خفیہ عالمی خط کا راز


ایک وزیر نے دیدے گھمائے اور بولا ”ایسا کون ہو سکتا ہے؟ حیرت ہے۔“

تین چار آوازیں بیک وقت بلند ہوئیں ”میر صادق نے تو ٹیپو سلطان کو قلعے سے باہر جنگ میں مشغول دیکھ کر پیچھے سے قلعے کے دروازے کو کنڈی لگا دی تھی۔ آپ کی کابینہ میں ایسا کوئی نہیں جو آپ کے ساتھ ایسا کرے۔ آپ یقین کریں کہ ہم کنڈی نہیں لگائیں گے۔ ہماری بات ہو گئی ہے، اپوزیشن والے جنگ نہیں کریں گے“ ۔

اس کے بعد بحث شروع ہو گئی کہ کون غدار ہو سکتا ہے۔ بحث اس وقت ختم ہوئی جب کپتان نے میز پر مکا مارا اور کہا ”سوچنا یہ ہے کہ سازش کو کیسے ناکام بنایا جائے۔ پچھلی مرتبہ جب مسلمانان ہندی کے پایہ تخت پر مرہٹوں نے حملہ کیا تھا تو پشاور کی طرف سے کمک پہنچی تھی جس نے پایہ تخت سے مرہٹوں کا قبضہ چھڑا کر تمام مال خود اپنی تحویل میں لیا تھا۔ کیا اس مرتبہ حالات پہلے سے زیادہ نازک ہیں، کیا پشاور ہماری مدد نہیں کرے گا؟ کیا وہ نیوٹرل رہے گا؟ ایسا نہیں ہو سکتا“

معاملہ اتنا نازک اور اہم تھا کہ یہ میٹنگ کوئی مہینہ بھر چلتی رہی۔ پھر خبر ملی کہ اپوزیشن نے کپتان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروا دی ہے۔ اس خبر کے پہنچنے کے بعد کپتان نے فیصلہ کیا کہ وہ عوام سے خطاب کرے گا اور ان کے سامنے خط رکھے گا۔ کپتان کی پکار پر پچیس لاکھ افراد نے لبیک کہا اور پریڈ گراؤنڈ میں جمع ہو گئے۔

یہ تعداد دیکھ کر کپتان کی آنکھوں میں چمک آئی، پژمردہ چہرے پر اطمینان کی لہریں ہلکورے لینے لگیں۔ اس نے اپنے پہلو میں بیٹھے اپنے آزمودہ ساتھی خان فیصل جاوید خان سے پوچھا ”یہ کتنے لوگ ہوں گے؟“

فیصل جاوید خان کچھ دیر غور سے دیکھتے رہے۔ پھر کہنے لگے ”بیس لاکھ سے اوپر ہیں۔ اور اتنے ہی باہر سڑکوں پر ٹریفک جام میں پھنسے ہوئے ہیں“ ۔

کپتان مسکرایا اور بولا ”ہمارے سعودیہ میں مقیم سفیر نے بتایا ہے کہ کرونا سے پہلے کے دس برس میں حج کے موقعے پر اوسطاً بیس لاکھ افراد جمع ہوتے تھے۔ شکر ہے کہ یہاں پریڈ گراؤنڈ میں آج میدان عرفات سے بھی بڑا اجتماع ہو رہا ہے۔ حالانکہ اس کا رقبہ محض ساڑھے پانچ لاکھ مربع فٹ ہے اور میدان عرفات کا ساڑھے آٹھ لاکھ“ ۔

یہ کہہ کر کپتان اٹھا اور قوم سے اپنا تاریخی خطاب شروع کیا۔ خطاب بہت طویل تھا، کپتان گویا گھڑی کنویں میں پھینک آیا تھا مگر سننے والوں کو وقت گزرنے کا پتہ ہی نہیں چلا۔ خطاب تھا یا کپتان نے طلسم باندھ دیا تھا، ہوا تک رک گئی تھی، پرندے اڑنا بند ہو گئے تھے، پانی بہنا بند ہو گیا تھا، جن و انس جامد ہو کر کپتان کی بات سن رہے تھے۔ پھر جب کپتان نے کہا کہ اب وہ ایک اہم بات کرنے والا ہے اور لوگ سپیکر کے اوپر سے اتر جائیں تاکہ سب لوگوں تک آواز پہنچ پائے، تو مجمع جوش سے بے قابو ہونے لگا۔

کپتان نے اپنی شلوار کی زپ والی جیب سے ایک سربند لفافہ نکالا جس پر ابھی تک وہ گوند زدہ مہر موجود تھی جو ولادیمیر پوتن نے اپنے تھوک سے لگائی تھی۔ کپتان نے اسے لہرایا، اپنی حکومت اور عالم اسلام کے خلاف ہونے والی عالمی سازش کا حال بیان کیا، اور پھر یہ کہنے کے بعد کہ خط کو عوامی سطح پر ظاہر کرنے سے پاکستان کے عالمی تعلقات پر منفی اثر پڑ سکتا ہے، متشککین اور محبین کو دعوت دی کہ جو بھی خط پڑھنا چاہے وہ کپتان سے مل کر پڑھ سکتا ہے۔

عالمی سازش کا کپتان اب کامیابی سے توڑ کر رہا ہے۔ اتنا عوامی پریشر دیکھ کر اس کے اتحادی بہت معمولی سی قیمت پر واپس اس سے ملنے لگے ہیں۔ قاف لیگ نے حمایت کے عیوض محض سلطنت کے 56 فیصد حصے پر اکتفا کیا ہے۔ امید ہے کہ کپتان کے روس جانے کی وجہ سے جس عالمی سازش کا سرا ملا ہے، وہ مکمل طور پر ناکام ہو گی اور دشمن منہ کی کھائیں گے۔

سچ ہی کہتے ہیں کہ جسے حقیقت معلوم ہو اس کے فیصلے درست ہوتے ہیں اور بے خبر ان فیصلوں پر اعتراض کرتے ہیں۔ کہاں وہ وقت تھا جب سب یوکرین کی جنگ کے وقت کپتان کے روس جانے پر تنقید کر رہے تھے اور بتا رہے تھے کہ اس کے پاکستان پر بہت منفی اثرات پڑیں گے، اور کہاں اب یہ وقت ہے کہ اس دورے کی وجہ سے پاکستان ایک بڑے نقصان سے بچنے اور بڑی فتح حاصل کرنے جا رہا ہے۔ خدانخواستہ کپتان رخصت ہو جاتا تو پھر عالم اسلام کا کیا بنتا؟

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar