خواب کی کھڑکی سے جھانکتی لڑکی
بادل گرجا اور اس کے ساتھ ہی بجلی چمکی تھی۔ اچانک ایک احساس نے مجھے چوکنا کر دیا۔ کسی ہیولے کا شائبہ تمام حسیات کو بیدار کرنے کے لیے کافی تھا۔ میں نے کھڑکی کے شیشے پر نگاہیں جما کر پار دیکھنے کی کوشش کی۔ کچھ دکھائی نہ دیا جب کہ چند لمحے پہلے مجھے واضح طور پر کسی وجود کی موجودگی کا احساس ہوا تھا۔ پندرہ بیس منٹ پہلے بارش شروع ہوئی تھی اور اب اس کی شدت بڑھتی جا رہی تھی۔ رات گیارہ بجے کا عمل ہو گا۔ کمرے میں زیرو واٹ کا بلب روشن تھا۔
آج شام کو میں اپنے ایک دوست کے ساتھ اس کے گھر پر تھا۔ کھانا بھی وہیں کھایا تھا۔ ابھی آدھ گھنٹا پہلے ہی گھر پہنچا تھا۔ میں نے گھر میں داخل ہونے کے بعد یاد سے دروازہ مقفل کیا تھا۔ اس وقت مجھے گھر میں کسی کی موجودگی کا احساس نہیں ہوا تھا۔ شاید یہ میرا وہم ہے، میں نے خود کو یقین دلانے کی کوشش کی مگر اسی وقت ایک بار پھر مجھے ایک ہیولا سا دکھائی دیا۔ اس بار وہ کافی واضح تھا۔ میں یک دم اچھل کر بیڈ سے اترا۔
میرا ذہن اس وقت بہت تیزی سے کام کر رہا تھا۔ باہر کون ہو سکتا ہے؟ بند دروازے سے کوئی کیسے اندر آ سکتا ہے؟ کہیں کوئی چور تو نہیں ہے؟ یا پھر کوئی غیر مرئی مخلوق؟ بہت سے سوالات میرے ذہن کے سمندر میں طوفانی لہروں کی طرح موجزن تھے۔ محتاط انداز میں دروازہ کھولا تو سامنے ایک لڑکی دکھائی دی۔ چھوٹے سے لان میں لگے بلب کی روشنی میں وہ صاف نظر آ رہی تھی۔ اس کی عمر انیس یا بیس برس کے قریب رہی ہو گی۔ اس کے دبلے پتلے بدن پر سادہ سا لباس تھا جو بارش سے مکمل طور پر بھیگ چکا تھا۔ اس کے دلکش چہرے پر پریشانی اور بڑی بڑی آنکھوں میں خوف کی پرچھائیاں تھیں۔
چند لمحے تک تو میں اپنی جگہ سے ہل سکا نہ کوئی بات کر سکا۔ پھر میرے حلق سے آواز نکلی۔
”کون ہو تم؟“
لڑکی پہلے سے زیادہ خوف زدہ نظر آنے لگی۔ اس کی سانسیں زور سے چلنے لگیں اور بدن پر جیسے کپکپی طاری تھی۔ پھر اس نے ملتجی نظروں سے مجھے دیکھتے ہوئے کہا۔
”پلیز! میری مدد کرو، میں بہت مشکل میں ہوں“
” لیکن تم یہاں آئیں کیسے؟ میں نے تو دروازہ بند کیا تھا۔“
”میں آپ کے آنے سے پہلے ہی آ چکی تھی۔ ساتھ والے گھر کی چھت سے آپ کی چھت پر آئی تھی، مجھے اس بارش میں ٹھنڈ لگ رہی ہے، مجھے کمرے میں تو آنے دیں، سب کچھ بتاتی ہوں۔“
میرے لیے اس لمحے یہ فیصلہ کرنا بہت مشکل تھا کہ واقعی وہ مشکل میں ہے یا میں کسی مشکل میں پھنسنے والا ہوں۔ لیکن اس کی ظاہری حالت ایسی تھی کہ اس کی بات پر یقین کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ چناں چہ میں اسے اندر لے آیا۔ لائٹ آن کر کے میں نے ہیٹر بھی چلا دیا۔ اس کے کپڑوں سے ٹپکتے پانی نے فرش کو اچھا خاصا گیلا کر دیا تھا۔ ہیٹر کے پاس کھڑی ہو کر اسے کچھ سکون ملا۔ لیکن وہ الجھن میں نظر آتی تھی۔ اس نے ایک گہری نظر سے مجھے دیکھا اور بولی۔
”سنیے! مجھے ان گیلے اور بدن سے چپکے ہوئے کپڑوں سے بہت الجھن ہو رہی ہے۔ “
میں تو اکیلا رہتا تھا۔ میرے پاس لڑکیوں کا لباس تو نہیں مل سکتا تھا۔ تاہم میں نے الماری کھول دی۔ اس نے ایک ٹراؤزر اور شرٹ نکال لی تھی۔ ہیٹر کے قریب جا کر کپڑے بدلنے لگی تو میں نے کہا۔
”ساتھ والے کمرے میں جا سکتی ہو یا پھر واش روم“
”آپ بھی اپنی آنکھیں بند کر سکتے ہیں“
اس کی بات سن کر میں نے منہ پھیر لیا۔ عجیب لڑکی ہے۔ بھلا اس طرح بھی کوئی بات کرتا ہے۔ میں اس کے بارے میں جاننا چاہتا تھا۔ وہ کپڑے بدل چکی تو میں نے کہا۔
”اب مجھے بتاؤ۔ تم کون ہو اور کیا چاہتی ہو؟“
اس کے پر سکون چہرے پر ایک بار پھر پریشانی ٹپکنے لگی۔ بارش کا شور کچھ کم ہو گیا تھا۔ بادلوں نے گرج کر اپنی موجودگی کی احساس دلایا۔ اس نے چند لمحے سوچا پھر بولی۔
”پلیز! ابھی مجھ سے کچھ مت پوچھیں۔ میں کھل کی کچھ نہیں بتا سکتی۔ بس اتنا سمجھ لیں کہ موت میرے پیچھے پڑی ہے اور میں اس سے بچنا چاہتی ہوں۔ آپ ہی بتائیے کیا یہ میرے مرنے کی عمر ہے۔ میں جینا چاہتی ہوں۔ مجھے موت سے بہت ڈر لگتا ہے۔“
میں نے بھرپور نگاہوں سے اس کے سراپے کا جائزہ لیا۔ عجیب مشکل تھی۔ وہ اپنے بارے میں کچھ بتانا بھی نہیں چاہتی تھی۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا کروں۔ آخر میرے لب ہلے۔
”مجھے صبح دفتر بھی جانا ہے۔ اور میں بہت تھکا ہوا ہوں۔ تم دوسرے کمرے میں سو سکتی ہوں۔ مجھے بھی سونا ہے۔ “ یہ کہہ کر میں بستر پر لیٹ گیا۔ وہ خاموش رہی پھر آگے بڑھی اور چپ چاپ بستر کی دوسری سائیڈ پر لیٹ گئی۔
”میں نے بتایا ہے کہ اس گھر میں اور بھی کمرے موجود ہیں“
”میں بھی بتا چکی ہوں کہ مجھے ڈر لگتا ہے، آپ سو جائیں میں آپ کو کھا نہیں جاؤں گی“
اس نے بے تکلفی سے کہا اور دوسری طرف منہ کر لیا۔ میں کیسے سو جاتا۔ اس کا وجود مجھے سونے سے روک رہا تھا۔ یہ انسان بھی ہے یا کوئی اور مخلوق ہے۔ میری سوچیں منتشر تھیں۔ اس کے باوجود نہ جانے کیسے مجھے نیند آ گئی۔ آنکھ کھلی تو میں نے فوراً سائیڈ پر دیکھا۔ وہاں کوئی نہیں تھا۔ شاید وہ واش روم میں ہو یا دوسرے کمرے میں۔ میں نے اٹھ کر سارا گھر چھان مارا لیکن وہ کہیں بھی نہیں تھی۔ الماری کھول کر دیکھا تو وہاں وہ ٹراؤزر اور شرٹ ٹنگی ہوئی تھی جو رات میں نے اسے دی تھی۔
یہ سب کیا تھا؟ کیا میں نے کوئی خواب دیکھا ہے؟ رات کا واقعہ اپنی جزئیات سمیت مجھے یاد تھا۔ اسی ادھیڑ بن میں ناشتا بنایا۔ ناشتے کے بعد ایک بار پھر میں نے گھر کا جائزہ لیا۔ مجھے یقین ہو گیا کہ میں نے خواب دیکھا ہے۔ گھر سے نکلتے ہوئے میں نے اچھی طرح دروازہ لاک کیا اور دفتر چلا گیا۔ دفتر کے کاموں میں اس واقعے کو تقریباً بھول ہی گیا تھا لیکن شام کو جب اپنے گھر میں داخل ہوا تو وہ لان میں کرسی پر بیٹھی کسی سوچ میں گم نظر آئی۔ مجھے حیرت کا شدید جھٹکا لگا۔
”تم۔ تم یہاں کیسے؟“
”تو اور کہاں جاتی؟ آپ کو بتایا تو تھا میں موت سے بھاگ رہی ہوں اور مجھے لگتا ہے یہاں میں محفوظ ہوں“
”لیکن صبح تو تم نہیں تھیں۔ کہاں چلی گئی تھیں“
”آپ سے کس نے کہا تھا کہ میں کہیں گئی تھی۔ میں تو یہیں تھی۔“
”مجھے الجھانے کی کوشش مت کرو۔ تم یہاں نہیں تھیں۔ میں نے تمہیں پورے گھر میں تلاش کیا تھا اور جاتے ہوئے دروازہ لاک کر کے گیا تھا“
”کیا ہو گیا ہے آپ کو۔ صبح جب آپ کچن میں ناشتا بنا رہے تھے تو میں آپ کے پاس ہی تو کھڑی تھی۔ یاد نہیں آپ کے ہاتھ سے انڈا گرتے گرتے بچا تھا۔“
میں سناٹے میں آ گیا۔ واقعی ایسا ہوا تھا۔ اگر یہ وہاں نہیں تھی تو اسے پتا کیسے چلا؟ میں نے تو اسے خواب سمجھ کر بھلا دیا تھا مگر وہ حقیقت بن کر میرے سامنے کھڑی تھی۔ کہیں میں اس وقت تو خواب نہیں دیکھ رہا۔ میں نے اس کی نگاہوں سے چھپاتے ہوئے ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ پر چٹکی کاٹی۔ کچھ بھی نہ ہوا۔ وہ میرے سامنے تھی۔
”اچھا اندر چلو، سردی بڑھ رہی ہے“
وہ چپ چاپ اندر آ گئی۔ متضاد سوچوں نے مجھے گھیر لیا تھا۔ میں کسی نتیجے پر نہیں پہنچ پا رہا تھا۔ وہ میرے ساتھ ایسے باتیں کر رہی تھی جیسے برسوں سے مجھے جانتی ہو۔ مگر یہ باتیں عام سی باتیں تھیں یا شاید وہ چاہتی تھی کہ میں اس کے بارے میں چھان بین نہ کروں یا اس کے بارے میں جاننے کی کوشش نہ کروں۔ نہ جانے کتنا وقت گزرا ہو گا جب اس نے اچانک کہا۔
”مجھے بھوک لگی ہے؟“
باتوں باتوں میں مجھے بھوک کا احساس نہ ہوا تھا، اب اس نے کہا تو مجھے بھی بھوک کا اندازہ ہوا۔ میرے کچن میں ضرورت کی ہر چیز موجود ہوتی تھی۔ اور مارکیٹ بھی گھر کے قریب تھی۔ میں اکثر شام کا کھانا مارکیٹ سے لے آتا تھا لیکن کبھی باہر جانے کا موڈ نہ ہوتا تو گھر میں ہی کچھ نہ کچھ بنا لیتا تھا۔ میں نے کچن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
”کچن موجود ہے۔ کچھ بنا لو؟“
وہ مسکرا اٹھی۔ پھر میری طرف دیکھتے ہوئے بولی۔
”مجھے کچھ پکانا آتا تو پہلے ہی بنا لیتی۔ آپ باہر سے ہی لے آئیں۔“
”ٹھیک ہے، میں باہر سے ہی لے آتا ہوں“ ایک گہری سانس لے کر میں اٹھا اور باہر نکل گیا۔ ٹاؤن کی مارکیٹ بمشکل سو گز کے فاصلے پر تھی۔ میں وہاں پیدل ہی آتا جاتا تھا۔ کھانا لے کر واپس آیا۔ دروازہ کھولا اندر آیا تو ایک عجیب سی خاموشی محسوس ہوئی۔ وہ گھر میں نہیں تھی۔ کہاں چلی گئی؟ میری پیشانی پر پسینے کے قطرے نمودار ہوئے۔ صورت حال الجھتی جا رہی تھی۔ کھانا کھانے کے بعد میں نے بچ جانے والا کھانا فریج میں رکھ دیا۔ ٹی وی آن کر کے سکرین پر نظریں جمائیں مگر کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا۔ میں اپنی سوچوں میں گم تھا۔ اسی دوران نہ جانے کب نیند آ گئی۔ آدھی رات کے وقت اچانک آنکھ کھل گئی۔ ٹی وی آف تھا مگر لائٹ آن تھی۔ سوچا کہ اٹھ کر لائٹ آف کروں۔ پہلو بدلا تو ایک جھٹکا سا لگا۔ وہ میرے پہلو میں سو رہی تھی۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


