زلمے خلیل زاد کی آرمی چیف قمر جاوید باجوہ سے جی ایچ کیو میں ملاقات


زلمے خلیل زاد نے اسلام آباد میں سیکیورٹی ڈائیلاگ سیمنار میں شرکت کے بعد جی ایچ کیو راولپنڈی میں پاکستانی فوج کے سربراہ قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی۔ یکم اپریل 2022
اسلام آباد — اسلام آباد میں سیکیورٹی ڈائیلاگ میں شریک امریکہ کے سابق نمائندہ خصوصی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد نے پاکستان فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی ۔

پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور علاقائی سیکیورٹی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ ملاقات میں افغانستان کی صورت حال اورمختلف شعبوں میں دو طرفہ تعلقات پر بات چیت کی گئی ۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے افغانستان میں انسانی بحران کےخطرے سے نمٹنے کے لیے مخلصانہ عالمی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔

آرمی چیف نے اسلام آباد سیکیورٹی ڈائیلاگ میں شرکت پر زلمے خلیل زاد کا شکریہ ادا کیا۔

فوج کے ترجمان کے مطابق سابق نمائندہ خصوصی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد نے علاقائی استحکام کے لیے پاکستان کے کردار اور کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے پاکستان کے ساتھ ہر سطح پر سفارتی تعاون میں مزید بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کا عہد کیا۔انہوں نے اسلام آباد سیکیورٹی ڈائیلاگ میں شرکت کا موقع ملنے پر شکریہ ادا کیا۔

افغان مفاہمت کے لیے امریکی سفارت کار زلمے خلیل زاد اور طالبان وفد کے سربراہ ملا عبدالغنی برادر دوحہ میں امریکہ کے ساتھ جنگ بندی کا معاہدہ طے پانے کے بعد مصافحہ کر رہے ہیں۔ 29 فروری 2020
افغان مفاہمت کے لیے امریکی سفارت کار زلمے خلیل زاد اور طالبان وفد کے سربراہ ملا عبدالغنی برادر دوحہ میں امریکہ کے ساتھ جنگ بندی کا معاہدہ طے پانے کے بعد مصافحہ کر رہے ہیں۔ 29 فروری 2020

زلمے خلیل زاد سابق امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان ہیں ۔ وہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور جوبائیڈن دونوں انتظامیہ کے تحت 3 سال سے زائد عرصہ اس عہدے پر فائز رہے۔

صدرٹرمپ کے عہدہ صدارت کے دوران شروع ہونے والے امن مذاکرات میں طالبان پر کافی دباؤ نہ ڈالنے پر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

زلمے خلیل زاد افغان نژاد امریکی باشندے ہیں اور وہ امریکہ اور طالبان کے مابین طاقت کی تقسیم کا معاہدہ کرنے میں ناکام رہے تھے۔ انہوں نے فروری 2020 میں طالبان کے ساتھ ایک امریکی معاہدے پر بات چیت کی جو بالآخر امریکہ کی طویل ترین جنگ کے خاتمے کا پیش خیمہ بنی۔

گزشتہ سال زلمے خلیل زاد نے اپنے استعفیٰ میں کہا تھا کہ انہوں نے جو معاہدہ کیا تھا، اس نے افغان حکومت کے ساتھ سنجیدہ امن مذاکرات میں داخل ہونے والے طالبان کے لیے امریکی افواج کے حتمی انخلا کو مشروط کر دیا تھا۔

Facebook Comments HS

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 3333 posts and counting.See all posts by voa