انتظار کی گھڑی


فراز ساحل کے ساتھ موجود سڑک پر معمولی انداز میں چلتا جا رہا تھا۔ اطراف سے گزرتے لوگوں پر اس کی نظر ٹھہرتی اور پھر اچانک وہ ان سے آگے نکل کر جلدی سے اپنی منزل کی جانب بڑھتا چلا جا رہا تھا۔ اس کی شوریدہ کیفیت سڑک پر موجود لوگوں کی توجہ کی مرکز تھی۔ ہر کوئی اس کو دیکھ رہا تھا کیوں کہ اس کی کبھی کم کبھی تیز رفتار منظرنامے پر احساس کو شدت فراہم کر رہی تھی۔ فراز کے بس میں نہیں تھا وگرنہ وہ ایک طویل پرواز کے سہارے سے اپنی منزل مقصود تک پہنچ جائے۔ آخر فراز کی منزل کیا تھی؟ وہ اپنے آپ کو اچانک سڑک پر چلتے ہوئے مخاطب بنا لیتا ہے۔

”جلدی سے کلاک ٹاور پہنچنا ہے، انتظار بہت دور سے اپنی عمیق خصوصیات کے ساتھ مجھ سے ملنے آتا ہے۔ تھوڑا تیز قدم بڑھاؤ۔ انتظار کے ساتھ وقت گزارنا زندگی کو لطف آمیز کر دیتا ہے۔ اگر تم نے دیر کردی تو یاد کرو انتظار کلاک ٹاور سے ایک دو بار اشتعال کے باعث چلا گیا تھا“

فراز ایک بائیک سوار کو ہاتھ کے اشارے سے روکتا ہے اور آواز دیتا ہے،
”بھائی ذرا جلدی سے کلاک ٹاور تک چھوڑ دیں، آپ کا متشکر رہوں گا، مجھے بہت دیر ہو گئی ہے“

موٹر سائیکل سوار کی زبان پر چند اشعار تھے اور وہ اشارے سے اقرار میں سر ہلاتا ہے۔ فراز پھرتی سے بائیک کی پچھلی جانب سوار ہوجاتا ہے۔ موٹر سائیکل سوار منزل کی جانب رفتار تیز کرتا ہے اور ساحل سے وابستہ سڑک پر انبوہ کا ذکر فراز سے کرتا ہے،

” آج ساحل پر ہجوم ریکھا آپ نے۔ سب خیریت ہے، آپ کلفت زدہ محسوس ہو رہے ہیں۔ اس اشتداد کی وجہ جان سکتا ہوں“

فراز: ”کلاک ٹاور اگے ہے، یہ ایک ریستوران ہے، وہاں میرا سب سے بڑھ کر قربت دار انتظار موجود ہے۔ مجھے جلدی اس ریستوران تک پہنچنا ہے۔ دیر سے پہنچنے پر ایک دو بار میں انتظار سے محروم ہو گیا تھا۔ انتظار ہمیشہ مجھ سے کلاک ٹاور میں ملنے آتا ہے اور ہم چائے پیتے ہیں“

موٹر سائیکل سوار بائیک کو بریک لگاتا ہے اور رفتار شکنی کے بعد کہتا ہے۔

” آپ کی منزل آ چکی ہے، کلاک ٹاور آپ کے سامنے ہے اور جیسا آپ نے کہا انتظار ادھر ہی ہو گا۔ اب شکریہ کی ادائی سے وقت کو ضائع کیے بغیر کلاک ٹاور میں داخل ہوجائیں“

فراز جذباتی انداز میں موٹر سائیکل سوار کو گلے لگاتا ہے اور اپنی منزل کلاک ٹاور کو دیکھتا ہے جس کی دیوار پر ایک گھڑی آویزاں تھی۔ اس کے نزدیک گھڑی کے اندر سوئیاں وقت کے گزرنے کی علامت ہیں۔ اچانک گھڑی رکی ہوئی محسوس ہوتی ہے اور فراز اضطراب کی ہتھکڑیوں میں خود کو جکڑا محسوس کرتا ہے۔ وہ خود کو ہلنے سے محروم دیکھ رہا ہے۔ اس کو اچانک سارا منظر تھما ہوا رکا ہوا، ساکن نظر آتا ہے۔ موٹر سائیکل سوار بائیک کے ہینڈل کو پکڑا ساکن، ساحل پر موجود آؤٹ ڈور ریستورانوں میں بیٹھے لوگ ساکن، کسی کے ہاتھ میں چمچہ منہ کی جانب رخ پر ساکن، گاڑی بان گاڑی کے ساتھ ساکن، گاڑیاں ساکن، دن ساکن، رات ساکن۔

فراز خود کو بھی ساکن محسوس کرتا ہے اور اپنے آپ کو مفلوج پاتا ہے۔ فراز کے پاس اب انتظار کے علاوہ اور کچھ نہیں تھا۔ ایک دم فراز کی ساکن آنکھیں کلاک ٹاور کو معمول پر آتے دیکھتی ہیں اور اس کی جان میں جان آجاتی ہے۔ فراز کلاک ٹاور میں داخل ہوتے ہی جلدی جلدی انتظار کو ڈھونڈتا ہے اور ایک ٹیبل پر جاکر اس سے بہ خوشی ملتا ہے۔ وہ وحشت کی حالت میں سپاٹے سے ٹیبل پر رکھے رومال سے چہرہ صاف کرتا ہے۔ اب فراز کو بڑا اطمینان تھا اور انتظار سے ملاقات کو وہ ہمیشہ کے لیے یادگار بنانا چاہتا ہے۔ فراز انتظار کو آب استادہ کی مانند اور خود کو بھی مفلوک الحال محسوس کر رہا ہے۔ فراز انتظار سے،

”طبعیت بوجھل ہے، آؤ چائے پیتے ہیں“
فراز کے پاس ویٹر آتا ہے
” سر شام کا وقت ہے کیا نوش فرمائیں گے“
فراز ”دو پیالی گرم چائے“
ویٹر نادانستگی سے کہتا ہے : ”ابھی ایک لا دیتا ہوں ایک بعد میں منگوا لیجیے گا“
فراز استحسان کو ملحوظ رکھتے ہوئے : ”ہمیں ذرا جلدی ہے آپ کا شکریہ“
چائے پیتے ہی فراز انتظار کے ساتھ کلاک ٹاور سے باہر آ جاتا ہے اور کہتا ہے،

” ایک واقعہ سنانا ہے جو میرے ساتھ اکثر پیش آ جاتا ہے، مجھے نہیں معلوم تم میرا یقین کرو گے یا نہیں، کیوں کہ میں نے صرف تم کو اکثر بطور حجت خاموش دیکھا ہے مگر احساس کی تم سے اچھی مثل میرے پاس کوئی نہیں“

فراز انتظار کو اپنا ساتھی سمجھتا اور اس کے جواب کا منتظر تھا
” فراز، تم مجھ ایک شاداب شخص ہو، میں سن رہا ہوں، خیالات کو دھر چھوڑو، بولو کیا محسوس کرتے ہو؟“

فراز : ”جب میں تمہارے پاس آ رہا تھا تو ایک حادثہ آج پھر دوبارہ پیش آیا، میری زندگی کا بنیادی سچ تم ہو“ انتظار ”۔ میں آدم شناس تو نہیں مگر تم سے میرا رشتہ قومیت، رنگ و نسل سے بالاتر ہے۔ جب میں آج کلاک ٹاور پہنچنے لگا تو کلاک ٹاور پر آویزاں گھڑی کو یک دم بے جان محسوس کیا۔ میں تمہارے نہ ہونے کو گھڑی کے رکتے ہی محسوس کرنے لگا۔ میں گھڑی، وقت، حالات سے ماورا“ انتظار ”تمہارا پابند ہوں۔ جیسے ہی کلاک ٹاور پر گھڑی نے دم توڑا میں ہر انسان ہر منظر کو تھما ہوا محسوس کرنے لگا۔

اس منظرنامے میں موجود بہت سے ایسے کردار تھے جن کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں مگر سب کے سب ساکن نظر آئے۔ یہ واقعہ میرے ساتھ کئی بار پیش آ چکا ہے اور میں واقعتاً تم کو غیر موجود پاتا ہوں کیوں کہ مجھے ایسا لگنے لگا ہے کہ ہماری ملاقاتیں کلاک ٹاور کی محتاج ہیں۔ کلاک ٹاور پر لگی گھڑی میرے تمہارے درمیان حجت بن گئی ہے۔ میں حجت کو بالائے طاق رکھ کر تم کو محتاج تصور کرتا ہوں۔ مجھے منظر نامے یا وقت سے کوئی دلی میلان نہیں مگر وقت کا بار بار گھڑی پر آتے ہی ساکن ہوجانا تم کو میرے احساسات سے باہر کر دینا چاہتا ہے۔“

فراز انتظار کی موجودگی کو حواس میں لاتے ہوئے اس کے جواب کا منتظر تھا

”فراز یہ کوئی غیر معمولی اشتداد نہیں۔ یہ تو میرے ساتھ بھی ہوتا ہے۔ میں جب بھی کلاک ٹاور تمہاری خوشی کے لیے ہوتا ہوں تو اس گھڑی نے مجھے بھی کئی صعوبت زدہ کیفیات ہبہ کیں۔ تمہیں معلوم ہے اس کلاک ٹاور کے باہر اکثر و بیشتر میں اس گھڑی کی رفتار کو اضطراب کا شکار دیکھتا ہوں۔ آج بھی گھڑی نے میرے سامنے آتے ہی اپنی رفتار اتنی تیز کی کہ مجھے لگا میں 200 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے منظر نامے کو محسوس کر رہا ہوں۔

ریستورانوں پر بیٹھے لوگ اس تیزی سے کھانا کھا رہے تھے جیسے ان کی زندگی میں غذائی قلت ہو۔ ایک شہیر گاڑی اور متوسط طبقے کے لیے خاص مہران مجھ کو بی ایم ڈبلیو محسوس ہوئی کیوں کہ میں نے سنا ہے اس میں ٹربو لگا ہوتا ہے۔ اڑتا کبوتر مجھ کو راکٹ سے تیز پرواز کرتا نظر آیا۔ ایک کاغذ کا زمین پر لہراتے ہوئے گرنا ایسا محسوس ہوا، جیسے کوئی اینٹ لہراتے ہوئے تیزی سے زمین پر گر رہی ہو۔ اس گھڑیال کی تیزی نے مجھ پر بڑا ستم ڈھایا۔

ستم یہ کہ جب میں نے کاغذ کو اینٹ کے مشابہہ دیکھا تو اس کے زمین کی طرف آتے وقت میں نے ایک شخص کو دھکا دے دیا تھا۔ مجھے لگا اس کاغذ کے اس شخص پر گرنے سے کہیں اس کی موت واقع نہ ہو جائے۔ مجھے انسان کی زندگی کی کوئی قیمت ہی نہیں لگی۔ میں اس وقت بھی انتظار ہوتا ہوں، میں نے لوگوں کو ایک دم حادثے میں مرتے دیکھا۔ ہاں اس گھڑی کی تیز رفتاری کے باعث مجھ کو سڑک پر ہوتی لڑائیاں اور شاخسانہ حرکات بہت جلد ختم ہوتے نظر آئیں۔ فراز مگر وقت کی اس شتابی میں تم کو ذرا لسرکا نہیں پایا۔ میں انتظار اور تم فراز، ایسا ڈر لگتا ہے تمہاری پرواز میرا ساتھ نہیں دے پائے گی۔ بعد پھر اس گھڑی کے معمول پر آتے ہی میں ہر احساس، معاملے کو حیرانی کا مرکز نہیں پاتا۔ تمہارا میرا اشتداد تو بالکل الٹ ہے۔

فراز : ”ہاں مگر تم میرے اقرب میں مجھے سب سے عزیز تر ہو۔ میری زندگی ایسا لگتا ہے تم ہی ہو۔ انتظار تم ہی تو میری طاقت ہو، میرا امکان ہو“

فراز کی نظر انتظار کے ساتھ پھر گھڑی پر جاتی ہے جو اچانک رک گئی تھی۔ فراز اپنے مطابق ہلنے کی کوشش کرتا ہے مگر نہیں، اس کے منہ میں الفاظ جمود میں تبدیل ہو گئے۔ فراز کو پھر ایک دفعہ مفلوج ہو جانے پر اپنی نظروں سے انتظار غیر میسر نظر آیا کیوں کہ اس کی نظروں کا ہدف گھڑی تھی اور گھڑی کے جمود سے سب کچھ پھر ساکن۔ فراز کو پھر لگا، وقت ساکن، شام ساکن، لوگ ساکن، چرند پرند ساکن اور ساتھ انتظار ساکن۔ گھڑی پھر عمومی رفتار پر آتی ہے اور فراز انتظار کو اپنی گرفت میں لاتا ہے۔

” انتظار تم نے دیکھا کیا ہوا، سب پھر رک گیا تھا۔ میں نہ چاہتے بھی وقت کے ہاتھوں گرفتار ہو گیا۔ اصل وقت تو رک جانے پر محسوس ہوتا ہے۔ شاید گھڑی کا رکنا ہی اصل وقت ہوتا ہے۔ وقت نے رک کر تمہاری موجودگی کا احساس ہی ختم کر دیا تھا۔ ایسا لگتا ہے ہمارا رشتہ چلتی گھڑی کا پابند ہے۔ کیا انتظار تم بھی اس وقت میری طرح ختم ہو گئے تھے؟“

انتظار: ”فراز جس لمحے تم خود کو ساکن اور جمود کا شکار بتا رہے ہو، اس وقت میں نے تو حرکات کا وفور پایا۔ میں نے تو گھڑی کی تیزی اور شدت محسوس کی۔ تمہارے لیے منظر نامہ ساکن تو میرے لیے تو بھاگنے کے مترادف تھا۔ فراز تم کو نہیں معلوم، میں اس وقت اتنی تیزی میں ہر انسان کو دیکھتا ہوں کہ ترس جاتا ہوں کسی کو چلتا دیکھنے کے لیے، ہر کوئی دوڑ میں، مقابلے میں مصروف نظر آتا ہے حتی کہ تم بھی۔ اس گھڑی پر وقت کے تیز ہوتے ہی میری ضرورت تمہاری زندگی سے ختم ہوجاتی ہے۔ تم اتنی تیز رفتاری سے بھاگ رہے ہوتے ہو کہ“ انتظار ”تم کو کیسے لگام دے کر اپنی اہمیت کا احساس دلائے۔“

فراز انتظار کی شوریدگی لیے اور خود بھی شوریدہ سری میں ایک گھر کی جانب جانے کا ارادہ کرتا ہے۔ وہ انتظار کو محسوس کرتے ہوئے گھڑی کو نظروں سے اوجھل کرتا ہے اور ایک رکشے میں بیٹھ کر شہر کے بہت قدیم علاقے کا رخ کرتا ہے۔ فراز رکشے والے کو معاوضے کی ادائی کرتے ہی ایک بوسیدہ گھر کا دروازہ کھولتا ہے جو پہلے سے ہی آدھا کھلا ہوا تھا۔

فراز گھر میں داخل ہوتا ہے اور ایک کمرے میں جاکر بیٹھ جاتا ہے۔ ایک دم سے دوسرے کمرے سے ہاتھ میں موبائل تھامے ایک لڑکی آتی ہے۔

”تم پھر بھاگ کر آ گئے۔ میں نے تمہیں کتنی بار سمجھایا ہے کہ تم مفرور ہونے سے باز آ جاؤ“

فراز : میں مفرور نہیں ہوں۔ آج خوش ہوں، تم ہو، انتظار ہے۔ تم احساس کی دنیا میں داخل ہو کر تو دیکھو۔ خشت باری اچھا مشغلہ نہیں۔ یہ لاپرواہی تمہیں سچ کے احساس سے محروم نہ کردے ”۔

وہ اچانک موبائل پر کچھ ہندسے ملاتی ہے اور فراز سے کہتی ہے،

” تم اس استغراق کے عالم سے باہر آ جاؤ۔ کب تک تماشا لگانے کے شائق رہو گے۔ اب اپنا سچ سنو، تم اپنے تخیلات اور انتظار کی خود ساختہ بنائی دنیا سے کبھی باہر نہیں آسکتے“

فراز جذبات کو اپنے اندر امنڈتا محسوس کرتا ہے،

”کیسی دنیا، جس میں میرے ہونے نہ ہونے سے کوئی خلل نہیں پڑتا، کوئی کمی واقع نہیں ہوتی، کوئی زیادتی نہیں ہوتی۔ میرا ساتھی تو بس انتظار ہے جو کلاک ٹاور پر باقاعدہ میرا منتظر رہتا ہے۔ تمہیں پتہ ہے کلاک ٹاور کی گھڑی اچانک رک جاتی ہے اور منظر ساکن ہوجاتا ہے۔ گھڑی کے بحال ہوتے ہی انتظار اکثر میرے ساتھ ہوتا ہے۔ تمہیں پتہ ہے، اس کے برعکس انتظار گھڑی کی شدت محسوس کرتا ہے۔ انتظار دنیا کو مقابلے کا میدان بتاتا ہے۔ وہ بھی مجھے اس دنیا میں مفرور کہتا ہے۔ چلو تمہارے اور انتظار میں یہ بات تو یکساں ہے تو بس یہی میرا سچ ہے۔

وہ اچانک موبائل کا اسپیکر آن کرتی ہے لیکن موبائل پر دوسری جانب بات نہیں کرتی، پھر فراز کو کہتی ہے

” اس گھر میں آنے اور کلاک ٹاور کی گھڑی کے علاوہ تم کو کچھ متاثر بھی کرتا ہے؟ تم اب بھاگ کر یہاں نہیں آؤ گے۔ تم ہو کون“ فراز یا انتظار ”کیوں کہ میں انتظار کی قائل نہیں۔ سچ تو یہ ہے، انتظار بھی تم اور فراز بھی تم“

فراز اچانک اپنے پاس سے انتظار کی کمی دیکھ کر پریشان ہوجاتا ہے

” میں انتظار کے بغیر کچھ نہیں۔ انتظار کہاں گیا۔ میں نہ چاہتے ہوئے بھی انتظار کو اپنی مجبوری بنا چکا ہوں، کیوں کہ انتظار ہی میری اکلوتی حقیقت ہے“

یک دم چار آدمی وردی میں گھر میں داخل ہوتے ہیں اور فراز کو دبوچ لیتے ہیں
” تم آج پھر پاگل خانے سے بھاگ آئے۔ تم نے ہر چند روز میں اس حرکت کا فیصلہ کیا ہوا ہے“

فراز انتظار کو اپنی گرفتاری کے بعد بھی دیکھتا ہے، اسے انتظار دکھائی نہیں دیتا۔ ایک آدمی اس کو شانوں سے پکڑا ہوا تھا، فراز اس سے سوال کرتا ہے۔

” انتظار کہاں گیا تم نے دیکھا“
وہ آدمی باقی کے تین لوگوں کے ساتھ فراز کو جبراً گھسیٹتے ہوئے گھر سے باہر لے آتا ہے اور کہتا ہے
” انتظار دکھائی نہیں دیتا“
چاروں فراز کو ایمبولینس میں ڈال دیتے ہیں۔ ان میں سے ایک شخص انجیکشن کو بھرتا ہے۔
فراز ہولناک لہجے میں

” مجھے کلاک ٹاور جانے دو وہاں انتظار ہے، مجھے کلاک ٹاور جانے دو، وہاں انتظار ہو گا، مجھے کلاک ٹاور جانے دو وہیں انتظار ہوتا ہے“

فراز کے بازو میں انجیکشن کی سوئی پیوست کرتے ہی ایک شخص اس کو مسکراتے ہوئے کہتا ہے،
”بس اب آرام کرو، سو جاؤ، انتظار کی گھڑی ختم ہوئی“

 

Facebook Comments HS