امریکہ کیوں کپتان سے خوفزدہ ہے؟
بعض لوگ حیران ہو رہے ہیں کہ ایسی کیا بات ہے کہ امریکہ کپتان سے اس قدر خوفزدہ ہے کہ اس کے عہدیداروں نے پاکستانی سفیر کو ایک غیر سرکاری ملاقات میں بعض ایسے پیغامات دیے جو اس نے اپنی روٹین کی بریفنگ میں دفتر خارجہ بھیجے تو کپتان کو بیس لاکھ پلس افراد کے جلسے میں ان کا انکشاف کرنا پڑا کہ کیسے اس کے خلاف غیر ملکی سازش ہو رہی ہے۔ پاکستانی سفیر کے خط کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ اس میں لکھا تھا کہ اگر تحریک عدم اعتماد کامیاب نہ ہوئی اور کپتان وزیراعظم رہا تو پاکستان کو سنگین نتائج بھگتنے پڑ سکتے ہیں۔
جلسے میں کسی ملک کا نام نہیں لیا گیا تھا مگر وزیراعظم نے میڈیا کے نمائندوں سے ملاقات میں بتایا کہ ایک پاکستانی سفیر کو میزبان ملک کے ایک بڑے اہلکار نے کہا تھا کہ اس کے ملک کو وزیراعظم کی خارجہ پالیسی سے بالعموم اور روس کے دورے اور یوکرین کے معاملے پر موقف سے سخت اختلاف ہے۔ سفیر کو مزید بتایا گیا کہ مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کا انحصار اپوزیشن کی جانب سے پیش کی جانے والی عدم اعتماد کی کامیابی پر ہے۔
اب امریکی مان ہی نہیں رہے کہ اس ملاقات میں پاکستانی سفیر کو کوئی خاص پیغام دیا گیا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے کوئی خط نہیں لکھا۔ ”ان الزامات میں سچائی نہیں“ ۔
اب ظاہر ہے کہ کپتان نے یہ الزام لگایا ہے تو اس میں سچائی نہ ہونے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ کپتان نے اپنی قوم سے وعدہ کیا ہوا ہے کہ وہ کبھی جھوٹ نہیں بولے گا۔ پھر اس خط کا کیا پس منظر ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ کپتان کے روس کے دورے کے بعد امریکہ پر کپکپی طاری ہو گئی ہے۔ وہ سوچ رہا ہے کہ روس کے پاس پہلے ہی تیل اور گیس کے وسیع ذخائر ہیں۔ اس کے پاس کمی ہے تو بس جدید ٹیکنالوجی کی اور معیشت کے ماہرین کی۔
اگر کپتان کی غیر معمولی وژن کے مطابق پاکستان اور روس کا اتحاد ہو گیا تو روس کو نہ صرف جدید ٹیکنالوجی مل جائے گی بلکہ اسے معیشت کے ایسے ماہرین بھی مل جائیں گے جو کپتان کے ماسٹر پلان کے مطابق روس کی معیشت کو بھی ان ہی خطوط پر کھڑا کر دیں گے جن خطوط پر پاکستانی معیشت کو کھڑا کر کے انہوں نے اسے غیر معمولی طور پر توانا کر دیا ہے۔ سعودی عرب اور چین تک اب پاکستان کی منتیں کر رہے ہیں کہ ہمارا قرضہ ابھی واپس مت کرو ورنہ کپتان انہیں پیسے کب کا لوٹا چکا ہوتا۔ بلکہ مبینہ طور پر اب تو چین سے ایک بہت بڑی رقم مزید لینے کو کپتان آمادہ ہو رہا ہے۔
روس کے پاس بظاہر تو ایٹمی ہتھیار، دور مار میزائل، چھٹی جنریشن کے لڑاکا طیارے، سٹیلتھ ٹینک وغیرہ سب کچھ موجود ہیں لیکن اس کے پاس وہ سپر سائنس نہیں جو پاکستان کے پاس ہے اور جس کے ماہرین اب وافر مقدار میں عبدالقادر یونیورسٹی اور گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے شاذلی انسٹی ٹیوٹ میں پیدا ہو رہے ہیں۔
خوراک کے معاملے میں بھی روس بظاہر اتنی زیادہ گندم پیدا کرتا ہے کہ دنیا کی بہت بڑی آبادی اس کی پیداوار کی محتاج ہے مگر گزشتہ برس پاکستان میں گندم کی ریکارڈ پیداوار دیکھنے کے بعد وہ پاکستان سے جدید زرعی ٹیکنالوجی بھی حاصل کرنا چاہتا ہے تاکہ پہلے سے چار گنا زیادہ گندم پیدا کر کے دنیا کو اپنا محتاج کر دے۔
پاکستان کا چین پر اثر و رسوخ بھی دنیا پر عیاں ہے۔ ان دونوں ممالک میں ہمالیہ سے اونچی، سمندر سے گہری اور شہد سے میٹھی دوستی موجود ہے۔ دونوں میں ایسا برادرانہ تعلق ہے کہ ایک ملک دوسرے کی بات نہیں ٹالتا۔ اگر روس پاکستان کا اتحادی بننے میں کامیاب ہو جائے تو پاکستان کے کہنے پر اسے نہ صرف ارزاں چینی مصنوعات بلکہ چین میں پڑے ہوئے کئی ٹریلین ڈالر اور یورو بھی ادھار مل سکتے ہیں۔
جنگ چھڑنے کی صورت میں روسی دفاعی میزائل ایک خاص حد تک ہی مغربی دفاعی حملے روک سکتے ہیں۔ نیٹو کے ہزاروں ایٹم بموں میں سے پچاس بھی اگر روس کو نشانہ بنانے میں کامیاب ہو گئے تو وہ پھر کئی صدیوں تک سنبھل نہیں پائے گا۔ لیکن پاکستان سے دوستی کے بعد وہ روحانی ہستیاں روس کی بھی مدد کریں گی جنہیں 1965 کی جنگ میں پاکستان کا دفاع کرتے ہوئے ساری دنیا نے دیکھا تھا۔ روس پر برسنے والے بموں کو وہ کیچ کر کے دریائے ڈان اور وولگا کے برفیلے پانیوں میں ٹھنڈا کر دیں گی اور روس محفوظ رہے گا۔
یعنی پاکستان کا اتحادی بننے کے بعد مغرب کے لیے روس کو شکست دینا ناممکن ہو گا۔ سائنس، معیشت اور روحانیت میں وہ ایک بڑی طاقت بن کر ابھرے گا۔
بدلے میں روس پاکستان کو وافر مقدار میں تیل دے گا اور اس کا خلائی سٹیشن وغیرہ بھی پاکستان کے استعمال میں آ جائے گا۔ ویسے تو پاکستانی خلائی ادارہ سپارکو خود بھی اتنی اہلیت رکھتا ہے کہ اپنا خلائی سٹیشن بنا دے اور چاند پر بستیاں بھی بسا دے مگر محض اس وجہ سے ایسا نہیں کیا جا رہا کہ اگر پاکستانی چاند پر چلے گئے تو وہ کس چیز کو دیکھ کر رمضان اور عید کا تعین کریں گے۔ انہیں تو مہینے کے تیس دن پورا چاند دکھائی دیتا رہے گا۔
جیسے ہی کپتان نے روس کا دورہ کیا تو ان ہی وجوہات کے پیش نظر امریکی شدید نروس ہو گئے۔ انہوں نے جلد ہی فارغ ہونے والے ایک پاکستانی سفارت کار کو بہت چالاکی سے خط لکھوایا جس میں کہا گیا کہ اگر کپتان کے خلاف عدم اعتماد کامیاب نہ ہوئی تو پاکستان کو سنگین نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہنا ہو گا۔ امریکہ یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ پاکستان پر عمران خان جیسے دلیر اور دانشمند شخص کی حکومت ہو جسے اگر 2028 تک کا وقت مل گیا تو وہ امریکہ کو بحر اوقیانوس اور بحر الکاہل کے درمیان گھرا ہوا ایک بے اثر جزیرہ بنانے میں کامیاب ہو جائے گا اور باقی دنیا پر عمران خان کی قیادت میں عالم اسلام، چین اور روس کی حکومت ہو گی۔


