خطرناک دھمکی آمیز سازشی خط لیک ہو گیا
جو بائیڈن پریشان تھا۔ عمران خان کی موجودگی میں پاکستان کی ترقی کو روکنا ناممکن ہو گیا تھا۔ اسے نظر آ رہا تھا کہ اگر پاکستان اسی رفتار سے ترقی کرتا رہا جتنی اس نے پچھلے تین برسوں میں کی ہے تو اسلام کا یہ قلعہ کنٹرول کرنا مشکل ہو جائے گا۔ اسے لگا کہ وہ دن دور نہیں جب پاکستان ہی دنیا کا لیڈر ہو گا اور یورپ اور امریکہ اپنی حفاظت کے لیے پاکستان کو سالانہ خراج دے رہے ہوں گے اور وہ بھی اربوں ڈالر میں ہو گا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ چین کا صدر شی جن پنگ بھی اتنا ہی پریشان تھا۔ جو بائیڈن نے یورپین لیڈران سے اس معاملے پر بات کی تو وہ اور بھی زیادہ خوف زدہ دکھائی دیے۔ یورپ والوں کو صاف نظر آ رہا تھا کہ اس فاسٹ باؤلر (میرا مطلب سیاسی لیڈر اور مدبر) کو اگر نہ روکا گیا تو یورپ بہت جلد پاکستان کی کالونی ہو گا۔ برطانیہ کا خوف یہ بھی تھا کہ ایسی صورت میں ان کا بریڈ فورڈ تو خالی ہو جائے گا اور انہیں بریڈ فورڈ جا کر سستی پاکستانی ہانڈی کھانے کا جو نشہ ہو گیا ہے وہ پورا نہیں ہو پائے گا۔
جو بائیڈن نے یورپین بادشاہوں سے بات کرنے کے بعد مودی کو فون لگایا۔ وہ پراتھنا میں مصروف تھے لیکن سیکیورٹی کے اسرار پر بائیڈن کا فون سننے پر راضی ہو گئے۔ مودی نے دھوتی سنبھال کر جو بائیڈن کی بات غور سے سنی اور جو بائیڈن کو بتایا کہ اس نے تو خطرے کو پہلے ہی بھانپ لیا تھا۔ عمران خان کی کپتانی (میرا مطلب ہے کہ حکومت) میں پاکستان کی اکانومی کو اٹھتا دیکھ کر کشمیر ہاتھ سے جاتا دکھائی دیا تو ہی اس نے کشمیر والا جھگڑا مکا ڈالا۔
مودی جی نے جو بائیڈن کو مزید بتایا کہ عمران خان پاکستان کا دوسرے نمبر کا قابل اور خطرناک ترین لیڈر ہے۔ جو بائیڈن نے پہلے نمبر کے خطرناک اور قابل ترین لیڈر کا پوچھا تو مودی نے بتایا کہ پہلے تو وہ خادم حسین رضوی تھے لیکن ان کی وفات کے بعد اب مقابلہ مولانا سعد رضوی اور شیخ رشید کے درمیان ہے۔ اور اگر یہ دونوں پہلا نمبر حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہوئے تو پھر فردوس عاشق اعوان ہی ہوں گی۔ جو بائیڈن نے جب ان لیڈران کی قائدانہ صلاحیتوں کا پوچھا تو بتایا گیا کہ وہ سب ایک ہی ہتھیار کا بے دردی سے استعمال کرتے ہیں اور اس ہتھیار کو وہ زبان کہتے ہیں۔
خیر عمران کا راستہ روکنے کے لیے جو بائیڈن، تمام یورپین بادشاہ، مودی اور شی جن پنگ ایک پیج پر آ گئے تو سب نے بیٹھ کر اس کا حل سوچنا شروع کیا۔ وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ اس کا حل ایک خط ہی ہو سکتا ہے۔ انہوں نے خط لکھ دیا۔ اس خط کا نام ”عمران خان کے نام اسلام دشمن دنیا کا سازشی اور دھمکی آمیز خط“ رکھا گیا۔ اس خط میں واضح لکھ دیا گیا کہ دنیائے کرکٹ کو عمران خان کی تیز ترین ان سونگ سے شدید خطرہ ہے۔ اگر عمران خان کو اپنی خطرناک باؤلنگ سے نہ روکا گیا تو اپنی ہی ساری وکٹیں اڑا بیٹھے گا۔ اور اگر ایسا ہو گیا تو پھر ایک کی بجائے دو افغانستان بن جائیں گے۔ اور یہ دوسرا افغانستان پہلے سے بھی زیادہ خطرناک ہو گا کیونکہ اسے تو رحونیت کا تڑکا بھی لگا ہوا ہے۔
خط تو لکھا گیا اور سازش بھی تیار ہو گئی اب مسئلہ یہ تھا کہ یہ خط عمران خان تک کیسے پہنچایا جائے۔ اس کے لیے پاپا جونز کے ایک ڈیلیوری بوائے کا انتخاب کیا گیا۔
ڈیلیوری بوائے نے یہ خط وزیر داخلہ شیخ رشید کو پہنچایا۔ انہوں نے پوری ایمانداری سے پڑھے بغیر یہ خط وزیراعظم کو پہنچا دیا۔ اسی لیے تو شیخ رشید کو خط کے بارے میں کچھ علم نہیں تھا۔
خیر عمران خان بھی ان کے قابو میں آنے والا نہیں تھا۔ اس نے خط کے اوپر سے اپنا نام کاٹ کر اپنے سے بھی زیادہ خطرناک ان سونگر وسیم اکرم پلس کا نام لکھ دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وسیم اکرم پلس کی وکٹ اڑ گئی اور عمران خان کی اننگز ابھی جاری ہے لیکن سازشی خط کے لیک ہونے سے پچ اور بھی گیلی ہو گئی ہے۔ بات اب پاپا جونز کے ڈیلیوری بوائے پر آ کر رک گئی ہے۔ پیزے فون کی تاروں کے ساتھ جھول رہے ہیں۔ دنیا کا سب سے بڑا ایمان دار شخص پنجاب کے سب سے بڑے ڈاکو کے ساتھ مل کر ہمارے مستقبل کا فیصلہ کرے گا۔ اور ہم ہیں کہ مزے سے کونے میں بے فکر بیٹھے دہی کھا رہے ہیں۔


