مریم، بلاول اور مونس میں فرق


بچے تو سب کے ہی ہوتے ہیں لیکن کچھ بچے عقل مند، ذہین، باشعور اور سمجھدار ہوتے ہیں جو کسی جگہ بھی اپنے والدین کی بدنامی کا باعث نہیں بنتے بلکہ وہ ہمیشہ والدین کا سر فخر سے بلند کرتے ہیں۔ جبکہ کچھ بچے والدین کو منہ دکھانے لائق نہیں چھوڑتے۔ ایک وقت تھا پورا سسٹم نواز شریف کے خلاف کھڑا ہو گیا لیکن مریم نواز اپنے والد کے سامنے ڈھال بن کر کھڑی ہو گئی۔ نواز شریف کو توڑنے کے لئے مریم نواز کو بھی اذیت دی گئی لیکن نہ نواز شریف نے ڈھیل دکھائی نہ مریم نواز نے لچک کا مظاہرہ کیا۔

مریم نواز نے کہا تھا میں نواز شریف کو مرسی نہیں بننے دوں گی ”مرسی مصر کے سابق صدر تھے جو کمرہ عدالت میں انتقال کر گئے تھے“ ۔ مریم نواز نے سٹینڈ لیا اور اپنے موقف پر ڈٹ گئی۔ وقت گزرتا رہا مریم نواز مضبوط اور بڑے قد کاٹھ والی سیاسی لیڈر بن گئی۔ مریم نواز نے اپنے والد کو بھی بچا لیا اور اپنی جماعت کو بھی بند گلی سے نکال کر کھلے میدان میں لے آئی۔ مریم نواز کے سٹینڈ لینے کی وجہ سے ہی آج مسلم لیگ (ن) کا ٹکٹ ہر امیدوار کی پہلی ترجیحی بن چکا ہے۔

اس کا کریڈٹ مریم نواز کو جاتا ہے جس نے عورت ہونے کے باوجود دو بار ناکردہ گناہ میں جیل کاٹی اور اذیتیں برداشت کیں۔ دوسری جانب بلاول بھٹو بھی کم عمری میں ہی سیاسی میدان میں آ گئے۔ بلاول بھٹو نے جس وقت سیاست کے میدان میں قدم رکھا وہ وقت ان کے والد اور پھپھو سمیت پوری جماعت کے کڑے امتحان کا وقت تھا۔ ایک طرف پیپلز پارٹی کو پھر سے دیوار سے لگایا جا رہا تھا دوسری طرف بلاول بھٹو سیاست کی سیڑھیاں چڑھ رہے تھے۔

بلاول بھٹو نے کم وقت میں بڑے جلسے کر کے اور اپنے جوش خطابت کی بدولت خود کے بھٹو خاندان کا حقیقی وارث ہونے کا ثبوت بھی دیا۔ بلاول بھٹو کا انداز گفتگو اور لب و لہجہ بالکل بینظیر بھٹو صاحبہ جیسا ہے۔ ان کے لہجے میں ایک ہی وقت میں مٹھاس بھی ہے اور تلخی بھی ہے۔ بلاول جب بولتا ہے تو اس کی گونج بھی دور تک سنائی جاتی ہے۔ موجودہ دور حکومت میں مریم نواز اور بلاول بھٹو کے ساتھ مولانا فضل الرحمن کی مقبولیت میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

مولانا فضل الرحمن کی پہلے طاقت بلوچستان تک محدود تھی جبکہ کے پی کے میں چند جگہوں پر ان کی پارٹی مقبول تھی لیکن اس وقت پورے کے پی کے میں مولانا فضل الرحمن کا طوطی بول رہا ہے۔ آئندہ جنرل الیکشن میں مولانا فضل الرحمن کی قومی اسمبلی میں کم از کم 25 سے 30 سیٹیں ہوں گی ۔ جبکہ قوی امکان ہے کے پی کے میں مولانا فضل الرحمن کی ہی حکومت ہوگی اور بلوچستان میں بھی مولانا فضل الرحمن کی جماعت باقی اتحادی جماعتوں باپ، مینگل، جمہوری وطن پارٹی، بلوچ نیشنل وغیرہ کے ساتھ مل کر حکومت بنائیں گے۔

ان تینوں شخصیات کے مقابلے میں عمران خان کی جتنی مقبولیت تھی وہ اتنے ہی غیر مقبول ہو چکے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ ان کے بڑے بڑے دعوے تھے جو وقت کے ساتھ کھوکھلے ثابت ہوئے ہیں۔ عمران خان نے وزیراعظم بننے کے بعد پہلی تقریر میں بھی دعوے کیے اور گزشتہ دنوں پریڈ گراؤنڈ میں بطور وزیراعظم اپنی آخری تقریر میں بھی صرف دعوے ہی کیے۔ خان صاحب کو شاید معلوم نہیں ہوسکا کہ حکومت میں آ کر دعوے نہیں کیے جاتے بلکہ ڈلیور کیا جاتا ہے۔ جو حکمران ڈلیور نہیں کرتا وہ عوام میں مقبول لیڈر کیسے بن سکتا ہے۔

ہاں عمران خان تقریریں کرنے کے ماہر ہیں جس کی بدولت ایک مخصوص قسم کی مخلوق ان کی دیوانی ہے۔ اب بس وہی مخلوق عمران خان کے ساتھ رہ گئی ہے باقی سب باری باری ان کا ساتھ چھوڑ کے جا چکے ہیں۔ اگر ان کے ساتھ کوئی اور رہ گیا ہے تو وہ گجرات کے چوہدری رہ گئے ہیں۔ جو اپنے ایک بچے مونس الہی کی بات کا مان رکھتے رکھتے اپنی زندگی بھر کی سیاست کو داؤ پر لگا بیٹھے ہیں۔

چوہدریوں نے اس جوئے میں بازی لگائی ہے جو کھیلنے سے پہلے ہی ہار چکے ہیں۔ مسلم لیگ (ق) کے معاملات جب تک چوہدری شجاعت کے ہاتھ میں تھے تب تک ق لیگ بھی اپنا وزن برقرار رکھے ہوئے تھی۔ جیسے ہی پارٹی کے معاملات پرویز الہی کے ہاتھ میں آئے ق لیگ بھی عمران خان کی طرح کھڈے لائن لگ گئی۔ عمران خان اور پرویز الہی کی سیاست کا جنازہ نکالنے والا ایک ہی شخص ہے جس کا نام فیض حمید ہے۔ پرویز الہی فیض حمید کے اشاروں پر چلنے کی بجائے اگر اپنے بڑے چوہدری شجاعت کی بات مان لیتے تو آج اس طرح تماشا نہ بنتے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments