سیاسی کشمکش میں بیرونی دلچسپی اور اس کا پس منظر


بیرونی ممالک میں پاکستان میں جاری سیاسی کشمکش کے بارے میں مختلف بیانات کو حقیقی تناظر میں دیکھنے اور سمجھے جانے کی ضرورت ہے۔ یہ سب ان کے مدد گار ہیں اور اپنے بیانات کے ذریعے دراصل ان کو تقویت دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسے ”انورٹڈ انٹیلی جنس“ کہا جاتا ہے کہ ایسا اقدام یا بیان دیا جائے، جو بظاہر کچھ اور تاثر دیتا ہو، لیکن درپردہ اس سے اپنے حامی یا موقف کی تقویت مقصد ہو۔ جیسے اگر کسی گروپ کے خلاف کارروائی کرنی ہو، تو اس کی طرف سے کوئی ایسا مجرمانہ کام خود کروایا جاتا ہے جس کو جواز بنا کر اس گروپ کے خلاف بھرپور کارروائی کر دی جاتی ہے۔

بھارت نے کشمیر میں یہ حربہ کئی بار آزمایا ہے اور اس کے انٹیلی جنس اداروں میں کلیدی پوسٹوں پر تعینات کشمیری پنڈت افسروں کا یہ پسندیدہ ترین حربہ ہے۔ ہماری صفوں میں بھی اس کی مثال موجود ہے مقبول بٹ کو پھانسی لگوانے کی سازش کی شکل میں۔ میرا اشارہ بھارت میں منظم طریقے سے چلوائی جانے والی مہم اور مبینہ امریکی خط کی طرف ہے، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ وہ جس کی مخالفت کریں گے وہ پاکستان کے سادہ لوح عوام کی نظر میں مقبول ہو جائے گا، اور جس کی وہ حمایت کریں پاکستان کے عوام اس کے خلاف ہو جائیں گے۔

اسی بات کو وہ انتہائی مکاری کے ساتھ استعمال کرتے ہیں، اور اب بھی کر رہے ہیں۔ پس منظر دیکھیں تو بھارت اور امریکہ کی جتنی خدمت موجودہ حکومت نے کی ہے اتنا فائدہ اور کسی نے انھیں نہیں پہنچایا۔ امریکہ میں کشمیر پر کوئی عملی قدم نہ لینے کی مفاہمت ہو، جس کا ضامن امریکہ تھا ٹرمپ اور وزیر اعظم صاحب کی مشترکہ پریس کانفرنس ملاحظہ فرما لیجئیے، جس میں ٹرمپ سابقہ حکومتوں کے عدم تعاون کی مذمت اور نیازی صاحب کی حکومت کے شاندار تعاون کی تعریف اور اس پر اپنے ملک کے اطمینان کا اظہار کر رہا ہے۔

پھر واپسی پر نیازی صاحب کا بھارت کی طرف سے کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے پر کہنا کہ میں کیا کروں کیا جنگ چھیڑ دوں، اور یہ کہنا کہ جو کشمیریوں کی کسی قسم کی عملی مدد کرے گا وہ کشمیریوں سے دشمنی کرے گا۔ پھر پارلیمنٹ میں ایک سے زائد بار کہنا، کہ انڈیا خود ہی کوئی بہانہ بنا کر آزاد کشمیر اور شمالی علاقہ پر حملہ کر دے گا اس کے بعد چند امریکی مطالبات جن کا تعلق افغانستان کے بارے میں امریکہ کی منشا کے مطابق اقدامات سے تھا، کو تسلیم کر کے امریکی وقتی ضمانت ملی تو سانس میں سانس آئی۔

اب یہ نیا ڈرامہ شروع کر دیا ہے، یہی امریکی عہدیدار جس سے ایک نجی ملاقات میں یہ خیالات منسوب کئیے جاتے ہیں اسی کو اسلامی کانفرنس میں بلا کر خوشگوار ملاقاتیں کی گئیں۔ اب یہ کہا جا رہا ہے کہ کچھ اعلی عہدے داروں کے تبادلہ جات اس عدم اعتماد کی تحریک کا باعث بنے ہیں، اس سے خطرناک بات اور غیر متنازعہ مقتدر اداروں کی توہین اور کیا ہو سکتی ہے، گویا یہ بلاواسطہ طور پر موجودہ اہم عہدوں پر فائز حضرات پر الزام لگا رہے ہیں۔

یہ احتجاج اس وقت کیوں نہیں کیا گیا جب وہی امریکی عہدیدار اسلامی کانفرنس پر بلوائی گئیں، میرا اس موضوع پر مضمون ”امریکی نقش قدم اور جمہوری افغانستان“ کا مطالعہ فرمائیے۔ تب امریکی عہدیدار کی اسلامی کانفرنس میں موجودگی کی وجہ سمجھ میں آ جاتی ہے۔ یہ مبینہ خط سات تاریخ کو لکھا گیا اور ان کو اب یاد آیا جب عدم اعتماد کی کامیابی سامنے نظر آ رہی ہے۔

Facebook Comments HS