کپتان کے سرپرائز، ذوالفقار علی بھٹو اور عالمی سازش والا خط


سنو میرے چھ ہزار آٹھ سو کرسیوں پر بیٹھے ہوئے دس لاکھ نوجوانو مجھے یقین تھا کہ تم اپنے کپتان کا سرپرائز جاننے کے لیے ضرور آؤ گے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ تمہارے جذبات، سمجھنے بوجھنے کی صلاحیت، اور گالی گلوچ کی مہارت یہ سب میری اور شیخ رشید کی تربیت اور رہنمائی کا نتیجہ ہے۔ مجھے یقین تھا کہ تم آؤ گے کیونکہ تم وہ جانور نہیں ہو جو کہ نیا نیا نیوٹرل ہوا ہے اور نہ ہی وہ پنجاب کے سب بڑے ڈاکو ہو جو پی ٹی آئی کی مشین سے گزار کر ہم نے پاک کیا تھا لیکن اب پھر ناپاک ہو گیا ہے۔ تم جانتے ہو کہ کپتان نے تمہیں پچاس لاکھ گھر، ایک کروڑ نوکریاں اور نازک جگہوں کے کیڑے مارنے کی موثر دوائی دی ہے تاکہ تم ہر طرح کی خارش سے محفوظ رہو۔ وہ تو آپ کو یاد ہی ہو گا کہ پبلک ٹائلٹ صاف رکھنے کی ہدایت تو تبدیلی کے فوراً بعد میں نے اپنی پہلی تقریر ہی میں کر دی تھی۔ دیکھو میرے بے ہنر، بے روزگار اور کپتان کے سچے شیدائی نوجوانو میں آپ سب کو کچھ نئی باتیں بتانا چاہتا ہوں۔ یہ سب میں آج کے دن کے لیے رکھی تھیں تاکہ تمہیں سرپرائز دے سکوں۔ تو سنو۔

پہلا سرپرائز؛ میں کرکٹ کھیلتا تھا اور بہت زیادہ کھیلتا تھا۔ سارا دن کرکٹ کھیلتا رہتا تھا۔ میں گرمیاں یورپ میں گزارتا تھا اسی دوران میں یورپ کو یورپ سے زیادہ جان گیا۔ پہلے تو یورپ والے مجھے نہیں جانتے تھے لیکن اب مجھے شک پڑتا ہے کہ وہ بھی مجھے جان گئے ہیں۔

دوسرا سرپرائز؛ کرکٹ کے دوران ہی میں ورلڈ کپ بھی جیتا تھا۔ اور ایسا جیتا کہ پاکستانی قوم کبھی بھلا نہیں پائے گی۔

تیسرا سرپرائز؛ میری جوانی کی اکیس گرمیاں یورپ میں گزری ہیں۔ اس وقت میں اسلام کو اتنا نہیں جانتا تھا۔ پھر میں پاکستان آیا تو مجھے پتا چلا کہ سارا اسلام تو یورپ ہی میں ہے۔ میں نے دیکھا کہ یورپ نے بہت ترقی کی ہے اور وہاں پر زیادہ تر لوگ خوش اور پرامن زندگی گزارتے ہیں۔ مذہبی آزادی ہے۔ میڈیا آزاد ہے۔ ایک دوسرے کو گالیاں نہیں دیتے۔ جھوٹ بہت کم ہے اور اعتبار بہت زیادہ ہے۔ انہوں نے ریاست اور مذہب کو الگ کر دیا اور پر امن فلاحی ریاستیں بنا لیں۔

چوتھا سرپرائز؛ میں مغرب کی تقلید کا سخت مخالف ہوں۔ میں سیکولر ازم کو پسند نہیں کرتا کیونکہ مذہب بیچنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ اس لیے یہاں آ کر میں نے مذہب پر زور دیا۔ میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کو مزید اسلامی بنا رہا ہوں۔ امن اور ترقی تو ویسے بھی نہیں ہو رہی۔

پانچواں سرپرائز؛ اب چین بھی اسلامی ریاست بنتا جا رہا ہے۔ وہاں بھی غربت ختم ہوتی جا رہی ہے۔

چھٹا سرپرائز؛ چودہ سو سال پہلے مدینہ کی ریاست میں بہت انصاف تھا۔ میں بھی چاہتا تھا کہ ہم چین اور یورپ کا طرز عمل اپنائیں اور پاکستان میں انصاف لائیں۔ ہم کامیاب بھی ہو گئے تھے لیکن پھر ثاقب نثار کو ریٹائر ہونا پڑا۔ انہیں تاحیات چیف جسٹس بنا دیا جاتا تو انصاف کا بول بالا ہو جاتا اور ڈیم بونس میں چلتے رہتے۔ میرے نوجوانو ڈیم پر بہترین پک نک منائی جا سکتی ہے۔

ساتواں سرپرائز؛ اسلام میں غلاموں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

آٹھواں سرپرائز؛ انڈیا میں بیس کروڑ مسلمان رہتے ہیں اور انہوں نے بھی پاکستان کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ میں سوچتا ہوں کہ شکر ہے صرف ووٹ ہی دیا تھا خود بھی ساتھ نہیں آ گئے ورنہ ایم کیو ایم کسی کے قابو میں نہ آتی۔

نواں سرپرائز؛ عراق کی جنگ کے خلاف بیس لاکھ لوگوں نے لندن میں مظاہرہ کر کے امر بالمعروف کا ثبوت دیا تھا۔ یہ ہے اصلی اسلام جو سارے کا سارا یورپ لے گیا اور ہمارے پاس کچھ بچا ہی نہیں۔

دسواں سرپرائز؛ ہماری حکومت نے اتنی اچھی کارکردگی دکھائی ہے کہ سب لوگ خوشحال ہو گئے ہیں۔ لوگ اگر امیر نہ ہوتے تو اتنی مہنگائی کیسے برداشت کر سکتے تھے۔

گیارہواں سرپرائز؛ لوگوں کا پیسہ باہر پڑا ہے۔ پاکستان میں پہلے بہت کورپشن تھی اور میری حکومت نے کورپشن ختم کر دی ہے۔ ساری دنیا گواہ ہے۔

بارہواں سرپرائز؛ ہم نے کے پی میں ایک ارب درخت لگائے تھے اور اب ہم نے مزید دس ارب درخت لگا دیے ہیں۔ اس سال گرمی کم پڑے گی۔

تیرہواں سرپرائز؛ پاکستان کو دنیا کا ٹورسٹ سنٹر بنانا ہے۔ میں اب ٹورزم کو اٹھا دوں گا۔ پیسا لے کر آؤں گا اور روزگار بھی پیدا کروں گا۔ حیران نہ ہوں پاکستان میں بھی لوگوں ایک دفعہ پھر نوکریاں کرنے کا چانس مل سکتا ہے۔

چودہواں سرپرائز؛ تم سب پاکستانی اس وقت اللہ کا حکم مانو اور میرے ساتھ کھڑے ہو جاؤ۔ تم اپوزیشن کو پکڑو اور میرے وزیر ان پر خودکش حملے کریں گے۔

اور میرے نوجوانو اب میں ایک سنجیدہ بات کرنے لگا ہوں۔ یعنی اب تک تو لطیفے ہی چل رہے تھے۔

میرے ماں باپ ایک غلام آزاد ہندوستان میں پیدا ہوئے تھے لیکن انہوں نے مجھے بتایا کہ میں ایک آزاد ملک میں پیدا ہوا ہوں۔ میں نے ان کی بات غور سے سنی حالانکہ مجھے پتہ تھا کہ وہ جھوٹ بول رہے ہیں۔ سرپرائزز کا سلسلہ اختتام کو پہنچا اب میں تمہارے ساتھ ایک بات ذمہ داری سے کرنا چاہتا ہوں۔

میں اندر ہی اندر اپنے آپ کو ذوالفقار علی بھٹو محسوس کرنے لگا ہوں۔ اسی لیے اب میرے خلاف بھی عالمی سازش ہو رہی ہے۔ اس سلسلے میں جو سازش تیار کی گئی اس کی فوٹو کاپی جنات کے ذریعے مجھ تک پہنچ گئی ہے۔

اور میں وہ بندہ ہوں جو اپنے گھر میں رہتا ہوں۔ اپنا خرچہ خود اٹھاتا ہوں۔ جہانگیر ترین اور علیم خان تو ایک دھیلا بھی نہیں دیتے۔

اور ہاں ایک اہم بات کہ میرے نوجوانو تم ایک عظیم قوم ہو اور یہ کہ پاکستان میں بہت کورپشن ہے۔ ہندوستان اور بنگلہ دیش ہم سے آگے نکل چکے ہیں۔ اور میں پچیس سال سے ان کا مقابلہ کر رہا ہوں اور چودہ سال تو میں اکیلا تھا۔ وہ تو بھلا ہو جنرل شجاع پاشا کا کہ آپ لوگ میرے ساتھ مل گئے ہو۔

اور میں کرکٹ کا کپتان بنا تو ورلڈ کپ جیتا۔ ہندوستان کے خلاف تو میں بہت جیتا ہوں۔ اور واحد کیپٹن ہوں جو بہت جیتا ہوں۔ اور یہ کہ مجھے اللہ نے سب کچھ دے دیا تھا۔

آخری سرپرائز؛ مجھے پتہ ہے کہ تم لوگ بہت خوش ہو کہ میں نے تمہیں بلایا اور اتنے خوش کن سرپرائز دیے۔ اب تم سب ایک ایک کر کے میرے پاس آنا تو میں تمہیں اس خط کی فوٹو کاپی دکھاؤں گا جو بیرونی دنیا نے مجھے بھٹو سمجھ کر لکھا ہے۔

Facebook Comments HS

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 366 posts and counting.See all posts by salim-malik