میرا اپنا امر بالمعروف!


سردار صاحب کہیں جا رہے تھے، راستے میں ہی حاجت نے تنگ کیا، وہیں ایک مناسب جگہ بیٹھ گئے، پاس سے ایک مسلمان کا گزر ہوا، اس نے جب دیکھا کہ سردار صاحب مغرب کی جانب منہ کر کے بیٹھے ہیں تو غصے میں لال پیلے ہو گئے، خیر انتظار کیا، سردار صاحب فارغ ہوئے تو ان کے قریب جا کر بولے : گستاخ! مغرب کی طرف ہمارا قبلہ ہے، تو نے اس جانب منہ کر کے حاجت کی جرات کیسے کی؟ سردار صاحب نے معذرت کی اور بولے : بھائی میں مسلمان نہیں ہوں اور یہ بات میرے علم میں نہیں تھی، معافی چاہتا ہوں، آئندہ ایسا نہیں ہو گا، بات رفع دفع ہو گئی، کچھ دنوں اسی سردار نے دیکھا کہ وہی مسلمان مغرب کی جانب منہ کیے بیٹھا ہے، فارغ ہوا تو سردار نے وہیں دھر لیا اور پوچھا: اس دن مجھے تو قبلے کی تعظیم کا درس دے رہے تھے لیکن آج خود کیوں اسی جانب منہ کیے بیٹھے تھے؟ مسلمان نے ایک نظر سردار کو دیکھا اور بولا: قبلہ تیرا ہے یا میرا؟ ہمارا قبلہ ہے، ہم جانیں اور ہمارا کام، تو ماما لگتا ہے؟

بات سمجھانا مقصود تھی، کسی قسم کی دل آزاری نہیں، سو لطیفے کو لطیفے کی حد تک ہی رکھا جائے، مجھے یہ لطیفہ یوں یاد آیا کہ آج کل امر بالمعروف کا بڑا شہرہ ہے، لوگ عجیب عجیب پھبتیاں کس رہے ہیں، کوئی کہہ رہا ہے کہ اگر کپتان امر بالمعروف کی درست ادائیگی کر دے تو میرا ووٹ بھی اسی کا اور نوٹ بھی، کوئی کہہ رہا ہے کہ اگر کپتان امر بالمعروف کے ساتھ ساتھ نہی عن المنکر بھی ادا کر کے دکھا دے تو ہم کپتان کی ٹائیگر فورس میں شامل ہو جائیں گے، آج کل کپتان پر بھی پرانی بہار آئی ہے، جلسوں کا آغاز ایک مرتبہ پھر ایاک نعبدو و ایاک نستعین سے ہونے لگا ہے، یار لوگ مگر اس پر جملے کس رہے ہیں کہ مشکل میں اگر واقعی اللہ یاد آیا ہے تو ترلے ایمپائر کے کیوں؟

کچھ جگہ کلمہ طیبہ کا ورد کیا لیکن اس مشکل گھاٹی کو عبور کرنے سے قاصر رہے، لہذا کسی پٹواری نے کہا کہ اگر کپتان درست تلفظ سے بنا اٹکے کلمہ طیبہ سنا ڈالے تو میں بھی اہل یوتھ سے ہو جاؤں گا، خیر طرح طرح کی باتیں بنائی جا رہی ہیں لیکن ہاشو شکاری ان تمام طعنوں میں بھی خیر کا ایک پہلو تلاش کر چکا ہے کہ آیت الکرسی کی فضیلت اور فوائد بھی صحابی کو شیطان نے ہی بتائے تھے۔

بہرحال جب کوئی داعی کسی قسم کا نعرہ لگاتا ہے تو اس کے نعرے کو اس کے قول و فعل کے تناظر میں ہی دیکھا جاتا ہے، کپتان نے امر بالمعروف کا نعرہ مستانہ بلند کیا ہے تو ضروری سمجھا کہ اسے کپتان کے روزمرہ کے ”معمولات خانیہ“ کے تناظر میں دیکھا جائے، غور کرتے کرتے سو گیا، میں سویا مگر قسمت جاگ گئی، کپتان میرے خواب میں تشریف لائے اور بولے :میں تمہیں بتاتا ہوں، میں نے کہا : ارشاد، کپتان بولے : میں فضل الرحمان کو فضلو جبکہ شہباز شریف کو چوہا کہتا ہوں لہذا امر بالمعروف کا نعرہ میں ہی لگاؤں گا، میں لوگوں کی نقلیں سب سے اچھی اتارتا ہوں لہذا امر بالمعروف میرے علاوہ سب کے لیے حرام ہے، میں کسی جرم پر اپنے وزیر کو پہلی وزارت سے ہٹا کر کوئی دوسری وزارت عطا کر دیتا ہوں لہذا امر بالمعروف کا جلسہ کرنا میرا حق ہے، میں خاتم النبیین کے الفاظ تین چار کوشش کے باوجود ادا نہیں کر سکتا اور سکپ کر کے اگلے الفاظ پر چلا جاتا ہوں لہذا امر بالمعروف کے جملہ حقوق میرے نام ہیں، میں روحانیت کے لفظ کا بھرتا بنا کے رکھ دیتا ہوں لہذا امر بالمعروف کا سب سے بڑا دعویدار بھی میں ہی ہوں، میں چونکہ اتنا مضبوط ہوں کہ جہنم کی آگ بھی مجھے جلا نہیں سکتی لہذا امر بالمعروف کا اشتہار بھی میں ہی لگاؤں گا، کوئی دوسرا ملک میرے ملک کے کسی پراپرٹی ٹائیکون کو جرمانہ کرے لیکن میں اس جرمانے کے اربوں روپے کو قومی خزانے میں جمع کرانے کی بجائے اسی شخص کو لوٹا دیتا ہوں لہذا مجھ سے بڑھ کو کون ہو گا امر بالمعروف کا نعرہ لگانے والا؟

میرے دو وزیر اس وقت تک خود کش حملہ کر کے پوری پارلیمنٹ کو اڑانے کی دھمکی دے چکے ہیں، یہ امر بالمعروف نہیں تو اور کیا ہے؟ میرے سامنے ایک عورت آئی کوئی شکایت لے کر اور میں نے اسے دھکے دلوا کر اپنے سامنے سے ہٹا دیا، کیا یہ بھی امر بالمعروف نہیں ہے؟ میں نے کئی لوگوں کو محض الزامات کی بنا پر کر کئی کئی سال قید میں رکھا، ثبوت نہ ملنے پر وہ رہا ہو گئے، کیا یہ امربالمعروف کی اعلیٰ مثال نہیں ہے؟ میں اپنے ذاتی جلسے کے لیے ریاست کی خصوصی ٹرین چلوا رہا ہوں، سرکاری چینل کو اپنے جلسے کی مشہوری کے لیے اپنا ماؤتھ پیس بنا دیا ہے، میں ایمپائر کو غیر جانبدار ہونے کی بجائے اپنے ساتھ ملا کر کھیلنا چاہتا ہوں، لوگوں کو بغیر کسی ثبوت کے چور کہتا ہوں اور اپنے ٹائیگرز کو کہتا ہوں کہ ان کے بچوں کو سکول میں تنگ کریں، کیا اب بھی میں امر بالمعروف کے تقاضوں پر پورا نہیں اترتا؟ میں قائداعظم کے بعد پہلا امانت دار لیڈر ہوں۔

یہاں میں نے کپتان کو رکنے کا اشارہ کیا اور کہا : لیکن قائد اعظم سے کسی نے پوچھا تھا کہ اسلام بھی اچھائی کا درس دیتا ہے اور فلاں مذہب بھی تو پھر آپ کا انتخاب اسلام ہی کیوں؟ قائداعظم نے جواب دیا تھا: کیونکہ اسلام اچھائی کا درس دیتا ہے لیکن اس اچھائی کے لیے ذرائع بھی نیک اختیار کرنے کا حکم دیتا ہے۔ آپ کیسے لیڈر ہیں کہ نیکی کرنے چلے ہیں مگر برے طریقے سے؟ اس سے پہلے کہ کپتان جواب دیتے میری آنکھ کھل گئی۔

Facebook Comments HS