بزدار کا جانا بنتا تھا


اگر آپ کسی بھی بڑے بزرگ سے پوچھیں کہ پاکستانی سیاست کب گندی ہونا شروع ہوئی تو ان کا ایک ہی جواب ہو گا، ضیاء دور کے بعد ، پیپلز پارٹی کا مقابلہ کرنے کے لئے جنرل جیلانی نے لاہور کے کاروباری شریف خاندان کے چشم و چراغ کو سیاست میں متعارف کروایا تو حضرت نے سیاست کو بھی کاروباری رنگ دینا شروع کر دیا، جوڑ توڑ لین دین، ڈیل، ڈھیل، مراعات، لالچ، دھونس دھمکی عہدے پلاٹ وغیرہ وغیرہ سب کچھ آہستہ آہستہ سیاست کا حصہ بن گیا۔

دوسری طرف بے نظیر بھٹو کو بھی زرداری صاحب نے سمجھا دیا تھا کہ شریفوں کے مقابلے کے لئے ضروری ہے کہ زیادہ سے زیادہ پیسہ کمایا جائے اور سیاست میں لگایا جائے اور یوں ایک دھینگا مشتی شروع ہو گئی۔ پیسے کا یہ کھیل قومی سطح سے ہوتا ہوا یونین کونسل تک چلا گیا، پراپرٹی کا کام چل نکلا اور سیاستدانوں کے بھی انویسٹرز بن گئے۔

پچھلے 40 سال میں سیاست اور سیاستدان آہستہ آہستہ مافیا بن گئے اور قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستیں چند مخصوص خاندانوں کے زیر اثر محدود ہوتی گئیں اب جس نے بھی اس کلب کا ممبر بننا تھا اسے کسی ایک خاندان کی آشیر باد حاصل کرنا لازمی تھا، ملک سے آہستہ آہستہ آزاد امیدوار اور چھوٹے پارٹیوں کا وجود ختم ہو گیا تھا۔

فوجی حکومت ہو یا جمہوریت کے نام پر خاندانی حکومت یہ ”بڑے“ ۔ ہمیشہ ہی اقتدار کے ایوانوں کے مقیم رہے ہیں بس کرسیوں کی ترتیب بدل جاتی تھی۔ ایسے میں عمران خان جیسے تیسے اس انجمن ستائش باہمی کو توڑنے میں کامیاب ہو گیا اور تاریخ میں پہلی دفعہ مقدس گائے سمجھے جانے والے حضرات یا ملک چھوڑ گئے یا سلاخوں کے پیچھے پہنچ گئے،

عمران خان نے الیکشن جیتنے کے بعد کنگر میکنگ کی روایت کو توڑتے ہوئے ایک عام آدمی کو ملک کا سب سے بڑا سونپ دیا، یہ بات مال و زر سے لیس حکومتی و اپوزیشن اراکین کے لئے ہضم کرنا مشکل تھی چنانچہ بزدار کے خلاف روز اول سے ہی صف بندی ہو گئی تھی۔ حکومتی نا اہلیوں کے علاوہ۔ عثمان بزدار کی سب سی بڑی نا اہلی ”بے مافیا“ ہونا تھا، بزدار کا نا کوئی گروپ تھا نا حلقہ اثر، سوشل میڈیا ٹیم تھی نا اپنے ذاتی صحافی اور نہ ہی کسی قسم کا اندھا دھن دولت کہ جس کا چاہے منہ بند کروا دے۔ اس کے اوپر ذاتی نا اہلی اور اسلام آباد سے چلائے جانے کے الزامات الگ، اس لئے بڑوں کی جنگ ہوئی اور ایک عام آدمی مارا گیا۔

یہ صرف بزدار نہیں ہر عام پاکستانی کی اقتدار سے رخصتی یہ سب کے لئے پیغام ہے کہ کچھ بھی کر لو اعلٰی حکومتی عہدے ایک مخصوص کلاس کے لئے مختص ہیں اور ان میں مداخلت ہرگز برداشت نا کی جائے گی۔

Facebook Comments HS