عمران خان کے بعد کیا ہو گا؟
عمران خان ایک نا اہل حکمران ہی سہی مگر اس سے وابستہ لاکھوں کروڑوں افراد کی توقعات اور خواہشات کسی صورت ناجائز نہیں۔ ہم میں سے وہ بھلا کون ہے جس نے کرپشن اور بدانتظامی سے پاک ”نئے پاکستان“ کا خواب اپنی آنکھوں میں نہیں سجایا؟
پاکستان کے عوام کی تقدیر عمران خان سے پہلے بھی ابتر تھی، عمران خان کے رہتے بھی ابتر رہی، اور عمران خان کے جانے کے بعد بھی ابتر ہی رہے گی۔
البتہ اب یہ ہو گا کہ عمران خان کے بعد ہم ”نئے پاکستان“ کا خواب دیکھنے سے ڈریں گے۔ جب عمران خان چلا جائے گا، تب خواب دیکھے جانا بند ہو جائیں گے۔ عمران خان کے بعد ”تبدیلی“ اور ”احتساب“ جیسے وعدوں پہ کوئی آسانی سے اعتبار کرنے کو تیار نہیں ہو گا۔
دیکھنا یہ ہے کہ جس نسل نے عمران خان سے ”نئے پاکستان“ کی توقعات وابستہ کی تھیں، وہ اب کیا کرے گی؟ کیا وہ اپنے تجربہ سے کچھ سبق سیکھے گی؟ کیا اسے پاکستانی سیاست پہ قابض اس عفریت کی سطوت کا احساس ہو پائے گا جس کا شکوہ تمام سابق سویلین وزرائے اعظم کرتے رہے ہیں؟
کیا عمران خان نامی تجربہ کے بعد پاکستانیوں کی یہ نوجوان نسل اپنے ملک کی سیاسی تاریخ کو سنجیدگی سے سمجھنے کی طرف متوجہ ہوگی؟
عمران خان کا بطور وزیر اعظم اور سیاسی تجربہ ناکام ہوجانا پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک سانحہ ہے اور وطن عزیز کی تاریخ میں اس واقعے کو بطور سانحہ ہی یاد رکھا جائے گا۔
عمران خان کا ناکام ہوجانا، محض ایک فرد کی ناکامی نہیں ہے۔ اس فرد کے ساتھ وہ خواب چکنا چور ہوا ہے جو کروڑوں پاکستانیوں نے صدق دل سے دیکھا تھا۔
عمران خان کے بعد اس خواب کا کیا ہو گا؟ یہ ایک بہت اہم سوال ہے۔ سوچنے والی بات یہ بھی ہے کہ اس خواب کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے جس راستے کا انتخاب عمران نے کیا، کیا وہ راستہ درست تھا؟
آپ بھلے عمران خان کے ذاتی طور پہ سخت ترین ناقد ہوں مگر اس سے وابستہ کروڑوں پاکستانیوں کے خواب کو چکنا چور ہوتے دیکھنا بہرحال ایک تکلیف دہ امر ہے۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔
مگر، اب کیا ہو گا؟


