امریکہ کا نیوٹرل ہوجانا اور خان صاحب کی کانپیں ٹانگ جانا


کیا قوم سے خطاب کے دوران خان صاحب کی کانپیں ٹانگ رہی تھی یا سلپ آف ٹنگ کا شاخسانہ تھا؟ جو کچھ بھی تھا بہت ہی کنفیوژنگ اور بورنگ تھا یا یوں کہہ لیں کہ ان کی 22 سالہ جدوجہد کا چربہ تھا۔ یوں لگ رہا تھا جیسے بہت کچھ کہنا چاہ رہے ہیں اور ذہن کے اندر بہت کچھ پکا ہوا ہے، کہتے کہتے کچھ کہہ بھی گئے مگر اس کہے پر بھی یوٹرن لے لیا۔ حالانکہ بہت اچھا موقع تھا جاتے جاتے اپنی خاص بہادری کے جوہر دکھانے کا، مگر کہنے اور کر کے دکھانے میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔

سنتے آئے ہیں ”جو گرجتے ہیں وہ برستے نہیں“ اب عوام نے اس کا عملی مظاہرہ بھی دیکھ لیا۔ وقت کا فیصلہ بہت ظالم اور بے رحم ہوتا ہے جو بڑے بڑے برائے نام قسم کے خود داروں اور لفظی مداریوں کا پول کھول دیتا ہے۔ یورپ کی رگ رگ سے واقف ہونے کا دعوی رکھنے والا ہمارا 1992 کا ورلڈ کپ ہیرو جو ایک بہت منفرد اور چارمنگ قسم کا اسٹیٹس انجوائے کر چکا ہے بھلا امریکہ اسے کیسے دھمکا سکتا ہے؟ فرض کیا اگر کوئی مراسلہ جوش میں آ کر جلسے میں لہرا بھی دیا تھا تو مصلحت آمیز خاموشی اختیار کرنے میں کیا حرج تھا؟

فوراً ہی کہہ ڈالا کہ ”امریکہ کا پاکستان کی سیاسی صورتحال سے کوئی تعلق نہیں ہے اور لیٹر گیٹ والے معاملے کو یکسر مسترد کرتے ہیں“ امریکہ بہادر اتنی بے رخی اچھی نہیں ہوتی تھوڑا بہت لحاظ کرنا تو بنتا تھا۔ خیر سیانے بندوں کا قول ہے ”مائٹ از رائٹ“ مانتے ہیں جناب۔ اور سر تسلیم خم کرتے ہیں، موجودہ تناظر میں تو یہی عقلمندی ہے۔ باقی خان صاحب کی اس بات میں وزن ہے کہ کیسے کوئی ملک دوسرے ملک کو دھمکانے کی جرات کر سکتا ہے؟

بالکل ٹھیک ہے مگر کیا ملکی عزت جذباتی باتوں پر قائم ہوتی ہے یا منڈی کے وسیع ہونے کی وجہ سے؟ یہ تصویر ہماری امپورٹ ایکسپورٹ سے ہی واضح ہو جائے گی زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں ہے مگر یہ کہنا کہ جو رویہ امریکہ پاکستان کے ساتھ اختیار کرتا ہے وہ انڈیا کے ساتھ کیوں نہیں کرتا؟ یہ تو آپ کا صاحب بہادر سے ایک بچگانہ سا گلہ ہے اور اس کا فیصلہ تو ہم معیشت یا بجٹ کا جائزہ لے کر بھی سکتے ہیں۔ مفادات کی اس دنیا میں تعلقات مضبوط معیشت کی بنیاد پر استوار ہوتے ہیں نا کہ غیرت اور جذبات کی کھوکھلی باتوں پر۔

اس کڑوی حقیقت کا مظاہرہ ہم سعودی سرکار کا وہ کلپ دیکھ کر لگا سکتے ہیں جس میں مودی جی کے گلے میں سب سے بڑا سرکاری اعزاز پرویا جا رہا تھا۔ خان صاحب آپ کے پی ایم بننے سے پہلے آپ کی عزت و خود داری والی باتیں سن کر بہت سے آپ کی باتوں کے سحر میں کھو گئے تھے اور آپ کے پی ایم بننے کے بعد بھی سنتے رہے مگر نتیجہ کیا نکلا؟ اور کڑوی حقیقت یہ ہے کہ آپ اس نتیجے کا برملا اظہار کرنے سے بھی قاصر ہیں۔ جن الزامات کی بنیاد پر آپ سابقہ حکمرانوں کو رگیدتے رہے ہیں اب آپ کے خلاف بھی اسی قسم کی چارج شیٹ بن چکی ہے اور وقت وہ تمام راز اگل دے گا جو زبانی دعووں کے نیچے چھپے ہوئے تھے۔

صادق و امین بنانے کی جو لانڈری آپ نے لگائی تھی اس لانڈری کے پروسیس سے گزرنے کے باوجود بھی آپ کے وقتی پیروکار دوسری پارٹیوں کو پیارے ہو چکے ہیں اور آپ کے غیرت دلانے کے باوجود بھی وہ واپس آنے کو بالکل بھی تیار نہیں ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار گٹر زبانی کی ڈکشنری کی بنیاد رکھنے والے پروفیسر شہباز گل، جو امریکا کی ایک یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں اور تقریباً ایک لاکھ چھہتر ہزار سات سو ستتر ڈالر تنخواہ وصول کرتے ہیں اور آج کل وہاں سے چھٹی لے کر سرکاری عہدے پر فائز ہیں اور ملک و قوم کی خدمت کرنے میں مصروف ہیں، یعنی ایک ساتھ دو عہدے انجوائے کر رہے ہیں۔

مگر اثاثے کے کاغذ پر تذکرہ کرنا انہوں نے مناسب نہیں سمجھا۔ اب آ گے دیکھتے ہیں کون کون اور کیا کیا سامنے آتا ہے؟ بہت سے لوگ تو اس لیٹر گیٹ والے معاملے کو کچھ اس اینگل سے دیکھ رہے ہیں کہ فاسٹ ترین انٹرنیٹ و ٹیکنالوجی کے اس دور میں خط لکھنے کا تکلف کون کرتا ہے؟ بھلا کس کے پاس اتنا وقت ہے کہ وہ خط لکھتا پھریے اور اپنے معاملات کا ڈاکومنٹ ثبوت دو سروں کو تھما دیے تاکہ سند رہے۔ اب عدم اعتماد کے بعد خان صاحب کو اپنی بچی کھچی پارٹی میں انکوائری کروانی چاہیے اور اس بات کا پتہ چلانا چاہیے کہ ان کو اس سیاسی بحران میں دھکا دینے والے کون لوگ ہیں؟

Facebook Comments HS