میسوپوٹیمیا۔ انسانی تہذیب کا پہلا مرکز

میسوپوٹیمیا یونانی لفظ ہے جس کا معنی ہے دو دریاؤں کے درمیان۔ آثار قدیمہ کے ماہرین کے مطابق دریائے دجلہ اور دریائے فرات کی وادیوں (موجودہ عراق اور شام ) کے اس خطے میں پہلی انسانی تہذیب کی ابتدا ہوئی۔ اس وادی کے شمالی حصے کو ”اشور“ وسطی کو ”اکاد“ جبکہ جنوبی حصے کو ”سومیر“ کہا جاتا تھا۔ نقشے میں دیکھا جائے تو یہ علاقہ ہلال (Crescent ) کی شکل رکھتا ہے اسی بنا اور سرزمین کی زرخیزی کی وجہ سے اس کو ہلال زرخیز بھی کہا جاتا تھا۔
یہ علاقہ افریقہ، یورپ اور ایشیا کے درمیان شاہراہوں پر واقع ہے جس کی وجہ یہ مختلف اقوام کے مابین تجارتی اشیا اور خیالات کے تبادلے کا موزوں مقام رہا ہے۔ اس کے ساتھ علاقہ چونکہ اپنے ارد گرد قدرتی حفاظتی دفاع ( صحرا، سمندر) نہ رکھنے کے باعث حملہ آوروں سے اس کا دفاع کرنا مشکل تھا۔ 3500 ق م سے 400 ق م تک اس کی تاریخ مختلف بادشاہتوں کے عروج و زوال اور متواتر قبائلی حملوں، جنگوں اور فتوحات سے بھری ہے۔ اس کے علاوہ اسی عرصے میں اقتدار کے مراکز کی گوناگوں تبدیلیوں اور اسی زمانے کے متعلق وافر معلومات کی عدم دستیابی کے باعث اس کی تاریخ کو پورے جزئیات کے ساتھ بیان کرنا آسان نہیں۔ تاہم آثار قدیمہ کے ماہرین اور مورخین کی کاوشوں سے اس کے اہم ادوار اور اقوام اور ان کے تہذیبی کارناموں کی تاریخ اور تفصیل کافی حد تک معلوم کی گئی ہے۔
یہاں ایک شہری تہذیب کا آغاز کرنے والے پہلے لوگ ”سومیری ( سومیر کے باشندے ) تھے جنہوں نے زیریں دریا فرات ( سومیر) کے دلدلی حصے میں ڈیرا جما لیا۔ سومیری کون تھے اور کہاں سے آ کر آباد ہوئے تھے اس بارے ابہام ہے۔ تاہم ان کی زبان عرب سے آئے ہوئے“ سامیوں ”سے مختلف تھی۔ ایک خیال یہ ہے کہ سومیری مشرق کی طرف غالباً انڈیا سے آئے تھے۔ یہاں آ کر انہوں نے اپنی محنت اور تخلیقی صلاحیتوں سے کام لے کر زمین کو قابل کاشت بنایا۔ 3000 ق م کے قریب ان کی آبادیاں 12 آزاد شہری ریاستوں میں متشکل ہوئیں۔ ان میں“ اریدو ،لا گیش ، ار، لارسہ ، پنور، اسین، یوروک ، ا کشک اور اربیلا ”وغیرہ اہم ریاستیں تھیں۔
2150 ق م تا 2050 ق م کے دوران ”ار“ کا شہر ان میں غالب حیثیت اختیار کر گیا تھا۔ اس دور میں سومیری تہذیب نے زبردست ترقی کر لی۔
سومیریوں کے شاندار کارناموں میں ”علاماتی تحریر“ ، ”اینٹوں کے بنے گھر اور عبادت گاہیں“ ، ”دھات کے بنے اوزار اور ہتھیار“ ، ”آبپاشی کا نظام“ ، ”بیرونی تجارت“ ، ”کرنسی کی ابتدائی صورت سازی“ ، ”مذہبی اور سیاسی ادارے“ ، ”درس گاہیں“ ، ”مذہبی اور سیکولر لٹریچر“ ، ”مختلف آرٹ“ ، ”ضابطہ قوانین“، اور شمسی کیلینڈر“ شامل ہیں۔ دنیا کی پہلی تحریری ادب پارہ ”گیلگامیش کا رزمیہ“ کی کہانی کی تخلیق بھی اسی زمانے اور خطے سے متعلق بتائی جاتی ہے۔
سومیریوں کا دیو مالائی مذہبی نظام سب سے قدیم سمجھا جاتا ہے۔
اگرچہ سومیریوں کی زبان، روایات اور دیوتا مشترک تھے مگر ان کی شہری ریاستیں سرحدی حد بندیوں اور پانی کے مسئلوں پر ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریباں رہتی تھیں۔ ان باہمی جنگوں کے نتیجے میں کمزور ہو کر سومیری بیرونی غلبے کا شکار رہے۔
یہاں کی تاریخ میں سومیریوں کے بعد جن لوگوں یا قوموں نے غلبہ حاصل کیا ان میں اہم بالترتیب اکادی ”۔ اموری ”،“ اشوری ”،“ کالدانی ”اور“ ایرانی” شامل ہیں۔
سومیر کے شمال میں سامیوں کا شہر ”اکاد“ تھا۔ 2350 ق م میں اکادیوں نے اپنے جنگجو بادشاہ ”ساراگوں“ ( Saragon ) کی قیادت میں حملہ آور ہو کر سومیری شہروں کو فتح کر لیا۔ اس نے دنیا کی پہلی سلطنت کی بنیاد رکھی جو جنوب میں خلیج فارس سے لے کر شمال مغرب میں بحیرہ روم تک پھیلی ہوئی تھی۔ اکادیوں نے سومیری ثقافت، زبان، کیلینڈر، اور رسم الخط کو اپنایا اور اس کو اپنی فتوحات کے ساتھ میسوپوٹیمیا کی سرحدوں سے باہر تک پھیلایا۔ میسوپوٹیمیا کا مذہب سومیری اور اکادی دیو مالائی مذہبی عناصر کا مجموعہ تھا۔
دو سو سال لگ بھگ کے بعد اکادی سلطنت زوال پذیر ہو گئی
2180 ق م کے لگ بھگ شمالی کوہستان کی ریاست ”گو“ کے قبائل ”گوتیمی“ کے حملوں اور اکادیوں کی اندرونی نا اتفاقیوں کے باعث اکادی سلطنت کا خاتمہ ہو گیا۔ ”اکاد“ میں گوتیموں کی لوٹ کھسوٹ ایک صدی تک جاری رہی۔ لیکن ”لا کاش“ ، ”آر“ اور بعض دوسری شہری ریاستیں ان کے تصرف سے محفوظ رہیں۔ گوتھییوں کی جگہ پھر سے سومیری ریاستوں نے لی۔
اس میں پہلے ”ار“ کے شہر نے سومیر اور اکاد پر غلبہ حاصل کر لیا اس دور میں ریاست ”ار“ کا ایک سومیری بادشاہ شولگی ( Sholgi ) رہا ہے جو ضابطہ قوانین کے مرتب کرنے کے حوالے سے حمورابی کا پیشرو سمجھا جاتا ہے۔ علاقے میں ریاست ”ار“ کا غلبہ صرف ایک صدی تک رہا۔ اس کے بعد کئی ایک دوسری سومیری ریاستوں کا مختصر دور تسلط ریا۔
پھر اسی دوران شمال مشرق کی طرف سے سامی النسل ”اموریوں“ اور فارس کی جانب سے ”ایلمنیوں“ کے حملوں کے باعث خطہ پھر سے بدامنی اور انتشار کا شکار ہو گیا۔ اسی کشمکش میں سامی النسل ”اموریوں“ کو غلبہ حاصل ہو گیا جنہوں نے اپنے ایک مشہور بادشاہ حمورابی ( 1792 تا 1750 ق م ) کی قیادت میں نہ صرف سومیر اور اکاد کو اپنی حکومت تلے کر دیا۔ بلکہ علاقے کے شمال مشرق کے حصے ”اساریا“ (Assyria ) تک اپنا تسلط بڑھایا۔ دریائے فرات کے کنارے اس وقت تک ایک گمنام گاؤں ”بابل“ کو اموریوں نے دارالحکومت بنایا جو بعد میں اتنی اہمیت اختیار حاصل کر گیا کہ اس کی نسبت سے سارا خطہ ”بیبولینیہ“ کہلائے جانے لگا۔ (سامیوں کی اس دوسری سلطنت کے قیام کے بعد سومیری سیاسی لحاظ سے تاریخ میں دوبارہ تو نہ ابھر سکے تاہم شام اور میسوپوٹیمیا میں ان کا ثقافتی ورثہ بعد کی تہذیبوں کے لیے بطور اساس موجود رہا ) ۔
تہذیبی لحاظ سے اموری یا ”قدیم بیبلیونیہ“ دور کی اہم کنٹری بیوشن تو حمورابی کا دیا گیا مشہور ضابطہ قانون (Code of Law ) ہے۔ جن میں کئی قوانین اور ضابطے شولگی ( ریاست ار کے سومیری بادشاہ شولگی ) کے دور سے رائج تھے۔ حمورابی نے ان میں اضافے کر کے ان کو الواح پر کندہ کرا کر کے جابجا نصب کرا دیے جن میں کئی الواح ( تختیاں ) آثار قدیمہ کی کھدائی سے ملی ہیں ) حمورابی کوڈ لا اینڈ آرڈر، جرائم کی سزاؤں معاہدات، خانگی امور، اشیا کی قیمتوں، تجارت، قرضہ جات، معالجوں اور معماروں کے لیے پیشہ ورانہ معیار تک زندگی کے ہر پہلو اور شعبے سے متعلق ضوابط پر مشتمل تھا۔
مگر اس ضابطہ کے علاوہ انتظام حکومت اور نئے تجارتی طریقوں کے حوالے سے بھی حمورابی کا دور نمایاں ہے۔
عبوری دور اور چھوٹی قوموں کا زمانہ۔
حمورابی کی موت کے بعد اس کی سلطنت زیادہ عرصے تک قائم نہ رہ سکی۔ مشرقی پہاڑوں کے قبائل حملہ آوار ہونے لگے 1750 ق م کے بعد وہ خطے پر قابض ہوتے گئے اور اگلے 600 سال یہاں کے مالک رہے۔ اسی دور کو عبوری یا چھوٹی قوموں کا دور کہا جاتا ہے۔ حمورابی سلطنت کے خاتمے کے بعد ایشیا کوچک سے ابھری ایک نئی طاقت ”ہٹیٹی“ غالب ہو گئی جس کی وجہ سے اسی زمانے میں سرگرمیوں کا مرکز ایشیا، کوچک شام اور فلسطین کی طرف منتقل ہو گیا تھا
ہٹیٹی Hitties۔
یہ آریائی نسل باشندے تھے جو ایشیا کوچک میں آباد ہو گئے تھے 1400 ق م میں انطالیہ ( جدید ترکی ) میں سلطنت قائم کی جو 1300 ق م یہ سلطنت اپنے عروج پر پہنچ گئی جب یہ ایشیا کوچک سے لے کر لیونت ( شام ) اور بالائی (شمالی) میسوپوٹیمیا تک پھیل گئی۔
تاہم ساحل کے جنوبی جانب اس کی بتدریج پیشرفت سے مصر کو تشویش لاحق ہوئی۔ جس کی وجہ سے ان دونوں سلطنتوں کے درمیان ایک طویل کشمکش شروع ہوئی جس کے نتیجے میں دونوں طاقتیں کمزور ہو گئیں۔ ہٹٹیوں کا عروج حتم ہو گیا۔ 1200 ق م کے قریب اس کی سلطنت بکھر گئی۔
ہٹٹیوں کے تہذیبی اثرات۔
اگرچہ تہذیبی خدمات کے حوالے سے عرصے تک مورخین نے اس کو نظر انداز کیے رکھا مگر ترکی میں اس کے شاندار شہر کے کھنڈرات بمعہ 20 ہزار سے زیادہ الواح ( مٹی کی تختیوں ) کی دریافت نے اس کی اہمیت اجاگر کی ہے۔ اگرچہ ہٹیٹی تہذیب بیبولینیہ اور مصر کے پایہ کی تو نہ تھی تاہم عصری تہذیبوں پر اس کا خاطر خواہ اثر رہا ہے۔ اس کے طرز تعمیر کے بعض اجزا کو ”اشاریوں“ نے نقل کی۔ اس کے علاوہ اس نے فن تحریر کے انجذاب اور پھیلاؤ میں بھی رول ادا کیا۔ بیبولینیہ کے الواح کریٹ تک غالباً ہٹٹیوں ”کے ذریعے پہنچیں۔
ان کی سب سے اہم کنٹری بیوشن یہ ہے کہ سب سے پہلے لوہے بنانے کا فن دریافت کرنے والوں میں ان کا شمار ہوتا ہے اور ان کے ذریعے مشرق قریب میں یہ متعارف ہوا۔
ہٹیٹی سلطنت کے خاتمے کے بعد ایشیا کوچک میں ”لیڈیا“ ( Ledya ) ایک طاقتور ریاست کی حیثیت سے ابھر آیا۔ اس ریاست کا ایک اہم کارنامہ سکہ کرنسی (coin currency ) کا آغاز ہے۔ شام کی چھوٹی ریاستوں ( فونیشی، عبرانی اور ارمینی) کے برعکس لیڈیا نے اشوریوں کے مقابل اپنی آزادی برقرار رکھی۔ 6 ویں صدی ق م میں ایرانی فوج نے اس پر تسلط جما لیا۔
جہاں تک میسوپوٹیمیا کا تعلق ہے تو 1200 ویں صدی ق م میں ہٹٹیوں کے انہدام کے بعد خطہ کسی بڑے مرکزی سلطنت کے بغیر رہا۔ مصر کمزور ہو چکا تھا بیبولینیہ غیر اہم ہو گیا تھا۔ اشوریہ نے ابھی طاقت نہیں پکڑی تھی۔
انہی حالات میں اگلے لگ بھگ 500 سال تک کے عرصے میں خطے میں کئی چھوٹی موٹی ریاستیں نشو و نما پذیر ہوئیں۔
اسی دور کو عبوری یا چھوٹی قوموں کا دور کہا جاتا ہے۔ کیونکہ اس عرصے میں خطہ کسی بڑی مرکزی طاقت کی نگرانی کے بغیر رہا۔ زیادہ تر چھوٹی قومیں متحرک رہیں اور متعدد کلچرز انفرادی طور پر تو پنپتے رہے مگر یکساں ثقافت کو رائج کرنے والی کوئی بڑی سلطنت موجود نہیں تھی۔ یوں بیبولینیہ تہذیب، جس کا آغاز سومیریوں نے کیا تھا اور سامیوں اور بالخصوص حمورابی نے آگے بڑھایا، کو گہن لگ گیا۔
ہٹٹیوں کے زوال کے بعد ایشیا کوچک میں تو اہم ریاست ”لیڈیا“ کی رہی جبکہ ہلال زرخیز میں چھوٹی اقوام میں ”فونیشین“ ، ”آرمینئین“ اور ”عبرانیوں“ کی ریاستیں اہم رہیں۔
چھوٹی اقوام۔
فونیشین۔
(Phoenician )
یہ سامی النسل تھے۔ یہ ہلال زرخیز کے مغربی سرے پر تیسرے ہزار قبل مسیح سے آباد ہو گئے تھے۔ انہوں نے اپنی آبادیاں ساحلوں پر بسائی تھیں۔ طائر (Tayer ) اور سیدون (Sidon ) ان کے اہم شہر تھے۔ ”سارگوں“ اور ”حمورابی“ کے زیر تسلط رہے۔ 1600 ق م میں فرعون مصر کے رعایا بنے۔ اگلے 400 سال تک بھی غیر ملکی حکومت کے تحت رہے۔ 1200 ق م کے لگ بھگ ”حطی“ اور مصر کے زوال پذیر ہونے پر ان کو خودمختار کردار ادا کرنے کا موقع ملا۔ بہت مختصر مدت میں وہ بڑے کامیاب تاجر، جہاز ران اور کالونی ساز بنے۔ اس کی ایک اہم آبادی کارتھیج تھی۔
جہاز رانی اور تجارتی طریقوں میں مہارت رکھتے تھے۔ اگرچہ علم ادب اور آرٹ میں وہ کوئی قابل ذکر کام نہیں چھوڑے ہیں تاہم ان کا بڑا کارنامہ حروف تہجی کی تکمیل ہے
ارمینین (Armaneans ) ۔
یہ بھی سامی النسل تھے۔ جو دوسرے ہزاروی ق م کے آخری نصف میں شام کی طرف سے میسوپوٹیمیا میں آئے تھے۔ یہاں بعد میں انہوں چھوٹی چھوٹی بادشاہتیں قائم کیں جن میں اہم ”دمشق“ کی بادشاہت تھی۔ یہ بیبولینیہ کے شاہراہ کاروان ( Carvan Route ) پر واقع تھی۔ کئی صدیوں تک ارمینی شہر شام اور فلسطین میں اشوری توسیع کی راہ میں بفر (Buffer) بنے رہے۔ جس کی وجہ سے عبرانی بادشاہتیں کافی عرصے تک قومی آزادی سے بہرہ مند رہیں۔ 732 ق م میں ارمینوں پر اشوریوں نے غلبہ حاصل کر لیا۔
عبرانی ( یہودی) ۔ یہ سامی النسل لوگ کئی صدیوں تک خانہ بدوش رہے۔ 1400 سے 1200 ق م کے درمیان کنعان ( فلسطین ) میں آباد ہو گئے
حضرت موسی علیہ السلام کی قیادت میں مصر کی غلامی سے نجات پانے کے بعد کچھ عرصہ صحرائے سینا میں مقیم رہے
1025 ق م میں شام اور فلسطین میں اسرائیلی ریاست تشکیل دی جو حضرت سلیمان علیہ السلام کے بعد دو حصوں ( شمالی اسرائیل اور جنوبی جوڈا) میں تقسیم ہوئی۔ 722 ق م میں اشاریوں نے شمالی ریاست اسرائیل کا خاتمہ کر دیا۔
جبکہ 586 ق م میں کالدانی بادشاہ ”بخت نصر“ نے یروشلم ( جوڈا) پر قبضہ کر لیا۔
عبرانیوں نے اگرچہ جنگ، ڈپلومیسی، تعمیرات اور آرٹ کے شعبوں میں تو کم اثر ڈالا تاہم اخلاقیات اور مذہب کے حوالے سے عالمی تہذیب کے لیے ان کی کنٹریبیوشن منفرد ہیں
اشوری سلطنت کا ظہور۔
بیبولینیہ کے شمالی حصے میں واقع ”اشوریہ“ اپنی بقا کے لیے کبھی بیبولینیہ اور کبھی ”ہٹیوں“ کے ساتھ نبرد آزما رہا۔ اور اسی تگ و دو میں بالآخر ایک طاقت کی حیثیت کے ساتھ ابھر آیا۔ 10 ویں صدی ق م کے اخیر میں اشوریوں نے فتوحات کا آغاز کیا۔ 910 ق م میں بیبولینیہ کو فتح کیا۔ اس کے ایک۔ بادشاہ ”اسور نصر پال“ Asurnasirpal ( 884 تا 860 ق م ) نے آرامیوں کے خلاف کامیاب مہموں کے ساتھ بحیرہ روم تک پیش قدمی کی۔ اگر چہ اشوری سلطنت کو کچھ عرصہ ناکامیوں سے بھی پالا پڑا۔ تاہم ان وقتی ناکامیاں کے بعد اس کے ایک بادشاہ ”تگلت پیلسیر“ Tiglath Pileser) نے پھر سے توسیع کا آغاز کر دیا۔ بیبولینیہ اور شام کو دوبارہ فتح کیا۔
722 ق م میں، اشاریہ میں ایک نئی بادشاہت
برسر اقتدار آئی۔ اس سلسلہ کے پہلے بادشاہ نے اکادی بادشاہ کے نام پر ”سارگوں دوم“ کا خطاب اختیار کیا۔ اس نے اپنی فتوحات کے سلسلے سے تمام میسوپوٹیمیا پر قبضہ کر لیا
اپنے عروج کے دور میں یہ سلطنت مشرق میں ایرانی سطح مرتفع سے لے کر مغرب میں مصری شہر تھیبرس (Tebres) تک پھیلی تھی۔ ”ان کا دارالحکومت“ نینوا ” (Ninva ) وقت کا بڑا شاندار شہر تھا۔
اشوری بنیادی طور پر جنگجو لوگ تھے۔
جانوروں کی مجسمہ سازی، فوجی اور انتظامی میں بعض ترقیات کے علاوہ اشوریوں نے تہذیبی حوالے سے کچھ زیادہ نیا حصہ نہیں ڈالا ہے تاہم ان کا زیادہ تر کردار دوسری تہذیبوں کے اچھے عناصر کو ملا کر نئی صورت دینے اور خطے میں پھیلانے تک رہا۔
انہوں نے بابلیوں کے ”ادب“ سومیریوں کے ”دیوتاؤں“ اور میسوپوٹیمیا کے ”آرٹ“ کو اختیار کیا۔
اشوری بادشاہوں کا ایک بڑا کارنامہ ماضی کی تاریخ کو محفوظ کرنا بھی ہے۔ بادشاہوں کی تاریخ کو کافی صحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اسور بنی پال نے 22000 سے زیادہ الواح پر مشتمل لائبریری بنا لی تھی۔ کافی سرمائے اور محنت سے خطے سے متعلق معلومات کو شاہی لائبریری کے لیے اکٹھا کیا گیا۔ جن میں سومری مذہب کے بھجن، رسومات، تخلیق اور طوفان سے متعلق کہانیاں، زبان کا گرامر، اور طب سے متعلق متون ( Texts ) اس لائبریری میں جگہ پا گئے۔
زوال۔ 7 ویں صدی ق م کے وسط میں اشوری سلطنت کا زوال ظاہر ہونے لگا۔ جنوب کی جانب بیبولینیہ میں ایک اور سامی النسل لوگ ”کالدانی“ (Chaldian ) ابھرنے لگے تھے۔ جنہوں نے اشوری حکومت کے خلاف بغاوت کردی۔
شمال میں پہاڑی قبائل اشوری سرحدات کے لیے مسلسل خطرہ بن گئے تھے۔
جبکہ شمال اور شمال مشرق کی طرف سے انڈو یورپین ( آریائی نسل ) میڈائی اور ایرانی آمادہ بہ جنگ تھے۔
616 ق م میں ”کالدانیوں“ نے بیبولینیہ پر قبضہ کر لیا۔ اور/ 605 / 612 ق م انہوں نے میڈیوں کے ساتھ مل کر اشوری دارالحکومت ”نینوا“ پر قبضہ کیا اور اپنے وقت کے اس شاندار شہر کو جلا کر تباہ کیا۔
کالدانی سلطنت ( نیا بیبولینیہ) ۔
612 ق م میں اشوری سلطنت کے حاتمے پر اس کے ورثے کے لیے چار طاقتیں ( میڈیا/ ایرانی، کالدانی، مصر اور لیڈیا) میدان میں تھیں
میڈائی آریا نسل تھے۔ جو 1000 ق م کے لگ بھگ اشوریا کے مشرق میں خود کو مستحکم کر چکے تھے۔ 8 ویں صدی ق م میں وہ ایک مضبوط بادشاہت جس کا صدر مقام ”اسپاتانہ“ تھا، قائم کر لی تھی اور اپنے حکمران ”سائگرس“ کی زیر قیادت دریا دجلہ کے مشرق پر آباد ایرانیوں پر اپنا تسلط بڑھا چکے تھے۔ میسوپوٹیمیا کے سطح مرتفع ( بالائی حصے ) پر بھی قابض ہو گئے تھے جبکہ کالدانیوں نے اپنی دارالحکومت ”بیبولینیہ“ سے جنوبی حصے پر اپنا تسلط قائم کر لیا۔
606 ق م میں ”بحت نصر“ کالدانی بادشاہ بنا جس نے بابل کو ایک ہزار پہلے کے حمورابی دور والا شاندار مقام عطا کیا۔
اس نے شام سے مصریوں کو نکال باہر کیا۔ ریاست ”جوڈیہ“ کے عبرانیوں ( یہودیوں ) نے بغاوت کی تو بحت نصر نے 586 ق م میں یروشلم کو تباہ کر کے ہزاروں یہودیوں کو بابل لے جا کر قیدی بنا لیا۔ بابل کی پھر سے تعمیر کر کے اس کو اپنے زمانے کا عظیم شہر بنا دیا۔ یونانی مورخ ”ہیروڈوٹس“ نے اس کے گرد بنے شاندار دیوار کا نقشہ تفصیل سے بیان کیا ہے
آج بھی بابل کے مشہور عظیم مینار اور دوسری عمارتوں ( عبادات خانوں اور محلات وغیرہ ) کے کھنڈرات بہترین کالدانی طرز تعمیر کے گواہ ہیں۔
یہاں کے مشہور معلق باغات ( Hanging Gardens) اتنے شاندار تھے کہ یونانی ان کو قدیم دنیا کے سات عجائبات میں شمار کرتے تھے۔
کالدانی دور کو ”نیا بیبولینیہ“ دور بھی کہا جاتا ہے۔
کالدانیوں کی سائنسی خدمات۔
علم ہئیت Astronomy کے میدان میں ان کی کنٹریبیوشن کو اہمیت حاصل ہے۔
گو فلکیات میں ان کی دلچسپی علم نجوم کے سلسلے میں تھی اس لیے ان کا علم ہیئت ابتدائی اور غیر منطقی تھا تاہم اس سے فلکیات کے منظم مشاہدے کی حوصلہ افزائی ہوئی۔ ویسے تو علم نجوم قدیم بیبلیونیہ میں بھی رائج تھا مگر کالدانیوں کے مشاہدات نسبتاً زیادہ درست اور مکمل تھے۔ گرہنوں کی پیشن گوئی ایک عام سی بات تھی اور تین سو سال سے اجرام فلکی کا مسلسل مشاہدہ کیا جاتا رہا تھا۔ جس کے بارے ان کی فراہم کردہ معلومات سے بعد کے ماہرین فلکیات استفادہ کر کے اس پر بتدریج علم ہئیت کی تعمیر کی۔ اور یوں اس علم کے سلسلے میں اہل بابل کی حاصلات کی اپنی اہمیت ہے۔
ایرانی دور۔ بخت نصر کے چالیس سالہ طویل حکمرانی میں بیبولینیہ نے بلاشبہ شاندار ترقی کی مگر اس کی موت کے بعد سلطنت تیزی سے بکھرنے لگی۔ ہمسایہ ملک فارس میں ایرانیوں نے میڈیا کے تسلط سے آزادی حاصل کر کے 549 ق م میں اس کے صدر مقام ”اسپاتانہ“ پر قبضہ کر لیا۔ میڈائیوں نے ایرانی بادشاہ ”سائرس“ کی اطاعت تسلیم کر لی۔ جس نے اگلے 20 سال میں ایک بڑی سلطنت قائم کر لی۔ 546 ق م میں ریاست لیڈیا کے امیر بادشاہ ”کروسس“ کو شکست دی۔ اسی دوران یونان کے ایونی شہروں پر بھی قبضہ کر لیا۔ پھر مشرق کی جانب انڈیا کی سرحدوں تک اپنا اقتدار پھیلا دیا۔
اس کے بعد اس کا اگلا ہدف بیبولینیہ بنا جو بغیر کسی مزاحمت کے 539 ق م میں اس کے قبضے میں آ گیا۔ یوں یہاں سے ایرانی دور کا آغاز ہوتا ہے۔ جو سکندر اعظم کی زیر قیادت یونانیوں کی فتح تک جاری رہتا ہے۔

