اچھے مسلمان، برے مسلمان: سیاسی تشدد اور عالمی احتساب
(نوٹ : یہ محمود ممدانی کی این آربر مشیگن یونیورسٹی امریکہ کی تقریر کا ترجمہ اور تلخیص ہے ) ڈاکٹر خالد سہیل
خواتین و حضرات!
نیویارک ٹائمز میں ایک مقالہ چھپا جس میں لکھا تھا کہ SEPTEMBER 2001 کے سانحے کے بعد امریکیوں نے جوق در جوق قرآن خریدنا اور پڑھنا شروع کر دیا۔ مجھے وہ مقالہ پڑھ کر بہت حیرت ہوئی۔ میں نے سوچا کہ امریکی کتنے سادہ لوح ہیں کہ وہ TWIN TOWERS پر حملہ کرنے والوں کی نفسیات کے راز قرآن میں تلاش کر رہے ہیں۔ میں نے یہ بھی سوچا کہ جب امریکیوں نے عراق پر حملہ کیا تو کیا مسلمانوں نے بھی بھاگ بھاگ کر بائبل کے نسخے خریدے تا کہ حملہ آوروں کی نفسیات کے راز بائبل میں تلاش کر سکیں۔
میرے لیے یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہ تھی کی امریکی صدر جارج بش نے مسلمانوں سے جنگ اور افغانستان پر حملے کو کروسیڈ کا نام دے کر سیاست میں مذہب کا تڑکا لگانے کی کوشش کی تھی۔
میں نے جب امریکیوں اور مسلمانوں کے رد عمل میں فرق پر غور کیا تو مجھے اندازہ ہوا کہ ستمبر دو ہزار ایک کے حادثے کو امریکی عوام و خواص نے ایک خاص زاویے سے دیکھا اور ایک خاص نقطہ نظر سے اس کی توجیہہ کی۔ اس سیاسی اور عوامی مکالمے میں مغرب کے دو دانشوروں کی تحریروں نے اہم کردار ادا کیا۔
ایک دانشور کا نام سیمول ہنٹنگٹن ہے
اور دوسرے لکھاری کا نام برنارڈ لوئیس ہے۔
ہنٹنگٹن نے اپنی مقبول عام کتاب CLASH OF CIVILIZATIONS
میں یہ موقف پیش کیا کہ ساری دنیا میں جو تضاد پائے جاتے ہیں وہ مشرق اور مغرب کے مختلف اور متضاد کلچرز کی وجہ سے ہیں۔ ہنٹنگٹن اسلامی کلچر پر سخت تنقید کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اسلامی تاریخ کے ہاتھ خون میں رنگے ہوئے ہیں اور جلد یا بدیر مسلمان اپنی جارحیت اور تشدد کا جواز مذہب اور کلچر میں تلاش کر لیتے ہیں۔ ہنٹنگٹن کی نگاہ میں سب مسلمان برے مسلمان ہیں کچھ کم برے ہیں کچھ زیادہ۔
اس کے مقابلے میں برنارڈ لوئیس مسلمانوں کے بارے میں اپنے دل میں نرم گوشہ رکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مسلمان دو طرح کے ہیں۔ کچھ اچھے مسلمان ہیں اور کچھ برے مسلمان ہیں۔ برے مسلمان بنیاد پرست اور تشدد پسند ہیں جبکہ اچھے مسلمان امن پسند اور آشتی پسند ہیں۔ لوئیس کا امریکی حکومت کو مشورہ تھا کہ وہ برے مسلمانوں سے جنگ کرے اور اچھے مسلمانوں سے دوستی کرے۔ اس نے یہ بھی مشورہ دیا کہ امریکہ کو برے مسلمانوں سے براہ راست جنگ کرنے کی بجائے اچھے مسلمانوں کی مدد کرنی چاہیے تا کہ وہ برے مسلمانوں سے لڑیں۔
اس نے خانہ جنگی کا مشورہ دیا اور عراق پر حملہ اس مفروضے کو ٹیسٹ کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ جب برے مسلمان ہار جائیں گے تو اچھے مسلمان فتح کا جشن منائیں گے اور امریکی فوجیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہیں پھولوں کے ہار پہنائیں گے۔ لیکن ایسا نہ ہوا اور وقت آنے پر اچھے مسلمان بھی برے مسلمان بن گئے اور امریکہ کے خلاف ہو گئے۔
چونکہ میں نے اپنی کتاب کا نام "اچھے مسلمان اور برے مسلمان” رکھا ہے اس لیے میں یہ وضاحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ جب امریکی مسلمانوں کو اچھے اور برے مسلمانوں میں تقسیم کرتے ہیں تو ان کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوتا کہ جو مسلمان اسلام پر سختی سے عمل کرتے ہیں وہ اچھے مسلمان ہیں اور جو عمل نہیں کرتے وہ برے مسلمان ہیں۔ امریکیوں کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ جو مسلمان امریکہ کا ساتھ دیتے ہیں وہ اچھے مسلمان ہیں اور جو امریکہ کا ساتھ نہیں دیتے وہ برے مسلمان ہیں۔ اس لیے میری کتاب کا نام قدرے طنزیہ ہے۔
ہنٹنگٹن اور لوئیس کے نظریات میں فرق ہونے کے باوجود ان کے نظریات میں ایک قدر مشترک بھی ہے۔ وہ ساری دنیا کو دو خانوں ’دو گروہوں‘ دو کلچرز اور دو ثقافتوں میں تقسیم کرتے ہیں۔
پہلا گروہ جدید اور ماڈرن کلچرز کا ہے جو حالات کے ساتھ بدلتے ہیں اور نیا کلچر تخلیق کرتے ہیں اور دوسرا گروہ قدیم اور روایتی کلچرز کا ہے جو بدلتے ہوئے حالات سے بے نیاز ماضی کی روایات پر عمل کرتے چلے جاتے ہیں۔
ان کی نگاہ میں جدید کلچر خوب ترقی کرتے ہیں اور قدیم کلچر ترقی معکوس کرتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جدید کلچر بھی ترقی کرتے کرتے جب کسی معاشی اور سیاسی بحران کا شکار ہوتے ہیں تو وہ بھی ترقی معکوس کرنے لگتے ہیں۔
امریکی دانشوروں نے امریکی حکومت کو قائل کیا کہ مسلمان ممالک اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتے جب تک انہیں خارجی مدد نہ ملے اور امریکہ کو چاہیے کہ وہ ان قدیم پسماندہ اور روایتی قوموں کی مدد کرے تاکہ وہ جدید دور میں شامل ہو سکیں۔
مجھے ان دانشوروں کے اس نقطہ نظر سے اختلاف ہے جس کا اظہار میں نے اپنی کتاب میں تفصیل سے کیا ہے۔
میں نے اپنی کتاب لکھنے کے لیے جب انیسویں اور بیسویں صدی کے سیاسی اسلام کا مطالعہ کیا تو میرا تین مسلم دانشوروں سے تعارف ہوا جن کی تحریروں نے مسلمانوں کے سماجی اور سیاسی رویوں کو متاثر کیا یہ تین دانشور
ایران کے جلال الدین افغانی
پاکستان کے ابوالاعلیٰ مودودی اور
مصر کے سید قطب ہیں۔
پہلے مسلم دانشور افغانی ایران سے ہندوستان اور پھر فرانس چلے گئے اور فرانسیسی دانشوروں سے سنجیدہ مکالموں میں مشغول ہو گئے۔ افغانی نے مسلمانوں کو جدید سائنس اور ٹکنالوجی پڑھنے اور سیکھنے کی ترغیب دی۔ ان کا موقف تھا کہ اگر مسلمان قوموں پر دوسری قوموں نے حملہ کر کے انہیں فتح کیا ہے تو وہ قومیں ضرور داخلی طور پر نحیف و ناتواں تھیں۔ انہوں نے مسلمانوں کو نصیحت کی کہ وہ سیاسی و معاشی معاملات میں ذوق و شوق سے شرکت کریں تا کہ ایک دن کامیابی ان کے قدم چوم سکے۔ افغانی کی تحریک عوامی تحریک تھی۔
دوسرے مسلم دانشور مودودی تھے۔ وہ جب ہندوستان سے پاکستان گئے تو انہیں یہ جان کر مایوسی ہوئی کہ پاکستانی مسلمان صرف نام کے مسلمان تھے۔ مودودی نے سوچا کہ پاکستانی مسلمانوں کو صحیح معنوں میں مسلمان بنانے کے لیے ایک اسلامی ریاست قائم کرنی ہوگی۔ انہوں نے سوچا کہ اگر ایک مخصوص گروہ کی اسلامی خطوط پر تربیت کی جائے اور پھر وہ گروہ بر سر اقتدار آ جائے تو پاکستان کو ایک اسلامی ریاست بنایا جا سکتا ہے۔ مودودی کا خواب جمہوری خواب نہ تھا۔ ان کی تحریک ایک نظریاتی سیاسی تحریک تھی عوامی تحریک نہ تھی بلکہ وہ ایک غیر جمہوری تحریک تھی۔
جب میں نے مودودی کے سیاسی اور مذہبی نظریات کا مطالعہ کیا تو مجھے اندازہ ہوا کہ ان کے نظریات اور مصری مسلم دانشور سید قطب کے خیالات میں کافی مماثلت ہے۔ سید قطب نے ایک کتاب لکھی تھی جس کا نام "سنگ میل” تھا۔ اس کتاب میں انہوں نے اسلامی انقلاب کا نسخہ اور نقشہ رقم کیا ہے۔ ان کی کتاب پڑھتے ہوئے مجھے لینن کا سرخ انقلاب یاد آ رہا تھا۔ قطب نے مسلمانوں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے دوستوں اور دشمنوں میں تمیز کریں کیونکہ دوستوں سے آپ مکالمہ کر سکتے ہیں اور انہیں سمجھا سکتے ہیں لیکن دشمنوں سے مکالمہ نہیں ہو سکتا ان سے صرف جنگ ہو سکتی ہے۔ انہوں نے ماؤ زے تنگ کے چینی انقلاب کی طرح اسلامی انقلاب لانے کے لیے جنگ ’جارحیت اور تشدد کو نہ صرف جائز قرار دیا بلکہ اسے ناگزیر جانا۔
قطب کی تحریریں پڑھتے ہوئے مجھے یوں محسوس ہوا جیسے ساٹھ اور ستر کی دہائیوں میں تمام سیاسی تبدیلیوں کے لیے خونی انقلاب تجویز کیے جاتے تھے چاہے وہ مذہبی انقلاب ہوں یا سیکولر انقلاب۔ ان انقلابوں پر فرانسیسی خونی انقلاب کا سایہ تھا۔ ان سیاسی رہنماؤں کو یقین تھا کہ انقلاب تشدد کی کوکھ سے ہی پیدا ہو سکتا ہے۔
اس طرح مغربی مفکرین نے جارحیت اور تشدد کو دو خانوں میں بانٹ دیا۔
اچھی جارحیت وہ ہے جو انقلاب لاتی ہے اور بری جارحیت وہ ہے جو انقلاب کی راہ کی رکاوٹ بنتی ہے۔
میرا موقف یہ ہے کہ عہد حاضر کی جارحیت اور تشدد کو سمجھنے کے لیے یہ تمام خیالات و نظریات ناکافی ہیں۔ یہ نظریات ماضی کے اصولوں پر حال کے حالات کا تجزیہ کرتے ہیں۔ عہد حاضر کو سمجھنے کے لیے ہمیں سیاسی تشدد کو نئے زاویے سے دیکھنا ہو گا نئی کسوٹی پر پرکھنا ہو گا۔ ہمیں اس مفروضے کو چیلنج کرنا ہو گا کہ سیاسی تبدیلی کے لیے تشدد ناگزیر ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ
کیا ہم جارحیت اور تشدد کے بغیر سیاسی اور سماجی اور معاشی تبدیلی نہیں لا سکتے؟
کیوں نہیں لا سکتے؟
چاہے وہ دائیں بازو کے انقلابی ہوں یا بائیں بازو کے انقلابی
چاہے وہ گیارہ ستمبر کے جنگجو ہوں یا عراق پر حملہ آور ہوں
چاہے وہ مارکس لینن اور ماؤ زے تنگ کے پیروکار ہوں یا سید قطب اور مودودی کے پرستار ہوں
دونوں نے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے تشدد استعمال کیا۔
جب ہم بیسویں صدی کی سیاسی تبدیلیوں کا تجزیہ کرتے ہیں تو ہمارا سامنا سرد جنگ سے ہوتا ہے۔ ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ ستر کی دہائی میں امریکہ میں ویت نام کی جنگ کے خلاف مظاہرے ہوئے۔ امریکہ کو ویت نام کی شکست کے بعد ندامت کا سامنا کرنا پڑا۔ ویت نام کی جنگ کے بعد امریکی حکومت اور خارجہ پالیسی نے فیصلہ کیا کہ ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ ہم اپنے فوجی دوسرے ممالک کی جنگوں میں نہ بھیجیں بلکہ پراکسی وارز لڑیں۔ اس سیاسی تبدیلی میں امریکی صدر رونلڈ ریگن اور ہنری کسنگر کی خارجہ پالیسی نے اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے تیسری دنیا میں بہت سی جنگیں کروائیں اور نیشلسٹ تحریکوں کو اسلحہ فراہم کیا۔ انہوں نے کرائے کے سپاہی فراہم کیے اور مختلف ممالک میں آمروں اور ڈکٹیٹروں کا ساتھ دیا۔
امریکہ نے دائیں بازو کے رہنماؤں کی مدد کی اور بائیں بازو کے لیڈروں کی مخالفت کی۔
ریگن نے روس کی کمیونزم کی حکومت کو شیطانی حکومت کہہ کر سیاست میں مذہب کا تڑکا لگایا اور مذہب اور خدا کے نام پر بہت سی حکومتوں سے مدد مانگی۔ اس طرح اس نے جنگ کو مقدس جنگ بنانے کی کوشش کی اور مسلمانوں کی جدوجہد کو شیطانی جدوجہد اور مسلمانوں کو تشدد پسند قرار دیا۔ امریکہ نے بہت سے مسلم ممالک میں سیاسی چالیں چلیں حکومتوں کے تختے الٹے اور تشدد کا مظاہرہ کیا اور لاکھوں ڈالر خرچ کیے۔
امریکہ نے ویت نام کی شکست کے بعد تیسری دنیا کے کئی ممالک کی مذہبی جماعتوں کو خریدا اور بنیاد پرستی کو فروغ دیتے ہوئے تشدد کی آگ کو بھڑکایا۔
اس کی پہلی مثال افغانستان میں مجاہدین کی مالی اور سیاسی سرپرستی ہے۔ امریکہ نے مختلف مسلم ممالک سے مجاہدین کو روس کے خلاف جہاد کے لیے تیار کیا اور مذہبی شدت پسندی کو فروغ دیا۔
امریکہ نے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے سعودی عرب اور پاکستانی حکومتوں کی خفیہ مدد لی۔
اس کی دوسری مثال پاکستان کے ہزاروں مدرسے ہیں جہاں نوجوان جہادیوں کو تربیت کی گئی۔ امریکہ کی نبراسکا ریاست میں 1986 سے 1994 تک پاکستانی بچوں کے لیے جو درسی کتابیں تیار کی گئیں ان میں انہیں جہاد کے لیے تیار کیا گیا۔
تیسری جماعت کے نو سالہ بچے سے پوچھا جاتا ہے
اگر مجاہدین پچاس روسی سپاہیوں پر حملہ کریں
بیس روسی مارے جائیں
تو کتنے روسی بچ جائیں گے؟
اسی طرح چوتھی جماعت کے دس سالہ بچے سے پوچھا جاتا ہے
اگر کسی مجاہد کی کلاشنکوف کی گولی آٹھ سو میٹر فی سیکنڈ چلتی ہے اور روسی سپاہی تین ہزار دو سو میٹر دور کھڑا ہے تو مجاہد کی گولی کو روسی کے سر سے پار جانے میں کتنے سیکنڈ لگیں گے؟
آپ کو ان دو مثالوں سے اندازہ ہو گیا ہو گا کہ پاکستان کے مدرسوں میں کیا تیار ہو رہا تھا۔
بیسویں صدی میں انسانی حقوق کی تحریکیں چلیں جن میں ان افراد اور قوموں کا احتساب ہوا جنہوں نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کیں لیکن جب امریکہ دنیا کی واحد سوپر پاور بن گیا تو اس کا کوئی احتساب کرنے والا نہ رہا۔ امریکہ نے پچھلی چند دہائیوں میں بین الاقوامی جنگوں میں انسانی حقوق کو کئی بار پامال کیا لیکن اس کا احتساب نہ ہوا۔ اس کی دو مثالیں ابو غرب اور گوئٹاناموبے کی جیلیں ہیں جہاں انسانی حقوق کو پامال کیا گیا اور جن لوگوں نے وہ مظالم کیے ان کا کوئی احتساب نہیں ہوا اور امریکہ کی سیاسی منافقت ساری دنیا پر عیاں ہو گئی۔
امریکہ اپنی عوام کو جو انسانی حقوق فراہم کرتا ہے وہ تیسری دنیا کے عوام کو ان ہی حقوق سے محروم بھی کرتا ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم پچھلے پچاس سال کے واقعات اور حادثات کو نئی کسوٹی پر پرکھیں اور سیاسی تشدد کا نئے انداز سے تجزیہ کریں۔ میں نے اپنی کتاب "اچھے مسلمان، برے مسلمان” میں ایسا ہی کرنے کی کوشش کی ہے۔ میں نے امریکہ اور مسلم ممالک کے تضادات کا ایک نیا اور تفصیلی جائزہ اور تجزیہ پیش کیا ہے۔
شکریہ


