کچھ کپتان کی الوداعی تقریر کے بارے میں


وزیراعظم پاکستان اور پی ٹی آٸی کے بڑ بولوں اور شیخی بگھارنے والوں نے پریڈ گراٶنڈ جلسے کے حوالے سے اس قدر تجسس پیدا کر لیا تھا کہ پی ٹی آٸی کے کارکنان واقعی یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ کپتان بہت بڑا اور تاریخی انکشاف کرنے والے ہیں۔ غیر جانبدار مبصرین نے جلسے کو کامیاب قرار دیا۔ شرکا کی تعداد تیس ہزار کے لگ بھگ تھی۔ پی ٹی آٸی کے کارکنان دور دور سے جلسے میں شرکت کرنے کے لیے آٸے یا لاٸے گٸے تھے۔ سرکاری اور حکومتی مشینری کا بے دریغ استعمال کیا گیا۔ حکومت نے جلسے کو کامیاب کرنے کے لیے تمام وساٸل جھونک دیے۔ پی ٹی آٸی کے کارکنوں کے ساتھ پوری قوم منتظر تھی کہ کپتان اپنی پٹاری سے انکشاف اور سرپراٸز کا کون سا سانپ نکالتے ہیں جو ان کی ڈولتی اور ہچکولے کھاتی حکومتی کشتی کو ڈوبنے سے بچا لے گا۔ مگر افسوس صد افسوس کہ کپتان کی تقریر جسے  بے مقصد سمع خراشی بلکہ یاوہ گوٸی اور ہرزہ سراٸی کہنا چاہیے، نے لوگوں کو بہت مایوس کیا۔
کپتان کی آج کی بے ربط اور بے مقصد شعلہ نواٸی ایک ہارے ہوٸے  شخص کا اعتراف شکست تھا۔ ایک ناکام جواری کی شکست خوردگی کا ماتم تھا۔ ان کی باڈی لینگوٸج حزن و یاس اور ملال و صدمے سے نڈھال تھی۔ ان کا چہرہ اترا ہوا تھا۔ چہرے پر دباٶ اور تناٶ واضح تھا۔ اس سے پہلے جب بھی وہ تقریر کرتے ان کے چہرے پر ایک مخصوص شوخی، بانکپن اور جوبن ہوتا تھا مگر آج چہرے پر مایوسی، درماندگی، پژمردگی اور سراسیمگی چھاٸی تھی۔ آواز میں پہلے جیسی گھن گرج، رعب و دبدبہ، اعتماد اور زور نہیں تھا۔ آج تو ان کی گالیوں اور الزام و دشنام میں بھی وہ طنطنہ، روانی اور تسلسل نہیں تھا۔ ان کی تقریر پہلے سے بھی زیادہ بے ربط، بے ہنگم اور بے کیف تھی۔ ان کے پاس کہنے کے لیے کوٸی نٸی بات بھی نہیں تھی۔ وہی گھسی پٹی باتیں، وہی فرسودہ اور بے ہودہ الزام، وہی گالم گلوچ وہی سب و شتم اور وہی بے بنیاد الزام تراشی کا سلسلہ تھا۔ ایک بات نٸی کرنے کی سعیٕ لاحاصل کی کہ  بھٹو کی طرح جیب سے کاغذ نکال کر فضا میں لہرایا اور امریکہ اور برطانیہ وغیرہ پر حکومت ختم کرنے کا الزام دھر دیا۔ مگر لوگ اب باشعور ہوچکے ہیں۔ اس طرح کی سازشی تھیوری پر یقین نہیں کرتے۔
حسب سابق کپتان نے مذہب کے سوٸے استعمال کی بھی نہایت بھونڈی کوشش کی مگر ہمیشہ کی طرح اس کوشش میں بھی بری طرح ناکام ہوٸے۔ مذہب کا چورن اب قصہٕ پارینہ بن چکا ہے۔ مذہب کے حوالے سے بھی  ان کا کل علم جغرافیے، تاریخ، موسمیات اور عمرانیات کی طرح نہایت ناقص، محدود اور بے ربط ہے۔ ان کی زبان سے یہی باتیں قوم اتنی بار سن چکی ہے کہ اب اکتاہٹ ہونے لگتی ہے۔ ان لوگوں کو گراں بہا انعام سے نوازنا چاہیے جو کپتان کی بسیار گوٸی اور لایعنی باتوں کو سننے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ ان کی اس طرح کے بے مغز خطابات کو سن کر راقم کو ہمیشہ ناصر کا ظمی کا یہ شعر یاد آتا ہے
ناصر ہم کو رات ملا تھا، تنہا اور اداس
وہی پرانی باتیں اس کی، وہی پرانا روگ
کپتان کے پاس دینے کے لیے صرف ایک ہی سرپراٸز تھا کہ وہ تھوڑی ہمت کرکے وزارت عظمٰی کے منصب سے استعفٰی دینے کا اعلان کرتے۔ شاید اسی طرح وہ اپنی بچی کچھی ساکھ بچانے میں کامیاب ٹھہرتے۔ کپتان کا روٸے سخن سارے کا سارا اسٹیبلشمنٹ کی طرف تھا۔ یوں سمجھیں کہ ملازمت کی درخواست تھی۔ اپنی حکومت کو بچانے کی آخری التجا تھی۔ امپاٸر کو اپنی مدد کے لیے پکارنے کی آخری کوشش تھی۔ کل تک کپتان جن  طاقتوں سے اپوزیشن کو ڈرایا کرتے تھے، آج ان طاقتوں کو اپوزیشن سے ڈرانے کی ناکام کوشش کررہے تھے۔ میں تو کپتان کی تقریر کو الوداعی تقریر کہوں گا۔ آپ کیا کہتے ہیں؟
Facebook Comments HS