شینا زبان پر ڈکشنریاں۔ منفرد کاوشیں


اسلام آباد میں قیام کے دوران کچھ منتخب تقریبات میں جانے اور بل المشافہ ملاقاتوں کا اتفاق ہوا جو زیادہ تر کلچر اور ہسٹری سے متعلق تھیں۔ ان میں سے تین کا تذکرہ خاص ہے کیوں کہ تینوں کا تعلق گلگت بلتستان کی زبانوں سے ہے۔ فورم فار لینگویج انیشٹیوز ( FLI) کا ادارہ کافی عرصے سے گلگت بلتستان اور چترال میں بولی جانے والی تمام چھوٹی بڑی بے زبانوں اور ان کے مختلف لہجوں پر ریسرچ، متعلقہ کیمونٹیز کی تربیت اور تحفظ کے لئے کام کر رہا ہے۔

اس ضمن میں درجنوں نوجوان سکالرز اور محقیقن کو زبان و بیان کے حوالے سے خصوصی تکنیکی معاونت اور تربیت فراہم کی گئی ہے نیز دو درجن سے زائد کتابیں ان زبانوں کے الفاظ و مخارج لوک کہانیاں اور الفاظ کے باہمی تقابلی جائزہ کے حوالے سے شائع کی ہیں۔ فخرالدین اخونزادہ نہایت حلیم اور محبت کرنے والے انسان اس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہے جبکہ محمد زمان ساگر، امیر حیدر، ۔ نسیم حیدر جیسے مستند اور نوجوان سکالرز اس ادارے کے دست و بازو ہیں۔

کچھ عرصہ پہلے اس ادارے نے گلگتی شنا اور کوہستانی شنا کا تقابلی جائزہ ”شینا گلتی اور شینا کوہستانی زبان کے تقابلی الفاظ و مصادر“ کے نام سے چھاپا ہے۔ اس کام کا بیڑا جناب رازول کوہستانی اور محمد امین ضیا نے اٹھایا اور یہ شاید بتانے کی ضرورت نہیں کہ دونوں کس پائے کے محقق ہیں بلکہ یہ کہنا بہتر ہو گا اب تو ادارہ کی حیثیت اختیار کر گئے ہیں۔ کچھ دن پہلے FLI آفس اسلام آباد گیا تو محمد زمان ساگر سے مختلف موضوعات پر گفت و شنید ہوئی اور انھوں نے ازراہ کرم ادارے کی تازہ ترین شائع کردہ تقابلی لغت تحفہ کر دی۔ کتاب کا انتساب جارج بڈرس، گراہم بیلے، ڈاکٹر لیلا شمٹ، کارلا ایف روڈلاف اور ڈاکٹر شجاع ناموس کے نام کیا گیا ہے۔ یہ ان محققین میں سر فہرست ہیں جنہیں نے شینا زبان کی تحقیق و ترویج کے لئے گراں قدر کا کیا ہے۔

زبیر توروالی نے بہت ہی محققانہ تقریظ لکھ دیا ہے جبکہ فخرالدین اخونزادہ نے بطور مہتمم ادارہ اس اشاعت کی اہمیت اور ضرورت پر روشنی ڈالی ہے۔ اس 270 صفحات پر مشتمل تقابلی جائزہ میں جہاں گلگتی شینا اور کوہستانی شینا پر کام کیا گیا ہے وہیں پر شینا زبان کا دوسری زبانوں کے ساتھ لغوی اشتراک کا کھوج لگانے کی کوشش کی گئی ہے جن میں سنسکرت، اوستا، ہندی، کشمیری، فارسی، سندھی اور دیگر داردک زبانیں اور لہجے شامل ہیں۔ یہ کام تکنیکی اعتبار سے بلند معیار اور ریفرنس کا درجہ حاصل کر گیا ہے ساتھ ساتھ شینا زبان پر مزید ریسرچ کرنے والوں کے لئے ناگزیر بنیادی حوالہ بھی بن گیا ہے۔

دوسری تقریب قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں ہوئی اور اس کا اہتمام پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس ( PIDE) کے کانفرنس روم میں کیا گیا تھا اور عنوان تھا ”تقریب رونمائی۔ تاج اللغات“ اور میر محفل تھے عبد الخالق تاج صاحب۔ اٹھارہ فروری کو دوپہر کے وقت ملیوڈی مارکیٹ میں مشہور لکھاری علی احمد جان سے ملاقات ہوئی اور انہوں نے یاد دلایا کہ دو بجے کے قریب یونیورسٹی میں تاج صاحب کی شینا ڈکشنری جو کچھ دن پہلے منصہ شہود پر آ گئی تھی کی تقریب رونمائی ہے۔

علی احمد جان کی گاڑی میں سیدھے PIDE پہنچے تو تقریب شروع نہیں ہوئی تھی تاہم مہمانوں کی آمد جاری تھی۔ عبد الخالق تاج گلگت بلتستان کے کہنہ مشق شاعر اور ادیب ہیں۔ ان کی شاعری کا خاص طرہ امتیاز یہ ہے کہ وہ گلگت بلتستان میں مذہبی انتہا پسندی اور فقہی اختلاف پر سیاست کرنے والوں پر کھل کر چوٹ کرنے سے کبھی نہیں گھبراتے۔ شاعری تو ان کی پہچان ہے ہی لیکن شینا زبان کی املا اور تحفظ کے لئے بھی سرگرم عمل ہیں۔ پہلے شینا قاعدہ پر کام کیا اور اب تاج اللغات کے نام سے شینا ڈکشنری منظر عام پر لے آئے ہیں۔

متذکرہ تقریب کی صدارت پروفیسر مہر داد صاحب نے کی جب کہ رازول کوہستانی، بریگیڈیئر مسعود احمد خان اور علی احمد جان سٹیج پر متمکن تھے۔ تقریب کی کارروائی عامر حسین نے بہتر انداز میں آگے بڑھایا۔ پروفیسر مہر داد صاحب اس وقت عمر کے لحاظ سے اسی کے پیٹے میں ہیں اور ماشاءاللہ بہت صحت مند اور چاق و چوبند نظر آئے۔ گلگت بلتستان میں تعلیم کے فروغ میں بطور استاد اور بعد ازاں سیکرٹری ایجوکیشن ان کا کلیدی کردار رہا ہے۔ گلگت بلتستان کے ہر ضلع اور گاؤں میں ان کے شاگردوں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔

جناب رازول کوہستانی، علی احمد جان، عزیز علی داد اور امیر حیدر نے مقالے پڑھے جب کہ ظفر وقار تاج اور بریگیڈیئر مسعود احمد خان نے شرکاء کا شکریہ ادا کیا کہ وہ تاج صاحب کی حوصلہ افزائی کے لئے بڑی تعداد میں آئے۔ قائد اعظم یونیورسٹی کی شعبہ لسانیات کی چیر پرسن نے ملک کی چھوٹی زبانوں کی تحفظ اور بروقت ڈاکومنٹیشن کو نہایت ناگزیر قرار دیا اور اپنے ادارے کی جانب سے مکمل تعاون کا عندیہ دیا۔

چار سو زائد صفحات پر مشتمل اس ڈکشنری میں تاج صاحب کے مطابق مستعار لئے گئے یا دیگر زبانوں سے در آئے الفاظ شامل نہیں کیے ہیں۔ علاوہ ازیں ان کا کہنا ہے کہ ذخیرہ الفاظ کو متفقہ شنا حروف تہجی کو بنیاد بنا کر مرتب کیا گیا ہے۔

تیسری کاوش شنا زبان کی ڈکشنری کے حوالے سے جناب رازول کوہستانی کی ہے۔ گندھارا ہندکو اکیڈمی پشاور نے رازول صاحب کی چالیس سالہ محنت کو تین جلدوں میں ”کوہستانی شینا۔ اردو لغت“ کے نام سے چھاپا ہے۔ رازول صاحب انتہائی نفیس، حلیم طبع اور تحقیق و جستجو میں لپٹے انسان ہیں۔ وہ سطحی طور پر کام کرنے کے قائل نہیں بلکہ وہ زبان و بیاں کو تکنیکی اور فنی لحاظ سے پرکھنے کے عادی ہیں۔ کوہستان میں بسنے والے دارد لوگوں کی تہذیب، زبان اور سماجیات پر ان کی گہری نظر ہے اور اس ضمن میں ان کی متعدد کتابیں چھپ چکی ہیں علاوہ ازیں غیر ملکی محققین کے ساتھ بھی مشترکہ طور پر کام کر چکے ہیں۔ ہماری خوش قسمتی کہ ان کی نیاز مندی حاصل ہے اور جب بھی اسلام آباد آنا ہوتا ہے ان سے ضرور نشتیں رہتی ہیں۔

اس ڈکشنری کی خاص بات یہ ہے کہ اس کی تدوین و ترتیب میں چالیس سال کا عرصہ لگا ہے دوسری جانب اس کی انفرادیت اس حوالے سے بھی زیادہ ہے کہ یہ ایک تن و تنہا شخص کی محنت شاقہ ہے ورنہ تو اس طرح کے کام کے لئے ایک پورا بورڈ بھی کم پڑتا ہے۔

فنی اور لسانی حوالے سے اس کے معیار کی ضمانت اس لئے دی جا سکتی ہے کہ رازول صاحب نے طویل عرصہ شینا زبان پر تحقیق کرنے میں صرف کیا ہے۔ اس ضمن میں ملکی سطح کے ماہرین کے علاوہ انھوں نے بین الاقوامی سطح کے ماہرین لسانیات و سماجی علوم سے۔ ہی خاطر خواہ فیض اٹھایا ہے۔ وہ ناروے، برطانیہ، جرمنی اور نیپال بھی گئے ہیں۔ ان کی ڈاکٹر رتھ لیلا شمٹ کے ساتھ دس سال سے زائد عرصے تک عملی رفاقت رہی اور اس طرح زبان و بیان اور تاریخ کے نئے گوشوں سے متعارف ہوئے یہی وجہ ہے کہ ڈکشنری ان کے نام منسوب کی گئی ہے۔ کئی ملکی اور بین الاقوامی جریدوں میں ان کے تحقیقی مقالے شائع ہونے اور داد پائی۔ غرض اس کالم کی چند سطروں میں ان کی محققانہ اور فکری زندگی کو بیان کرنا ممکن نہیں۔

جہاں تک ڈکشنری کی بات کی جائے تو یہ ایک بیش بہا خزانہ ہے اور صاحبان علم کے کے لئے گنجینہ اسرار۔

ستر ہزار سے زائد الفاظ، محاورے، ضرب الامثال اور مقولے شامل کیے گئے ہیں۔ اس میں صرف کوہستانی شینا کی اردو میں معنی و مفہوم نہیں دی گئی ہے بلکہ اوستا، سنسکرت، یونانی، فارسی، ہندی کے علاوہ ایک درجن سے زائد داردک زبانوں کے ساتھ بھی موازنہ اور مشترکہ الفاظ پر کام کیا گیا ہے۔

ہیت کے لحاظ سے ڈکشنری کی ترتیب میں مستند اور مروجہ طریقے اور اصولوں کو اپنایا گیا ہے جس کے تحت شینا زبان کے لئے IPA کے تحت منظور شدہ صوتی اوزان اور املائی قواعد کو اپنایا گیا ہے۔

ان تمام خوبیوں کو چار چاند لگانے کے لیے گندھارا ہندکو اکیڈمی کے مہتمم محمد ضیاء الدین صاحب نے نہایت شاندار گیٹ اپ اور معیاری طباعت کے ساتھ اہل علم و دانش کے ذوق کی تسکین کے لیے پیش کیا ہے۔

Facebook Comments HS