معجزاتی ملک اور عجوبہ قوم


اگر 80 کی دہائی کی نسبت سے اپنے دور کی نسل کی بات کروں تو اس وقت بھٹو صاحب کا دور ختم ہو چکا تھا ضیا سے نفرت عروج پر تھی جس میں وقتی طور پر اس کی موت کے ساتھ شدت میں کمی تو نا آئی لیکن بے نظیر کی حکومت آنے سے کچھ عرصہ کے لیے عوام کے اذہان پہ چھائے خوف کے سائے بھی ختم ہوئے۔

اظہر جعفری کے گھر پیدا ہونا اور صحافت سے تعلق کے بنا پر یاد ہے کہ بھٹو صاحب کا سحر اس وقت تازہ تھا گلی محلے چوک چوراہوں پر ایک ہی نام زبان زدعام ہوتا ہم بھی سنتے اور پڑھتے رہتے۔

وقت آگے بڑھا ضیاء الحق بے نظیر نواز شریف جرنل مشرف سے ہوتے ہوئے عمران خان تک پہنچے۔ بھٹو صاحب سے لے کر عمران خان تک سب نے اس قوم کو سہانے خواب دکھائے اور عوام نے مانے بھی وجہ یہ تھی کہ تسلیم کرنے کے علاوہ اس مظلوم قوم کے پاس کوئی اور راستہ نا تھا۔ جمہوریت اور آمریت کی اس کشمکش میں عوام پتا نہیں کہاں لاپتہ ہو گئی۔ جلسوں میں ہر ایک رہبر نے اپنے مخالفین کو غدار جیسے القابات سے نوازا۔ ان سب بلند دعووں کے باوجود ہم 50 سال سے جہاں تھے آج بھی وہیں موجود ہیں۔

مقتدر جو عوام کے حقیقی مسائل کو حل کرنے کا کہتے رہے وہ توجہ ہٹانے کہ لئے نت نئے واقعات معاشرے میں رونما کرواتے رہے۔ اب یہ حال ہے کہ ہمیں نا راستے اور نا ہی منزل کا ادراک ہے۔

آج کل کی نسل سے کیسا شکوہ جب کہ یہاں تو بزرگوں نے بھی خیالی تصورات کو سچ سمجھ کر پرانی سیاسی جماعتوں کو رد کرتے ہوئے ایک نئی جماعت کی ہر بات کو ایسے تسلیم کیا جیسے وہ ریاست کی ہمیشہ سے چلتی آ رہی اٹکھیلیاں نہیں جانتے۔

بھٹو سے لے کر عمران تک اگر سب صحیح تھے تو ہمارے اجتماعی زوال کا ذمہ دار کون ہے؟ اگر یہ سب غلط تھے تو ان کو ہم پر مسلط کرنے والے کیا ہیں؟

ملک کی سرحدوں کے پار ہر کوئی ترقی کر گیا اور ہم مذہبی، اخلاقی، معاشرتی اور آئینی مسائل میں الجھتے ہی چلے گئے۔ جس ملک میں سڑک بنا کر عوام کو باور کرایا جائے کہ یہ حکومت کا احسان ہے ایسے معاشرے میں عام انسان کو اپنے بنیادی حقوق کا کیا خاک خیال رہے گا۔ جس قوم کو روزانہ کی بنیاد پر زہر دیا جائے وہ کیسے جانبر ہو سکتی ہے۔ وسائل چھین کر مسائل تھما دیے۔ جہاں اخلاقیات کا سبجیکٹ صرف اقلیتی طالب علموں کے لیے ہو وہاں اکثریت کیسے مہذب ہو سکتی ہے۔

گھر سے تربیت یہ ملی کہ کسی سے مانگنا نہیں سوائے اپنے حق کے۔ صحت تعلیم اور روزگار فراہم کرنا پوری دنیا میں ملکی حکومتوں کی ذمہ داری ہوتی ہے۔

روٹی کپڑا اور مکان سے شروع ہو کر کانوں میں گونجتے قرض اتارو مہم کے نعرے ہوں یا مشنری سکول میں جب آپ پر بچہ ہوتے ہوئے چندہ مانگنے کی سوچ متعارف کرا دی جائے تو بڑے ہو کر بھی عزت کا کیسے خیال رکھا جا سکتا ہے۔ 90 کی دہائی میں ایک نجی کینسر ہسپتال کے لیے جبری طور پر ہاتھ میں ٹیکٹ پکڑا دی جائے اور اسے بیچنے کے لیے سختی سے حکم بھی صادر کر دیا جائے ایسے میں کیا خود دار سوچ کی نشوونما ممکن ہے؟

افسوس صرف ان لوگوں پر ہے جو سب جانتے ہوئے بھی ہمیں آج تک دھوکہ دیتے آئے اور ہم کھاتے چلے آئے۔

اب جب کہ ٹیکنالوجی دروازہ طور کر اندر گھس آئی ہے اور ہمیں دنیا کے ساتھ تعرف کروا چکی۔ ہم کب تک آنکھیں بند رکھ سکتے ہیں۔

اظہر جعفری اور میری (عون جعفری ) کی بنائی کچھ تصاویر اس لیے پیش کرتا ہوں اور سوال کرتا ہوں کہ تاریخ اپنے آپ کو جتنی مرضی دفعہ دہرائے لیکن کیا ہماری حالت پر رحم کیا جا سکتا ہے۔ ؟

کیا ہمیں پرامن خوش حال ترقی یافتہ جدید انسان دوست معاشرہ آنے والی نسل کے لئے محفوظ ملک دستیاب ہو گا۔

nawaz sharif
نواز شریف پہلی دفعہ وزیر اعلی منتخب ہوئے اور مریم مہنگائی مارچ کرتے ہوئے۔
مریم مہنگائی مارچ کرتے ہوئے
zulfiqar ali bhutto
بھٹو صاحب ٹرین مارچ کر کے لاہور پہنچے
bilawal bhutto zardari
بلاول لونگ مارچ کرتے ہوئے
imran khan
عمران خان کی پارٹی لانچنگ کے ابتدائی دنوں کی تصویر
imran khan
الیکشن سے پہلے آخری خطاب
general zia ul haq
جنرل ضیا الحق
general parver musharraf
جنرل پرویز مشرف
Facebook Comments HS