مذہبی کارڈ کا استعمال

یہ کوئی نئی بات نہیں کہ ریاستی، حکومتی یا سیاسی معاملات میں مذہبی کارڈ کا استعمال کیا جائے۔ ہمارے ہاں لوگ ذہنی اور عملی طور پر مذہبی سے زیادہ جنونی ہیں۔ اور گزشتہ چالیس سالوں سے جس طرح مذہب کو عالمی اور مقامی طاقتوں نے سیاست میں غلط اور اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا اور اس کے خلاف آواز اٹھانے والوں اور مزاحمت کرنے والوں کو جس طرح فتووں سے نوازا گیا اس کا انجام کار ایسا ہی ہونا تھا۔ ہم نے نصاب سے لے کر حساب کتاب کو اپنے ہی مقاصد کی خاطر اپنے ہی تعبیرات و شریحات کی رنگ میں رنگ لیا ہے۔
جو جس کا ہے یا جن کی راہ یا راز و نیاز میں ہے وہ درست باقی ملحد یا گم راہ۔ ہر الیکشن میں انتخابی نشان کتاب کا کیا مقصد لیا گیا ہے، کیا مسجدوں مدرسوں تبلیغی مراکز میں انتخابی نشان کتاب کو جمہوری عمل میں مقدس شکل میں پیش نہیں کیا گیا؟ کیا کتاب کو اسلام اور اسلام آباد تک کی رسائی میں مقدس انداز میں پیش نہیں کیا گیا۔ کیا چالیس سالہ جہاد کو خود فضل الرحمان صاحب نے فساد نہیں کہا؟ کیا پرویز مشرف نے اقرار نہیں کیا کہ ہم نے روس کی مدد کی؟
کیا روس کافر نہیں تھا۔ کیا اب روس چند نام نہاد مذہبی سکالرز کی نظروں میں مشرف با اسلام نہیں ہوا ہے۔ جو بندہ ایاک نعبدو و وایاک نستعین سے اپنی سیاست اور سیاسی تقریر کی ابتدا اور شروعات کریں اور انتہا مزار پر سجدے سے کریں اور آخر میں ہر تقریب میں تسیح ہاتھ میں لئے نظر آئے اور اندر اندر نہ لا الہ الاللہ اور خاتم النبیّین درست طور پر پڑھ سکتا ہو اس سے زیادہ مذہب کا استعمال اور کیا ہو سکتا ہے۔ جب حکومت اور ریاست کو مفتی جمیل صاحب کی سیاسی دعاؤں اور رونے دھونے کی ظاہرہ روحانی اور مذہبی لرزہ خیزی کے طفیل ایمانداری کی سرٹیفکیٹ لے کر اگے بڑھایا جائے تو اس سے زیادہ مذہب کا استعمال اور کیا ہو سکتا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارا سرکاری مذہب اسلام ہے لیکن اس کو مقتدر قوتیں سرکاری املاک اور سرکاری مال و دولت کی طرح ذاتی فوائد اور آسائش کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ ہم دکھاوے کے اتنے عادی ہو چکے ہیں کہ اگلے کو ہاتھ میں تسبیح، پگڑی۔ داڑھی، نقاب اور پوشاک سے متاثر کرنے کی کوشش کریں گے بھلے اندر سے ہم منافقت کا مجسمہ کیوں نہ ہوں۔ ہم پر جب کوئی بیماری یا آفت آتی ہے تو ہاتھ میں تسبیح اٹھاتے ہیں، کوئی بیمار ہوتا ہے تو تسبیح اٹھاتے ہیں، کوئی پولیس اٹھا کر لے جاتی ہے تو تسبیح اٹھاتے ہیں، کوئی کیس چل رہا ہو تو تسبیح اٹھاتے ہیں لیکن جوں ہی یہ عمل یا یہ مسئلہ ختم ہو جاتا ہے پھر سے وہی ہو جاتے ہیں جو ہم ہوتے ہیں۔
ہم ہر چیز میں سیاست کرتے ہیں اور سیاست میں منافقت یا ہر منافقت میں سیاست کرتے ہیں اب سیاست اور منافقت میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ اب سیاست اور منافقت کو الگ کرنا دشوار ہی نہیں نا ممکن ہے۔ اگر آپ کو منافقت، جھوٹ، فریب، دروغ گوئی، لوٹ مار کے طریقے غبن، بدمعاشی، مار دھاڑ، دھونس دھمکی، خوشامد گری اور چاپلوسی کے طریقے نہیں آتے آپ سیاست میں فیل ہیں لیکن اگر آپ کو یہ سب کچھ آتا ہے تو آپ سیاست میں پاس ہیں۔
اب سیاست میں کوئی شریف بندہ نہیں آ سکتا ہاں البتہ نام کا شریف آ سکتا ہے۔ کام کا شریف اس میدان کار زار میں کسی کام کا نہیں۔ سیاست خدمت کا نام ہے اور خدمت میں پیسہ لگایا جاتا ہے کمایا نہیں لیکن کیا ادھر ایسا ہوتا ہے؟ خدمت میں لوگ ایک سے دو ، دو سے چار، چار سے اٹھ ہوتے جاتے ہیں اور ایک دوسرے کے ہاتھ بٹاتے جاتے ہیں ہاتھ ہٹائے نہیں جاتے۔ خدمت میں ایک دوسرے کو ساتھ ملائے جاتے ہیں ہٹائے نہیں جاتے کیونکہ خدمت میں ذاتی مفاد نہیں ہوتے لیکن یہاں سب الٹ ہو رہا ہے کیونکہ یہاں خدمت کے نام پر کاروبار ہو رہا ہے اس لئے آٹھ سے چھ، چھ سے چار، چار سے دو اور دو سے ایک ہونے جا رہے ہیں تاکہ ذاتی فوائد زیادہ سے زیادہ حاصل کیے جائے۔
کیا ہم مسجدوں، مزارات اور خیراتی اداروں کو مذہب کے نام پر استعمال نہیں کرتے؟ اور اب عملی طور پر ہر ماہ رمضان میں ہم دیکھیں گے کہ کس طرح ان اداروں کو استعمال کیا جاتا ہے۔ جو بندہ مذہب کے کارڈ کو استعمال کرنا جان گیا وہ اس قوم کو استعمال کرنا جان گیا۔ ہم اندرونی طور پر اتنے کمزور واقع ہوئے ہیں کہ گھنٹوں گھنٹوں جھاڑ پھونک والوں کے لئے قطاروں میں کھڑے رہتے ہیں اور وہ ہماری روحانی علاج کے معالج بن بیٹھے ہیں۔
ہر کوئی ایک بوتل دم کیے ہوئے پانی اور ایک کاغذ پر زعفران سے لکھے ہوئے طشت پر اکتفا کیے ہوئے ہے ہر کوئی تعویذ کو تفویض ہوا ہے۔ تو ایسے میں اگر عمران خان یہ جان گیا ہو کہ اس قوم کو مذہب کے نام ہر بہت اچھے طریقے سے استعمال کیا جا سکتا ہے تو کون سی نئی بات ہے۔ اوروں نے بھی تو استعمال کیا ہے، فضل الرحمان بھی تو مدرسوں کے لوگوں کو استعمال کر رہا ہے وہ بھی تو مذہب کا نام یا اسلام کا نام لے کر اسلام آباد تک پہنچنے کی کوشش کر رہا ہے تو وہ کیوں نہ کریں۔
بے نظیر جیسی روشن خیال سیاسی خانوادے کی دختر نیک اختر نے وزیر اعظم بننے کے بعد چادر اوڑھ کر اور ہاتھ میں تسبیح لے کر ان عوام پر دو بار حکومت کی ہیں، وہ بھی تو مذہبی تھی۔ امام ضامن باندھتی تھی اور بابوں کے پاس دعاؤں اور حاجت روائی کے لئے جاتی تھی۔ نواز شریف نے بھی ایک بار امیرالمؤمنین بننے کی کوشش کی تھی۔ امر بالمعروف کا نعرہ لے کر عمران خان پھر سے زندہ ہو گا اور یہ قوم ان کی گزشتہ مہنگائی، لوٹ کھسوٹ، اقرباپروری، غیر جمہوری ہتھکنڈے اور عیاشیاں بھول جائے گی۔
اب آخری معرکہ اسلام کے نام پر اسلام آباد میں سیاسی جنگ کی ہے دیکھتے ہیں کامیابی کن کو نصیب ہوتی ہیں۔ اب تو تئیس مارچ کو آرمی چیف بھی عوام میں گھلنے ملنے کی ریہرسل کر چکے ہیں دیکھتے ہیں وہ اس لڑائی میں کس طرف کو ہوتے ہیں یا پھر خاک بدہن خود اس لڑائی کو ہاتھ میں لیں تاکہ اسلام کے نام پر اسلام آباد کی رسائی کے اس مقدس جنگ کو راولپنڈی اور دامن کوہ کے پرفضا مقام میں اپنی ہی سرکردگی میں نقطہ انجماد میں لاکر منجمد کر سکیں۔ اور میرے عزیز ہم وطنو کی تقریر سے ایک نئے مذہبی سیاسی السلام علیکم کے اسلامی نعرے کا آغاز کریں۔

