عثمان بزدار نے استعفیٰ دے دیا، پرویز الہٰی وزیر اعلی ہوں گے : حکومتی وزرا
وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے وزیراعظم کو استعفیٰ دے دیا۔
معاون خصوصی وزیراعظم فرخ حبیب نے اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ فرخ حبیب کے مطابق چوہدری پرویز الہیٰ کو وزارت اعلیٰ دینے کا فیصلہ آنے کے بعد عثمان بزدار نے بطور وزیراعلیٰ اپنا استعفیٰ وزیراعظم کو پیش کر دیا ہے۔
فرخ حبیب نے کہا کہ ”چوہدری پرویز الہی کی وزیراعظم عمران خان کے ساتھ ملاقات۔ ملاقات میں تمام معاملات طے ہو گئے۔ ق لیگ کا وزیراعظم پر اعتماد کا اظہار اور حمایت کا اعلان۔ وزیراعلی عثمان بزدار نے اپنا استعفی وزیر اعظم کو پیش کر دیا۔ وزیراعظم عمران خان کا چوہدری پرویز الہی کو پنجاب کا وزیراعلی نامزد کرنے فیصلہ“
چوہدری پرویز الہی کی وزیراعظم عمران خان کیساتھ ملاقات۔
ملاقات میں تمام معاملات طے ہوگئے۔ق لیگ کا وزیراعظم پر اعتماد کا اظہاراورحمائیت کا اعلان۔وزیراعلی عثمان بزدار نے اپنا استعفی وزیر اعظم کو پیش کردیا
وزیراعظم عمران خان کا چوہدری پرویز الہی کو پنجاب کا وزیراعلی نامزد کرنےفیصلہ pic.twitter.com/h3G3wYwX8D— Farrukh Habib (@FarrukhHabibISF) March 28, 2022
اس سے قبل سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنی ٹویٹ میں معاون خصوصی وزیراعظم شہباز گل نے کہا ہے کہ ق لیگ نے وزیراعظم کی عدم اعتماد میں حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔
شہباز گل کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف پرویز الہی کی بطور امیدوار وزارت اعلی حمایت کرے گی۔
پاکستان تحریک انصاف چوہدری پرویز الہی کو وزیراعلی کے کینیڈیٹ کے طور پر سپورٹ کریں گے۔ ق لیگ نے وزیراعظم کی عدم اعتماد میں حمایت کا اعلان کر دیا
— Dr. Shahbaz GiLL (@SHABAZGIL) March 28, 2022
دوسری طرف ق لیگ سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر برائے ہاؤسنگ طارق بشیر چیمہ نے بھی استعفٰی دے دیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ انہوں نے یہ استعفیٰ چودھری شجاعت کی اجازت سے دیا۔ سما نیوز کے مطابق انہوں نے کہا ہے کہ وہ عمران خان کے خلاف ووٹ دیں گے۔
نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے چوہدری شجاعت سے ملاقات کے دوران ان سے گزارش کی کہ وہ وفاقی کابینہ سے استعفی دے رہے ہیں اور تحریک عدم اعتماد میں عمران خان کے خلاف ووٹ دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ’بعض اوقات کوئی چارہ نہیں رہتا ہم جیسوں کے پاس کے کہ ہم چپ چاپ کر کے بیٹھ جائیں۔ ‘
ان سے جب یہ سوال کیا گیا کہ کیا ان کا عمران خان کے خلاف ووٹ دینے کا فیصلہ حتمی ہے، تو اس پر ان کا کہنا تھا کہ ’ایک ہزار فیصد حتمی ہے۔ ‘


