میری آنٹی کا خالی کمرہ


میں یہ تحریر ایک خالی کمرے میں بیٹھ کر لکھ رہی ہوں لیکن یہ کمرہ ہمیشہ سے خالی نہیں تھا۔ اس کمرے میں ایک مکمل وجود سانس لیتا تھا۔ اس وجود کی تمام تر آہٹوں سے یہ کمرہ باخبر تھا۔ میری ممانی (آنٹی) کی تمام تر عبادتوں کے حصار میں ہر وقت رہنے والا یہ کمرہ اپنے مکین کی خاموشیوں کو سنتا تھا۔ ان کی تکلیفوں پر بین کرتا تھا اور ان کی مسکراہٹوں پر کئی خوشنما رنگوں میں گھر جاتا تھا لیکن پھر یہ کمرہ اداس رہنے لگا کیونکہ یہاں موت کے قدموں کی چاپ سنائی دینے لگی تھی۔

وہی موت جو خاموشی سے سانسوں کو ساتھ لے جاتی ہے۔ وہی موت جو ہمارے پیاروں کو اتنی مہلت بھی نہیں دیتی کہ وہ ہمارے ہاتھوں پر الوداعی بوسہ دے سکیں یا پھر آخری بار ہمارے سینے سے لگ کر اپنی سانسوں کی خوشبو ہمارے وجود کے اندر اتار سکیں یا پھر چند لمحوں کے لئے ہمارے آنکھوں میں ہمیشہ کے لئے اپنا عکس اتار سکیں بس آنٹی کا کمرہ بھی اب روز آنٹی کے وجود میں دوڑتی تکلیفوں کو سنتا اور تڑپ اٹھتا۔ آنٹی کے کمرے میں موجود اشیاء ان کا ٹی وی،الماری اور بیڈ پر موجود ان گنت اخبارات اور رسالے اپنے مکین کو اب بس دور سے ہی دیکھتے تھے کیونکہ کمرے کے مکین کا تعلق بس اپنے بیڈ کے ساتھ ہی رہ گیا تھا۔

ایک روز بیڈ نے بھی موت کی آہٹ سن لی۔ اپنے مکین کو الوداع کہنا اس کے لئے ایک بہت مشکل امر تھا۔ اس کے آنسو تو کوئی دیکھ بھی نہیں سکتا تھا۔ اس روز کمرے کے اس مکین کا اپنے کمرے میں آخری دن تھا۔ آنٹی کو ہسپتال منتقل کیا جا رہا تھا۔ میں نے انہیں وہیل چیر پر بٹھایا۔ کمرے سے باہر لے آئی لیکن کمرے میں ایک عجیب سا سناٹا تھا یوں لگ رہا تھا پورا کمرہ سوگ میں ہو۔ آنٹی کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا لیکن ہسپتال میں محض ایک روز گزارنے کے بعد موت کا فرشتہ انہیں ہماری زندگیوں سے بہت دور ایک ایسے اسٹیشن پر لے گیا جہاں جانا ہر مسافر کا مقدر ٹھہرا۔

آنٹی کا جسد خاکی گھر لایا گیا۔ ان کے کمرے کے سناٹے بھی اس روز باقاعدہ بین کر رہے تھے۔ آنٹی کو رخصت کرنا آسان نہیں تھا۔ کتنے ہی آنسوؤں کے پانیوں سے ان کو غسل دیا گیا۔ ان کو منوں مٹی تلے دفن ہوئے گو کہ بہت سے دن ہو چکے ہیں لیکن ان کے کمرے میں آج بھی ویسی ہی خاموشی ہے اور یہ سوگ میں ڈوبا کمرہ اپنی تنہائی پر نوحہ کناں ہے۔

Facebook Comments HS