میرے محبوب) کو ملک سے بھاگتے یا پھر ملک میں شاہانہ زندگی گزارتے دیکھا۔ پسند اور ضرورت کی قانون سازی پر ڈاکوؤں (بقول میرے محبوب) اور ’صالحین‘ کو ایک صفحے پر پایا۔ فوج کی تابع داری نہ کرنے بلکہ حقیقی وزیر اعظم ’فوج جس کے ماتحت ہوتی ہے ؛ بننے کا دعویٰ کرنے والے کو فوج کے سامنے ڈھیر ہوتے دیکھا۔

مارچ دو ہزار اٹھارہ میں سینٹ انتخابات کے وقت ووٹ بیچنے والے ممبران صوبائی اسمبلی کو پارٹی سے نکالنے والے بندے کو سینٹ چیئرمین عدم اعتماد کے وقت ووٹ بیچنے والوں کے خلاف‘ صوم مریم ’کا مظاہرہ کرتے دیکھا۔ فوج کے سربراہ اہ کو دوران جنگ تبدیل کرنے کے حق میں دلائل دینے والے کو فوج کے سربراہ کی مدت ملازمت میں توسیع کرتے دیکھا۔ دوبارہ اعتماد کے ووٹ کے وقت مخالفین پر ہر فاشسٹ ہتھکنڈہ اختیار کرتے دیکھا۔ ساڑھے تین سال تک چور ڈاکو کا چورن بیچنے والے کو اپنی کارکردگی پر بات نہ کرتے دیکھا۔

آئے روز اپوزیشن کو عدم اعتماد لانے کا چیلنج دینے والے کو اسمبلی سے مسلسل بھاگتے دیکھا۔ عدم اعتماد کے خالصتاً دستوری معاملے کو گلی کوچے کی لڑائی میں تبدیل کرتے دیکھا۔ یہ دیکھنے کے بعد کہ وہ اسمبلی میں اپنے ہی ممبران کا اعتماد کھو چکا ہے ؛ مسلسل ان کے ساتھ چھڑی اور گاجر کی پالیسی اختیار کرتے دیکھا۔ دنیا جہان کے ممالک میں اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرنے والے سیاستدانوں کو بطور ہیرو اور بطور مثال پیش کرنے والے کو اپنی کسی ناکامی پر استعفیٰ تو دور کی بات ذمہ داری قبول کرتے بھی نہ دیکھا۔

اپنے خلاف پانچ ہزار بندوں کے کھڑے ہونے پر غیرت کا ثبوت دیتے ہوئے مستعفی ہونے کا دعویٰ کرنے والے کو لاکھوں عوام کے جذبات سے آنکھیں چراتے یا ( بقول خود) غیرت نہ کرتے دیکھا۔ اسے دوہری شہریت والوں اور غیر منتخب لوگوں کے نرغے میں پایا۔ اقتدار کے تحفظ کی خاطر بار بار ڈاکوؤں اور قاتلوں (بقول میرے محبوب) کے در پر جھکتے دیکھا۔ آئین کی واضح ترین دفعات کی‘ تشریح ’کے لیے سپریم کورٹ کے پیچھے چھپنے کی ناکام کوشش کرتے دیکھا۔

ہر بلوے کے نتیجے میں وفات پانے والوں پر افسوس کرنے والے کو اپنے اوپر عدم اعتماد کرنے والے ممبران، ان کے بچوں، گھروں اور خاندانوں پر بلوے کراتے دیکھا۔ انسانوں کو چوہا اور گیدڑ کہتے دیکھا اور سنا۔ ملک کے اعلیٰ ترین منصب پر بیٹھ کر مخالفین کی نقلیں اتارتے دیکھا۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کو مزید بد عنوان ملک ہوتے دیکھا۔ ہرے پاسپورٹ کو دنیا میں مزید بے توقیر ہوتے دیکھا۔ کشمیر کے معاملے پر پیچھے ہٹتے اور مودی کا سہولت کار بنتے دیکھا۔

پرانے پروٹوکول کو نئی شان کے ساتھ اختیار کرتے دیکھا۔ جماعت کے ہر چھوٹے بڑے کارکن اور ممبر کو میرے محبوب کی تربیت کے عین مطابق مکالمے کے ہر فورم پر دلیل کے بجائے گالی کو بطور ہتھیار استعمال کرتے دیکھا۔ قومی ٹیلی ویژن پر کپتان کے تربیت یافتہ اور چہیتے معاونین سے اپنے ہی ممبران اسمبلی کو ننگی گالیاں کھاتے دیکھا۔ آپ کے آبائی حلقے میں آپ کے‘ کھلاڑیوں ’کو سوشل میڈیا پر اپنی ہی جماعت کے دوسرے‘ کھلاڑیوں ’کی ماؤں بہنوں کا بہت غلیظ القابات اور غلیظ ترین سابقوں لاحقوں کے ساتھ نام لیتے سنا۔

نا اہلی، بد انتظامی اور کرپشن کے الزام میں کسی وزیر کو ایک وزارت سے ہٹا کر دوسری وزارت پر لگاتے دیکھا۔ آپ کے مشہور زمانہ ستائیس مارچ کے جلسے کے لیے آپ کے آبائی حلقے کے ہر کرتا دھرتا کو سوشل میڈیا پر عام سے عام بندوں کو گاڑیوں کی پیشکشیں اور گاڑیاں فراہم کرتے دیکھا۔ ناپسندیدہ صحافیوں کے پروگراموں کو بند کرتے دیکھا۔ اختلاف رائے رکھنے والوں کے خلاف انتقامی کارروائیاں کرتے دیکھا۔ توانا مخالف آواز کے خلاف ہیروئن کے مقدمے بناتے دیکھا۔

الیکشن کمشن کی ہدایات کو جوتے کی نوک پر لیتے دیکھا۔ مہنگائی کی وجہ سے دو تین لاکھ تنخواہ کے باوجود اپنے گھر کا چولہا نہ جلنے اور مہنگائی کی وجہ سے غریبوں کے غم میں راتوں کو نیند نہ آنے کے بیان کے بعد اپنی سیاست کو مہنگائی سے لا تعلق ظاہر کرنے کا بیان دیتے دیکھا۔ دوسروں کو سٹے آرڈرز کے پیچھے چھپنے کے طعنے دینے، عدلیہ کے احترام کے دعوے کرنے والے کو فارن فنڈنگ کیس میں سٹے آرڈرز اور تاخیری حربوں کے پیچھے چھپتے دیکھا۔ الغرض کہاں تک سنو گے کہاں تک سناؤں!

میرے محبوب! اس وقت آپ کا ایک خالصتاً آئینی معاملے سے آنکھیں چرا کر بھاگنا بالکل اسی طرح ہے جس طرح لاعلاج مریض کے لواحقین اپنے مریض کو کبھی ایک درگاہ پر لے جاتے تو کبھی دوسرے آستانے پر۔ نوشتہ دیوار تو واضح ہے مگر آپ اس طرف دیکھنا ہی نہیں چاہتے۔ اپوزیشن کو تو لوگ چھوڑ کر جاتے ہی تھے مگر ایک حکومت سے اپنوں کا بھاگنا آپ کے انداز حکمرانی، معاملہ فہمی کی کمی اور نا اہلی کی طرف اشارہ  کرتا ہے مگر آپ ہیں کہ اس صورت حال کا درست تجزیہ کرنے اور اس سے مستقبل کے لیے سبق سیکھنے کے بجائے اسی روش میں مزید آگے بڑھنے پر مصر ہیں۔ گویا:

تند موجیں بڑھ رہی تھیں اور دیوانہ
مطمئن بیٹھا ہوا تھا ریت کی دیوار پر

میرے محبوب! ہم صرف ایک سوال پر اپنی بات کو ختم کریں گے کہ جن لوگوں نے علی الاعلان آپ پر عدم اعتماد کر دیا ’بالفرض وہ کسی‘ مجبوری ’کی بنا پر آپ کو اعتماد کا ووٹ دے بھی دیں تو کیا آپ کو ان کا ووٹ لیتے ہوئے شرم نہیں آئے گی؟

میرے محبوب! ان حالات کے پیش نظر بچپن سے محبت کے اس گناہ میں مبتلا شخص آج ڈھلتی جوانی میں یہ اعلان کرتا ہے :

ضبط ایسا صبا کہ اب وہ بھی
ہو مقابل تو جستجو نہ رہے

Facebook Comments HS

3 thoughts on “ایک طویل عشق کا المناک انجام

  • 29/03/2022 at 7:42 شام
    Permalink

    آپ کی تحریر عشق کی سچی داستان ہے۔ عشق میں اکثر ایسا ہی ہوتا ہے۔ عمران خان کو یہ تحریر پڑھنے چاہیے۔ ہم سب سبقت لے گیا ایک شاندار تحریر کو چھاپنے میں۔ قومی اخبارات کی زینت بننے کے لائق ہے یہ تحریر۔ ایک درستی کر دیں کہ انیس سو ستاسی کی پاک بھارت سیریز کے ون ڈے میچز پی ٹی وی نے براہ راست نشر کیے۔ سلیم ملک نے انڈین بولرز کے چھکے چھڑا دیے تھے۔

    • 31/03/2022 at 3:51 شام
      Permalink

      شکریہ بھائی

  • 05/04/2022 at 9:04 صبح
    Permalink

    اچھی تحریر ہے. امید ہے کہ آپ وقتاً فوقتاً اپنی ادبی و فکاہیہ تحریروں سے آبگینے چننے کے مواقع فراہم کرتے رہیں گے.

Comments are closed.