عدم اعتماد: اتحادی جماعتوں میں پھوٹ، ق لیگ حکومت اور باپ اپوزیشن کے ساتھ
قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پیش ہوتے ہی سیاست میں یکلخت تیزی آ گئی ہے۔ اہم اتحادی پارٹیاں مسلم لیگ ق اور بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دینے کے میں ناکام رہی ہیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ فیصلہ کن لمحات میں وہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔
مسلم لیگ ق کی طرف سے وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ نے وزارت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ق لیگ کے قومی اسمبلی میں پانچ ممبرا ہیں جن میں سے دو اپوزیشن کے حق میں ووٹ دینے کی طرف مائل دکھائی دے رہے ہیں۔
دوسری طرف باپ کے پانچ میں سے چار اراکین اپوزیشن کے ساتھ ہیں جبکہ ایک رکن زبیدہ جلال نے حکومت کو ووٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ باپ اراکین نے اس فیصلے کا اعلان اپوزیشن رہنماؤں کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں کیا۔
متحدہ اپوزیشن کے قائدین کی اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران شہباز شریف نے کہا کہ بلوچستان کے چار ایم این ایز نے حکومت کے خلاف اپوزیشن کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم اس کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ان کی توقعات پر پورا اتریں گے۔
قومی اسمبلی اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا کہ ’قومی اسمبلی کے سپیکر ہوں یا ڈپٹی سپیکر ہوں وہ پاکستان تحریک انصاف کے کارکن کی طرح کام کر ہے ہیں۔ ‘ انہوں نے کہا کہ ’ہم ان مراحل سے گزر چکے ہیں اور اب سات دن کے اندر ووٹنگ ہونی ہی ہے۔ ‘
اس موقع پر صدر پیپلز پارٹی آصف زرداری کا کہنا تھا کہ آج کل عدم اعتماد کا موسم ہے، شہباز شریف کو جلد از جلد وزیراعظم بنائیں گے۔ آصف زرداری کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی مجھ پر مہربانی ہے، ہم بلوچستان سے منسٹر بھی لیں گے۔
بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما خالد مگسی کا کہنا تھا کہ ہمارے لیے اس وقت موقع ہے کہ اپوزیشن کی دعوت قبول کریں، بلوچستان مسلسل محرومیوں کا شکار ہے، سارے معاملات مشاورت کے ساتھ طے کیے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ نئے انداز میں ملک کو سنبھالا جائے، معاملات حل کیے جائیں، اٹکا کر نہ رکھا جائے۔
پریس کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے بی این پی سربراہ اخترمینگل کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے ہمیں نظر انداز کیا، ہمارے مسائل پر توجہ کے بجائے ہمارا مذاق اڑایا گیا، موجودہ حکومت نے ہمیں نظر انداز کیا ہے، موجودہ حکومت میں بلوچستان کے ایشوز کو پہلے دن اجاگر کیا، تمام ہتھکنڈے عدم اعتماد میں تاخیر کے لیے استعمال کیے گئے۔


