خواب کی کھڑکی سے جھانکتی لڑکی


اف! یہ کیا اسرار ہے؟ میں نے غور سے اس کی طرف دیکھا۔ وہ ایک جیتی جاگتی حقیقت کی طرح میرے سامنے تھی۔ میں اس کے سینے کے زیر و بم کو دیکھ سکتا تھا۔ اس کی سانسوں کو محسوس کر سکتا تھا۔ اس کے تراشیدہ براؤن بال تکیے پر بکھرے ہوئے تھے اور اس کے دلکش چہرے پر اطمینان تھا، وہ پر سکون نیند میں تھی۔ یہ خواب ہے یا وہ خواب تھا۔ میں نے سوچا کہ جاگتا رہوں۔ پتا تو چلے کہ وہ کہاں غائب ہو جاتی ہے۔ نہ جانے کتنی دیر میں اسے دیکھتا رہا۔

شاید ایک لمحے کے لیے میری آنکھیں بند ہوئیں، میں نے فوراً آنکھیں کھولیں مگر دیر ہو چکی تھی۔ وہ بستر پر نہیں تھی اور کھڑکی سے آنے والی روپہلی کرنیں صبح کا اعلان کر رہی تھیں۔ اس روز دفتر میں بھی میں اپنے بارے میں سوچتا رہا۔ شاید میں کسی نفسیاتی عارضے کا شکار ہو گیا ہوں۔ کیا مجھے اپنے دوست سے بات کرنی چاہیے، نہیں مجھے معالج سے ملنا چاہیے۔ چناں چہ دفتر سے واپسی پر میں گھر آنے کی بجائے ایک ڈاکٹر کے پاس چلا گیا۔

ڈاکٹر نے اطمینان سے میری ساری باتیں سنیں۔ پھر ایک لیکچر دیا جو مجھے پوری طرح سمجھ نہ آیا۔ البتہ جو ادویات لکھ کر دیں تھیں وہ خرید کر میں نے گاڑی کا رخ گھر کی طرف کر لیا۔ اس وقت بھی میرا ذہن سوچوں میں الجھا ہوا تھا۔ میں گاڑی بہت کم رفتار پر چلا رہا تھا۔ ایسے میں مجھے دور بس سٹاپ پر ایک لڑکی دکھائی دی۔ اس کے جسم پر ایک بڑی سی چادر تھی اس کے باوجود میرا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔ میں نے اسے پہچان لیا تھا۔ میں نے کار اس کے قریب جا کر روک دی۔ اس نے میری طرف دیکھا تو میں نے شیشہ نیچے کر کے کہا۔

”لفٹ چاہیے“
وہ فوراً دروازہ کھول کر میرے برابر بیٹھ گئی۔ چادر طے کر کے سائیڈ پر رکھی اور بولی۔
”اچھا ہوا آپ آ گئے۔ مجھے ایک بہت ضروری کام سے کہیں جانا تھا۔ اس لیے باہر آنے کا رسک لیا۔“
”تم اچانک کہاں غائب ہو جاتی ہو۔ کچھ پتا نہیں چلتا۔
”مجھے بھی آپ کی عجیب باتیں سمجھ نہیں آتیں“
”تم نے ابھی تک اپنا نام بھی نہیں بتایا؟“
”آپ نے پوچھا کب ہے؟“
”اچھا اب تو بتا دو تم کون ہو؟“
”میرا نام نور ہے۔ “
”بس اور کچھ نہیں“
”اور۔ یہاں سے بائیں مڑ جائیں، مجھے قبرستان جانا ہے“

اس نے چوراہے پر یک دم کہا۔ میں نے گاڑی اس کی ہدایت کے مطابق موڑ لی۔ اب وہ خاموش تھی۔ شاید وہ اس سے زیادہ بتانا نہیں چاہتی تھی۔ قبرستان زیادہ دور نہیں تھا۔ ہم گاڑی سے اترے تو وہ چپ چاپ ایک طرف چل پڑی۔ میں اس کے پیچھے پیچھے تھا۔ وہ ایک قبر کے پاس جا کر رک گئی۔ قبر نئی معلوم ہوتی تھی۔ قبر پر ایک کتبہ لگا تھا۔ جس پر محبوب لکھا تھا۔ نور بہت آزردہ نظر آ رہی تھی۔ اس کی آنکھیں بھیگ رہی تھیں۔ میں نے نرمی سے سوال کیا۔

”یہ کس کی قبر ہے؟“
اس نے بھیگی پلکیں اوپر اٹھائیں اور بولی۔
”یہ میرے محبوب کی قبر ہے۔“ پھر ذرا ٹھہر کر بولی۔
”میرا مطلب ہے، اس کا نام محبوب تھا۔ ظالموں نے اسے مار ڈالا۔ اور اب شاید مجھے بھی مار ڈالیں گے۔“
اس نے دائیں بائیں سر گھما کر دیکھا پھر بولی۔
”آؤ! واپس چلیں۔ اب یہاں ٹھہرنے سے کچھ حاصل نہ ہو گا۔“

واپسی کے سفر میں وہ بالکل خاموش تھی۔ میں ایک بار پھر مخمصے کا شکار تھا۔ وہ ایک خواب ہے یا حقیقت۔ اب تو میں نے اسے سڑک پر دیکھا تھا۔ یہ خواب نہیں ہو سکتا۔ میں اسے گھر لے آیا۔ ہم دیر تک باتیں کرتے رہے۔ میں سوچ رہا تھا کہ خواہ مخواہ ڈاکٹر سے دوا لی۔ دروازے کی بیل بجی تو میں باہر نکلا۔ باہر کوئی نہیں تھا۔ دروازہ بند کر کے پلٹا تو ایک بار پھر نور نہیں تھی۔ اس بار میں نے سارا گھر چھان مارنے کی کوشش نہیں کی۔

مجھے معلوم تھا وہ نہیں ملے گی۔ سب سے پہلے میں نے ڈاکٹر کی تجویز کردہ دوا کی ایک خوراک لی پھر بستر پر لیٹ کر سوچنے لگا کہ اس صورت حال سے کیسے نکلوں۔ میں خواب اور حقیقت میں تمیز کیوں نہیں کر پا رہا۔ مجھے کیوں پتا نہیں چلتا کہ کب خواب شروع ہوا اور کب ختم ہوا۔ کہیں یہ سب کچھ حقیقت تو نہیں۔ میں کسی نتیجے پر نہ پہنچ پایا تو خود کو حالات کے دھارے پر چھوڑ دیا۔

وقت کے ساتھ ساتھ میں عادی ہوتا جا رہا تھا۔ اب تو یوں بھی ہوتا تھا کہ اس سے بات کرتے کرتے میں کسی دوسرے کمرے میں یا کچن میں جاتا تو واپسی پر وہ غائب ہوتی اور کبھی ایک کمرے سے نکل کر دوسرے میں آتا تو وہ موجود ہوتی۔ رات کو میری آنکھ کھلتی تو کبھی وہ بیڈ پر موجود ہوتی اور کبھی غائب ہوتی۔ میں نے اس سے ایک دو بار اس کے بارے میں پوچھنے کی کوشش کی تھی لیکن اس نے کچھ نہیں بتایا تھا۔ میں سمجھ گیا تھا کہ وہ فقط اسی وقت بتائے گی جب اس کی اپنی مرضی ہوگی۔

میں اس وقت کا انتظار کر رہا تھا۔ میں جس فیکٹری میں کام کرتا تھا اس میں بیسیوں ورکر اور سینکڑوں مزدور تھے۔ میری توجہ دفتری معاملات میں بہت کم ہو چکی تھی لیکن ایک دن جب مینیجر صاحب نے ایک نئے ورکر سے متعارف کروایا تو میں چونک اٹھا۔ اس کا نام نادر تھا۔ مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ اسے کہیں پہلے بھی دیکھا ہے لیکن کچھ یاد نہیں آ رہا تھا۔

اس دن میں گھر آیا تو نادر کے بارے میں ہی سوچ رہا تھا۔ نور گھر میں ہی تھی۔ اس نے بھی یہ بات محسوس کر لی۔

”کیا بات ہے؟ آج آپ کھوئے کھوئے سے ہیں۔ کوئی بات ہوئی ہے کیا؟“
”کچھ نہیں، دفتر کا ایک معاملہ تھا“
”مجھے بتائیں، شاید میں کچھ مدد کر سکوں“ اس نے پیار سے کہا۔ لیکن مجھے غصہ آ گیا۔
”نہیں بتاؤں گا۔ تم بتاتی ہو اپنے بارے میں“

وہ کچھ بولنے کی بجائے ہنسنے لگی۔ پھر ہنستی ہی چلی گئی۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے میری کیفیت پر اسے مزا آ رہا ہے۔ میں نے گھور کر اسے دیکھا۔ تب اچانک ایک اور احساس ہوا۔ مگر میں نے کوئی بات نہ کی۔ دوسرے دن جب دفتر پہنچا تو خاص طور پر نادر سے ملا۔ میں کافی دیر تک غور سے اسے دیکھتا رہا۔ پھر اپنے کیبن میں آ کر سوچنے لگا۔ مجھے نادر کے چہرے میں نور کی شباہت کا احساس ہوا تھا۔ آج ایسا لگ رہا تھا کہ نور اور نادر کے چہروں میں بہت مماثلت ہے مگر میں نادر سے کوئی بات نہیں کر سکتا تھا۔

اور نور سے پوچھنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ وہ کچھ بتانا نہیں چاہتی تھی۔ میں نے فیصلہ کیا کہ آج اس سے ایک بار دو ٹوک بات کروں گا۔ گھر پہنچا تو وہ نظر نہیں آئی۔ میں نے سوچا کہ کوئی بات نہیں۔ ابھی چلتے پھرتے نظر آ ہی جائے گی۔ مگر شام تک وہ نظر نہ آئی۔ میں نے کئی ترکیبیں آزمائیں۔ کبھی آنکھیں بند کر کے لیٹا، سونے کی کوشش کی، کبھی خواہ مخواہ مختلف کمروں کے چکر لگائے لیکن وہ شاید ناراض تھی۔ بالآخر مجھے نیند آ گئی۔ رات کو ایک بار آنکھ کھلی لیکن وہ بستر پر نہیں تھی۔ صبح ہوئی اور دفتر جانے تک وہ نہ ملی۔ میں نے اسے اتفاق سمجھا مگر ایسا نہیں تھا۔ مسلسل تین دن تک وہ مجھے بالکل نظر نہ آئی تو میں بہت بے چین ہو گیا۔ کبھی گھر سے باہر جاتا تھا کبھی واپس آتا تھا لیکن قرار نہیں تھا۔

پھر میرے ذہن میں جھماکا سا ہوا۔ ایک بار وہ مجھے سڑک پر ملی تھی۔ میں کار لے کر باہر نکل گیا اور اسی سڑک پر کئی چکر لگائے۔ اسے کہاں ملنا تھا۔ یاد آیا کہ وہ ایک قبرستان میں لے کر گئی تھی۔ خود بخود جیسے کار اسی طرف مڑ گئی۔ قبرستان کے باہر کار روکی تو میرا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ وہ یہاں ضرور ملے گی۔ شاید وہ محبوب کی قبر پر ہو۔ میں آہستہ آہستہ آگے بڑھا۔ میرے اندازے کے مطابق جہاں محبوب کی قبر تھی وہاں پہنچا۔

قبر تو موجود تھی مگر نور وہاں نہیں تھی۔ میں نے قبر کے کتبے پر نظر ڈالی تو دل اچھل کر حلق میں آ گیا۔ وہاں محبوب کا نام نہیں لکھا تھا۔ وہاں نور کا نام لکھا تھا۔ مجھے ایسا لگا جیسے میری آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا ہو۔ ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔ میں جب نور کے ساتھ یہاں آیا تھا تو میں نے اپنی آنکھوں سے محبوب کا نام لکھا دیکھا تھا۔ اور اب نور۔ میں نے آنکھیں مل مل کر دیکھا لیکن منظر نہ بدلا۔ پھر میرے ذہن کے پردے پر نادر کی تصویر ابھری۔ شاید نور نادر کی بہن تھی۔ وہ مرنا نہیں چاہتی تھی، شاید نادر نے ہی اسے اور اس کے محبوب کو قتل کیا ہو۔ میں گاڑی سٹارٹ کی اور دفتر کا رخ کر لیا۔ لیکن میں سوچ رہا تھا کہ کیوں نہ پہلے ڈاکٹر سے مل لوں شاید یہ میرا خواب ہو۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2