آپ کس طرح کا رشتہ تلاش کر رہے ہیں؟


ہمارے پڑوس میں ایک فیملی رہتی ہے۔ وہ تقریباً چار سال سے اپنے انجینیئر بیٹے کے لیے رشتے کی تلاش میں تھے۔ بہت ساری ’چائے کی ٹرالی‘ مشق کے بعد انہیں ایک رشتہ بھا گیا۔ بات پکی ہو گئی۔ دونوں خاندان نہایت خوش تھے۔ گزشتہ نومبر میں جوڑے کو شادی کے بندھن میں باندھ دیا گیا۔ شادی کے ٹھیک ایک ہفتے بعد جوڑے کو احساس ہوا کہ انہیں محاورتاً نہیں بلکہ واقعتاً باندھ دیا گیا ہے۔ دراصل ہوا یوں کہ رشتہ لڑکے کی والدہ اور بہنیں اپنی مرضی کا رشتہ تلاش کر رہی تھیں۔

انہیں دراز قد گورے رنگ والی لڑکی چاہیے تھی۔ اس بہو میں یہ دونوں خوبیاں موجود ہیں۔ دوسری جانب لڑکے کو پہلے تو پتہ ہی نہیں تھا کہ جو لڑکی آ رہی ہے وہ اس کی بیوی ہو گی اور اس نے اسی کے ساتھ رہنا ہے۔ پھر اس کے کوئی خاص ائیڈیلز بھی نہ تھے۔ مگر شادی کے کچھ دن بعد جب شوہر نے بیوی سے بریانی کی فرمائش کی تو بیوی نے بتایا کہ اسے تو خانہ داری نہیں آتی۔ یہ سن کر شوہر کو غشی کا دورہ ہی پڑنے والا تھا کیوں کہ اس نے سوچ رکھا تھا کہ امور خانہ داری تو پیکیج کا لازمی حصہ ہوتا ہے۔ یہ شروعات تھیں۔

یہ ہماری معاشرت کی محض ایک مثال ہے۔ لڑکی اور لڑکے کی جانب سے جو کام اپنے گھر میں ہونا چاہیے وہ دوسروں کے گھر میں جا کر رشتہ دیکھنے کی صورت میں ہوتا ہے۔

چوں کہ لڑکے والوں نے لڑکی اپنے گھر لانی ہوتی ہے اور لڑکیوں کی تعداد نسبتاً زیادہ بھی ہے۔ اس لیے لڑکے والے زیادہ چوزی تو ہو جاتے ہیں مگر سوچتے نہیں کہ انہیں کیسا رشتہ چاہیے۔

دراصل ”تلاش رشتہ“ کے ادارے پہ کوئی خاص کام نہیں ہوا۔ نہ ہی کوئی کاونسلنگ یا ذہن سازی ہوتی ہے۔ بد قسمتی سے خاندان کے بڑے بھی اکثر واقعات میں منفی کردار ہی ادا کرتے ہیں۔

جتنا سخت موقف ذات اور برادری کے لیے اپنایا جاتا ہے اگر اس سے نصف سختی اس سوچ بچار پہ کی جائے کہ لڑکی اور لڑکے کی ہم آہنگی کیسے ہو گی تو معاشرہ جنت بن سکتا ہے۔

آرائیں فیملی ہے تو رشتہ آرائیں ہو گا۔ سید کے لیے سید لازمی ہے۔ مہاجر ہے تو لوکل سے بیاہ نہیں کیا جا سکتا، نیازی ہے تو سسرال بھی نیازی ہونا چاہیے۔ خاندانوں کی ہم آہنگی کے لیے خاندانی برابری یقیناً اہم ہے مگر اس سے زیادہ اہم لڑکی اور لڑکے کی ہم آہنگی ہے۔ چچازاد، خالہ زاد اور ماموں زاد سے زیادہ تو خاندانی برابری نہیں ہو سکتی مگر دیکھا گیا ہے کہ کزن میریجز کی ناکامی کی شرح بھی کم نہیں ہے۔ بلکہ کزن میریجز کے بعد خاندان مستقل طور پہ ٹوٹ جاتے ہیں۔

شادی کا ادارہ انسانی پیدائش اور موت کے بعد سب سے اہم ادارہ ہے مگر انسانوں نے اس پہ کوئی خاص کام نہیں کیا۔ ثقافتی جبر کی مدد سے گھرانے چلانے کی کوشش کی اور نتیجے میں ناخوش افراد پہ مبنی معاشرہ قائم کیا۔ جس نے نفسیاتی مریض اداس نسلیں پیدا کیں۔ ٹوٹے گھرانوں کے بچے جو اذیت سہتے ہیں وہ ان کی شخصیات کا حصہ بن جاتی ہے۔ جھگڑالو اور مار پیٹ پہ مبنی چار دیواری میں مقیم بچے، جن کے والدین رہتے تو اکٹھے ایک ہی چھت کے نیچے ہیں مگر ایک دوسرے سے ہزاروں میل دور بستے ہیں، کبھی مکمل شخصیت پیدا نہیں کر سکتے۔

افراد کو اور ان کے خاندانوں کو کیا کرنا چاہیے۔ ؟ اس سوال کا جواب اتنا پیچیدہ بھی نہیں۔

پہلے قدم کے طور پہ افراد کو سوچنا چاہیے کہ انہیں کیسا ساتھی چاہیے۔ کیا لڑکیوں کو صرف مالی طور پہ مستحکم لڑکے چاہییں۔ اور لڑکوں کو خوبصورت لڑکیاں؟ جب کہ شادی کے بعد تقریباً سبھی لوگ اپنے ساتھی میں برداشت، تحمل، خوش اخلاقی اور ہنر تلاش کرتے ہیں مگر شادی سے پہلے رشتے دیکھنے میں ان خوبیوں کی جگہ اول تو ہوتی نہیں اور اگر ہو تو فہرست میں بہت نیچے ہی ہوتی ہے۔

کوئی حرج نہیں کہ آپ خوبصورت یا مالی طور پہ مستحکم ساتھی کی خواہش کریں۔ مگر اس خواہش کے بعد آپ کے ذہن میں ہمیشہ یہ بات رہنی چاہیے کہ جو تلاش تھی وہ مل گئی اب اسی کے ساتھ گزارہ کرنا ہے۔

شادی کرنا مذاق ہر گز نہیں۔ ہر فرد کو اس مختصر جملے کی تعلیم ملنی چاہیے۔ آپ کیسا ساتھی چاہتے ہیں پہلے اس پہ غور و فکر کر لیں۔ پہلے اپنا ذہن بنا لیں کہ معاشرے میں لوگوں نے کس کس طرح کے ساتھی پائے ہیں اور آپ کس طرح کے ساتھی کے ساتھ خوش رہ سکتے ہیں اور یہ کہ آپ کی ضروریات کیا ہیں۔ یہ طے کر لینے کے بعد ، رشتے کے بارے معلومات حاصل کریں۔ یہ طے کر لینے کے بعد ہی اسے دیکھنے جائیں کہ وہ رشتہ آپ کی خواہشات یا ضروریات کے قریب ہے۔

اگر آپ کو چھوٹی فیملی والا رشتہ چاہیے تو بڑی فیملی کو سوچیں ہی نا۔ اسی طرح اگر نوکری کرنے والا ساتھی چاہیے تو یہ سمجھ لیں کہ اس پیکیج میں کیا کیا ملتا ہے۔ اگر پیسے کی ریل پیل ہی آپ کی واحد ترجیح ہے تو کل کلاں اخلاق کی کمی پہ رونے کا حق آپ کو نہیں ہے۔

Facebook Comments HS