الوداع کپتان الوداع


سابق وزیراعظم میر ظفراللہ جمالی نے جب وزارت عظمیٰ چھوڑ دی تو کسی صحافی نے سوال کیا کہ وزارت عظمی کیوں چھوڑی تو میر ظفر اللہ جمالی نے جواب دیا کہ جو لے کر آتے ہیں وہ گھر بھی بھیج دیتے ہیں۔ یہ ایک ایسا کڑوا سچ تھا کہ جس کی تلخی آج تک زبان کو محسوس ہوتی ہے۔ وطن عزیز کی سیاست کا المیہ ہے کہ یہاں پر طاقت کے مراکز جزوی طور پر طاقت شیئر کرتے ہیں مگر طاقت کو کلی طور پر منتقل نہیں کرتے اور جب دل کرتا ہے اقتدار کی طاقت سلب کرلی جاتی ہے۔ اور اقتدار کا نشہ ایسا ہوتا ہے کہ مضبوط سے مضبوط اعصاب کا انسان بھی طاقت و اختیار کے چھن جانے پر چٹخ کر ٹوٹ جاتا ہے۔ یقین نہیں آتا تو عمران خان کی 27 مارچ والی تقریر کا وہ حصہ سن لیں جب ان کی آواز بھر آئی اور آنکھیں چھلکنے کے قریب ہو گئیں۔

یہ بھی تو کسی المیے سے کم نہیں ہے کہ وزارت عظمی کی کرسی پر براجمان ہونے والا ہر شخص خود کو نظام اور جمہوری عہد کے لیے ناگزیر سمجھتا ہے۔ جمہوری طریقہ کار سے منتخب ہونے والا شخص جب وزیراعظم بنتا ہے تو شعوری یا لاشعوری طور پر آمر بننے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ نظام ہی ایسا ہے کہ آہستہ آہستہ ہر وزیراعظم خود کو ہر قانون اور ضابطے سے بالاتر سمجھنا شروع ہوجاتا ہے۔ جاہ و جلال میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ پسند نا پسند کے معیار بدلتے جاتے ہیں۔ قوم کے ساتھ وعدوں سے منحرف ہونے کے لیے ملک و قوم کی بہتری کے نام پر جھوٹ اور دروغ گوئی کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔

جب تک برسراقتدار رہتا ہے سچ نہیں بولتا اور جب کرسی چھن جاتی ہے یا چھین لی جاتی ہے تو پھر راست گوئی گویا اولین فریضہ بن جاتا ہے۔ مگر یہ قدیم روایتی طریقہ سیاست تھا۔ حالیہ جمہوری عہد میں تو ہر سیاسی روایت دم توڑ گئی۔ جھوٹ، الزامات، بدکلامی اور بدتہذیبی کی ایسی آندھی چلی کہ جمہوری روایات کے نام پر جو کچھ بچا کچھا باقی تھا وہ بھی اس آندھی کے نذر ہوا۔ اس قدر تواتر کے ساتھ جھوٹ بولا گیا کہ اس پر سچ کا گمان ہونے لگا۔ بات گمان سے آگے بڑھ گئی اور وہ جھوٹ عصر حاضر کا سچ ہی ٹھہرا۔

2018 میں اسی سیاسی فضا کے اندر کپتان کو ملک و قوم کی کپتانی سے سرفراز کر دیا گیا۔ سیاسی جھوٹ کے مقابل جب سچی حقیقتیں آئیں تو اس وقت نا تو سابقہ جھوٹ سے انکار کا حوصلہ تھا اور نا ہی ان سچائی پر مبنی حقیقتوں کا سامنا کرنے کی جرات تھی۔ پہلی بار احساس ہوا کہ اقتدار پھولوں کی سیج نہیں بلکہ حقائق کے کانٹوں کا وہ بستر ہے جس پر ایک لمحہ بھی صدیوں جتنا بھاری گزرتا ہے۔ اور یہ وقت تو اس وقت مزید اذیت ناک ہوجاتا ہے جب اس وقت کو گزارنے کے لیے نا تو کوئی منصوبہ بندی ہو اور نا ہی کسی قسم کیا تیاری اور اہلیت ہو۔

ایسی صورتحال میں کوئی بھی حکومت جب عوامی توقعات پر پورا نہیں اترتی تو وہ عملی طور پر اقدامات کرنے کی بجائے مذہب کی آڑ لیتی ہے اور مسائل سے فرار حاصل کرنا شروع کر دیتی ہے۔ ہمارا حالیہ سیاسی منظر نامہ اس کی بھر پور عکاسی کر رہا ہے جہاں ریاست مدینہ کے نام پر عوام کو بے وقوف بنانے کی کوشش کی جانے لگی۔ روزگار دینے میں ناکامی، امن وامان قائم کرنے میں ناکامی، ناکام معاشی پالیسیاں، اپنی نالائقی اور نا اہلی کو چھپانے کے لیے کسی بھی معاشی پروگرام کی بجائے مذہبی لبادے میں کو عوام کو صبر کرنے کی ہدایت کا سلسلہ شروع کیا گیا۔

روزگار کی خاطر کارخانے لگانے کی بجائے لنگر خانے کھولے جانے لگے، پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر کی بجائے پناہ گاہیں تعمیر کی گئیں۔ کاروبار کے نام پر عوام کو مرغیاں، انڈے، کٹے دیے جانے لگے۔ مدینہ میں ننگے پاؤں چلنے والے حاکم کے عہد حکمرانی میں عوام کے سر پر نا تو چادر رہی اور نا ہی پاؤں میں جوتے باقی رہے۔ چھ ہزار ارب روپے ٹیکس جمع کر کے فخر سے بتانے والے حاکم کے عہد زریں میں پچاس فیصد سے زائد آبادی خط غربت سے نیچے چلی گئی۔ ملکی تاریخ میں پہلی بار ایک حکومت نے اتنا قرض لیا کہ اس نے سابقہ تمام ریکارڈ توڑ دیے۔

عمران خان کی قیادت میں ایک ایسا تجربہ کیا گیا کہ بدترین طریقے سے ناکام ہوا۔ عوام دہائیاں دینے لگی کہ زندہ رہنے کی کوئی سبیل کی جائے سکھ کی کچھ ساعتیں عطا کی جائیں۔ بدترین طرز حکمرانی کے سبب تیزی سے اپنی مقبولیت کھوتی ہوئی حکومت نے عوام ہی نہیں بلکہ اپنے اتحادیوں کی حمایت بھی کھودی۔ آزاد اراکین اسمبلی، بلوچستان عوامی پارٹی کے بعد بالآخر ایم کیو ایم جیسی اتحادی جماعت نے جب ساتھ چھوڑا تو کپتان کی اکثریت ایک ہی پل میں اقلیت میں بدل گئی۔ اس لیے سیاست کے سب سے بڑے بازی گر سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا تھا کہ کچا ہاتھ نہیں ڈالا جب چاہوں کا اکثریت کو اقلیت میں بدل دوں گا اور ایسا ہی ہوا

اب کیا ہو گا تو اس کا بہت سادہ سا جواب ہے کہ اب عمران خان اور متحدہ اپوزیشن کا اقتدار میں آ کر اصل امتحان شروع ہو گیا ہے۔ کپتان پہلی بار حقیقی اپوزیشن کرے گا اور پھر اس کو اندازہ ہو گا کہ حقیقی اپوزیشن کرنا کس قدر مشکل اور کٹھن کام ہے اب تو ڈی چوک پر کنٹینر اور لاک ڈاؤن جیسی سہولتیں بھی نہیں ملیں گی جبکہ اپوزیشن نے اقتدار میں آ کر ڈلیور کرنا ہے۔ مہنگائی کے ہمالیہ تلے دبی ہوئی عوام کو سہولت فراہم کرنی ہے۔ بے روزگاری پر قابو پانا ہے، پٹرول، بجلی کے نرخوں کو کنٹرول کرنا ہے۔

ڈوبتی ہوئی معیشت کو بچانا ہے۔ اندرونی اور بیرونی قرضوں میں کمی کرنی ہے۔ عوام کو تعلیم، صحت جیسی سہولیات فراہم کرنی ہیں انسانی زندگی بچانے والی ادویات کو سستا کرنا ہے۔ گویا بہت سے کام ہیں جو محدود وقت کے اندر کرنے ہیں۔ طے ہو گیا کہ حکومت کی تبدیلی کے بعد شروع ہونے والی کپتان کی اپوزیشن اور متحدہ اپوزیشن کی حکومت ان کا اصل امتحان ہوگی اور دیکھتے ہیں کہ کون کامیاب ہوتا ہے فی الوقت ایم کیو ایم کے فیصلے کے بعد الوداع کپتان الوداع۔

Facebook Comments HS