بچے پر غیر انسانی تشدد اور مدارس میں حفظ کا نصاب


جہلم تھانہ ڈومیلی کی حدود میں واقع اک گاؤں دیال کے مدرسے میں قاری صاحب نے بچے کو بجلی کی تاروں سے کیا مارا کہ والدین تھانے پہنچ گئے اور بچہ ایمرجنسی وارڈ میں۔ نجی چینلز نے اسے خبروں کی زینت بنایا۔ تصویر میں دیکھا جا سکتا کہ محض تین چار ضربوں کے نشان ہیں پشت پہ۔ اب سات پشتیں بخشوانا اتنی آسان تو نہیں۔ والدین کو یہ بات سوچنی چاہیے۔ اور یہ جنتی دنبہ کیسا کم حوصلہ نکلا کہ چند ضربوں پہ ہی چیں بول گیا۔

ابھی ابتدائے حفظ ہے، روتا ہے کیا
آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا

دوران حفظ اس سے زیادہ مار تو محض ع ح کو حلق سے ٹھیک مخرج سے نہ نکالنے پہ پڑ جایا کرتی۔ بلکہ ہمیں تو رحمٰن کی ر مطلوبہ مقدار میں موٹا پڑھنے پہ دو دن لگ گئے تھے۔ ع ح کا تو مت پوچھیں۔ اونچی آواز میں نہ پڑھنے پہ سزا الگ۔ سبق کچا ہونے کی صورت میں الگ تبرک۔

کاہو اور شہتوت کے درخت تو پکے جنتی ہیں۔ کیونکہ آلات حفظ میں ان کی چھڑیوں کا استعمال سب سے زیادہ ہوتا۔ دیگر درختوں کی چھڑیاں گھنٹہ دو گھنٹہ بھی نہیں نکال پاتیں۔ اس لیے ان درختوں کو ترجیح دی جاتی۔ مزید آلات حفظ میں بجلی کی تار، تسبیح، گیس والا پائپ شامل۔ ہمارے استاد چھڑی کے آگے پائپ باندھ لیا کرتے تاکہ سامنے بیٹھ کے ہی کمر پہ مار سکیں اور فرمانبردار بچے کو استاد کی طرف پیٹھ نہ کرنی پڑے کہ بے ادبی کا اندیشہ ہے۔ با ادب با نصیب۔ پنسل یا مسواک تب استعمال کی جاتی جب انہیں انگلیوں میں پھنسانا مقصود ہو۔

یوگا کے مختلف آسن بھی کرائے جاتے جن میں کرسی بننا، مرغ بننا یا حالت رکوع میں سبق یاد کرنا شامل۔
ڈنڈے، سوٹے، تاریں، سزائیں
تیرے حفظ میں ہم نے کیا کیا بھگتا

بعض بچے کم حوصلہ نکلتے اور بھاگ جاتے۔ کچھ ایسے بھی تھے جنہیں واپس لایا گیا تو انہوں نے خودکشی کر لی۔ ایک قاری صاحب کے سگے بھائی تھے چھوٹے۔ پنڈ دادنخان سٹیشن کے قریب ٹرین تلے آ گیا۔ ایک شاید ملکوال کا لڑکا تھا۔ ساتھی لڑکے کے بقول سزا کے بعد اسے الٹیاں آئیں اور مر گیا جبکہ قاری صاحب کے بقول بچے نے کچھ کھایا تھا۔ بہرحال موت پہ اتفاق تھا کہ وہ واقع ہو گئی۔ غریب والدین تھے۔ توشۂ آخرت سمجھ کے چپ ہو رہے۔

فلمیں دیکھنے کی پاداش میں ہمارے اک دوست کو چارپائی سے باندھ کے تاروں سے اس بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا کہ دیکھنے والے بھی نہ سو سکے۔ سہنے والوں کا حال وہی جانیں۔ بدفعلی کے الزام میں لڑکے کے عضو پہ سریا گرم کر کے لگایا گیا۔ اس نے دوسری منزل سے گلی میں چھلانگ لگائی اور ٹخنہ تڑوا بیٹھا۔ باقی مدارس کے احوال بھی سوشل میڈیا وغیرہ کے ذریعے اب ہر خاص و عام کو پتہ۔ لیکن سوشل میڈیا ٹرائل کے بعد اب بہت فرق پڑا سزاؤں پہ۔ پھر بھی کہیں نا کہیں سے خبر نکل آتی۔

مار اور وحشیانہ سزائیں حفظ کے نصاب کا لازمی حصہ ہیں۔ بچوں کے والدین سونے کے تاج والی بشارت کے نشے میں مخمور بچے کی شکایت پہ الٹا اسے پھر مدرسے چھوڑ آتے۔ یہ قیامت کے روز کی اک لاٹری بھی ہے کہ حافظ جی بخشوائیں گے ہمیں۔ اور بچے براق کی الٰم سے و الناس تک کی سواری کے لالچ میں ٹھڈے لاتیں مکے ڈنڈے برداشت کرتے رہتے۔

خدا جانے یہ روایت کس ستم ظریف نے گھڑی تھی کہ ”جسم کے جس حصے پہ استاد کی ضرب کے نشان پڑیں، اسے دوزخ کی آگ نہ چھو سکے گی۔“ ارے صاحب! جن کے نصیب خراب ہوں ان کے لیے وہاں بھی تو یہی کچھ ہو گا۔ اندھے فرشتے، گرز اور آگ کے کوڑے۔

Facebook Comments HS