قصہ ایک پراسرار خط کا


وزیراعظم نے اسلام آباد جلسے میں اپنے طویل خطاب میں حسب توقع نہ تو کوئی سرپرائز دیا اور نہ ہی ترپ کا کوئی پتہ دکھایا۔ مگر کاغذ کا ایک ٹکڑا واسکٹ کی جیب سے نکال کر ہوا میں لہرا دیا اور کہا۔ انہیں ایک دھمکی آمیز خط موصول ہوا ہے۔ جس میں یہ پیغام درج ہے۔ کہ اگر تحریک عدم اعتماد ناکام ہوئی۔ تو عمران خان کو سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔ اس پراسرار خط کو مراسلہ کہیں یا دھمکی آمیز پیغام، آج کل کے جدید دور میں فرسودہ طریقے سے خط کا موصول ہونا بڑے اچنبھے کی بات ہے۔

اگر کسی ملک کی جانب سے وزیراعظم کو دھمکی دینا ہی مقصود ہوتا۔ تو ہاٹ لائن پر کال بھی کی جا سکتی تھی۔ جیسا کہ نائن الیون کے سانحے کے موقع پر جنرل مشرف کو کی گئی تھی۔ خط کے ذریعے دھمکی دینے کی بات سمجھ میں نہیں آئی۔ وہ کون سا ملک ہو گا جو سفارتی آداب سے بے بہرہ ہو کر ایسی حرکت کرے گا۔ عقل اس بات کو تسلیم نہیں کرتی۔ کیا کسی نمائندے یا پاکستان میں تعینات اپنے سفیر کے ذریعے زبانی دھمکی نہیں دی جا سکتی تھی۔

اگر خط کو بڑے غور سے دیکھا جائے۔ تو وہ ایک عام سا کاغذ کا ٹکڑا دکھائی دیتا ہے۔ ایسا کاغذ عام طور پر سٹوڈنٹ استعمال کرتے ہیں۔ جب کہ کسی ملک کی طرف سے دوسرے ملک کو جو مراسلہ ارسال کیا جاتا ہے۔ وہ آرٹ پیپر پر تحریر کیا جاتا ہے اور نیلے، سبز یا پیلے رنگ میں ہوتا ہے۔

یہ بات بھی زیادہ پرانی نہیں ہے کہ ماضی میں جب جنرل ضیاءالحق نے بھارتی وزیراعظم کو ایٹم بم کے استعمال کی دھمکی دی تھی۔ اس وقت انہوں نے راجیو گاندھی کو خط نہیں لکھا تھا۔ بلکہ وہ کرکٹ میچ دیکھنے کے بہانے بھارت پہنچ گئے تھے۔ اور جے پور کے ہوائی اڈے پر بھارتی وزیراعظم کے کان میں یہ بات ڈالی تھی۔

جہاں تک سمجھ میں آنے والی بات ہے، مجوزہ خط کا جلسہ عام میں لہرایا جانا وزیراعظم کی سیاسی چال بھی ہو سکتی ہے۔ جس کا واحد مقصد قومی سیاست قیادت کو بدنام کرنا ہے۔ وفاقی وزراء نے ایک پریس کانفرنس میں نواز شریف کو اس سازش میں ملوث قرار دے کر اس بات کا ثبوت بھی دے دیا ہے۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کو کیا ضرورت پڑی تھی۔ کہ وہ اس طرح کے گھناؤنے اقدام میں اپنا حصہ ڈالتے۔ یہ تو اپنی بنی بنائی مقبولیت ختم کرنے والی بات ہوئی۔

اپوزیشن قیادت نے وزیراعظم کو مشورہ دیا ہے کہ خط کو پارلیمنٹ میں اور یا قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں پیش کیا جائے۔ جو کہ نیشنل سیکورٹی کے حوالے سے مناسب فورم ہیں۔ جب کہ عمران خان اپوزیشن کے اس مطالبے کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ جس سے خط کی صداقت پر سوالیہ نشان پیدا ہوتے ہیں۔

جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے اس بات کی بھی پیش کش کی تھی۔ کہ خط آف دی ریکارڈ صحافی برادری کو بھی دکھایا جاسکتا ہے۔ عمران خان کو اپنے مند پسند صحافیوں کو اس معاملے میں ڈالنے کے بجائے فوری طور پر نیشنل سیکورٹی کمیٹی کے اجلاس میں اس حساس ترین اiشو کو ڈسکس کرنا چاہیے۔ تاکہ متعلقہ ملک کے خلاف ایک قومی حکمت عملی تیار کی جا سکے۔

اسکے علاوہ کسی دوسرے ملک کو اس بات میں کیا دلچسپی ہو سکتی ہے کہ تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو یا ناکام۔ پاکستان جیسا ملک جو آج کل سفارتی تنہائی کا شکار ہے۔ اس سے کسی کو کیا خطرہ ہو سکتا ہے۔ ہمیں تو افغانستان بھی گھاس نہیں ڈال رہا۔ باقی ممالک کو تو چھوڑیں۔

وفاقی وزراء نے یہ بھی کہا ہے۔ اگر چیف جسٹس مناسب سمجھیں تو ان کو خط دکھایا جاسکتا ہے۔ مگر یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہے۔ کہ وزیراطلاعات فواد چوہدری نے فرمایا ہے۔ مجوزہ خط چیف جسٹس کو بطور ایک جج کے نہیں بلکہ ایک بڑے کی حیثیت سے دکھایا جائے گا۔

اس بات سے قطع نظر کہ اس معاملے سے قومی سلامتی یا خارجہ تعلقات پر حرف آنے کا خدشہ ہے۔ حکومت پاکستان کو عالمی سطح پر اس معاملے کو اٹھا کر اس سازش کو ناکام بنانا چاہیے۔ کیوں کہ دھمکی آمیز مراسلے کا کسی ملک کو بھیجنا سفارتی آداب کے منافی عمل ہے۔

ایک سوچ کے مطابق مجوزہ خط پلانٹڈ اور فیک بھی ہو سکتا ہے۔ اس کی تیاری آج کل کے جدید دور میں مشکل نہیں ہے۔

وزیراعظم کے اس الزام کی مماثلت جناب بھٹو کے اس خط سے بھی ملتی ہے۔ جو وہ تاشقند سے واپسی پر جلسوں میں لوگوں کو دکھایا کرتے تھے۔ قارئین کو اچھی طرح یاد ہو گا۔ کہ یہ سلسلہ کئی سال تک چلتا رہا۔ اب بھی عمران خان نے بھٹو شہید کی نقالی کرتے ہوئے یہ ڈرامہ ترتیب دیا ہے۔ تاکہ عوام کی نظروں میں اپنے آپ کو مظلوم بنا کر پیش کیا جائے۔

دوسری طرف اپوزیشن راہنماء مریم نواز نے وزیراعظم پر طنز کرتے ہوئے کہا ہے۔ آپ تو اپنے آپ کا عالمی راہنماء سمجھتے تھے۔ روس اور یوکرین کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے کی خواہش رکھتے تھے۔ آپ تو مغرب کو مغربی ممالک سے بہتر جانتے تھے۔ آپ کو دھمکی آمیز پیغام کا ملنا حیران کن ہے۔

دراصل وزیراعظم صاحب اقتدار کو اپنے ہاتھ سے جاتا دیکھ کر ڈرامہ بازی پر اتر آئے ہیں۔ پہلے انہوں نے آئین کے آرٹیکل تریسٹھ اے کو بنیاد بنا کر سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس دائر کیا۔ تاکہ منحرف اراکین قومی اسمبلی کے سروں پر تاحیات نا اہلی کی تلوار لٹکا کر انہیں ڈرایا جائے۔

اب جب کہ اپوزیشن حکومتی اتحادیوں کو اپنے ساتھ ملا کر اپنے نمبر پورے کرچکی ہے۔ پراسرار خط کا شوشہ چھوڑ دیا گیا ہے۔ ایک طاقتور شخصیت کی چھتری تلے تین سال حکومت چلانے والا بے یارو مددگار ہو چکا ہے۔ اب کوئی معجزہ ہی کپتان کی ڈوبتی ہوئی کرسی کو بچا سکتا ہے۔ مگر معجزے روز روز نہیں ہوتے۔

Facebook Comments HS