حب الوطنی اور مذہب کارڈ


جیسے زندگی کے آخری لمحات میں موت کا فرشتہ سامنے نظر آنے پر بدکار سے بدکار اور بدترین گناہ گار شخص کے دل میں بھی توبہ کی خواہش جاگ جاتی ہے بالکل ایسے ہی اپنے اقتدار کا سورج ڈوبتا اور یقینی طور پر اپنی حکومت ختم ہوتی نظر آنے پر عمران خان صاحب میں بھی خود داری، لیڈر شپ اور مذہبی جنونیت کا جذبہ بیدار ہو گیا ہے۔

پچھلے چار سالوں سے جب اللہ نے اس شخص کو اقتدار عطا کیا، ملک کے سیاہ و سفید کا مالک بنایا اور ملک کے تمام ادارے، سپاہ، مشینری، مالی اور قدرتی وسائل اس کے قبضے میں دے دیے تو یہ متکبر شخص اللہ، اس کے دین، تقوی، خود داری، اصولوں، وعدوں، دعوؤں اور خدا کی مخلوق کو یکسر فراموش کر کے طاقت کے نشہ میں بد مست پڑا رہا۔

اور اب؟

اب جبکہ اس کی کچرا پارٹی بکھر چکی، اس کے قریبی لوگ اس سے بیزار ہو چکے، اس کی حکومت کے نزاع کا وقت آن پہنچا، تو اب یہ آزاد جمہوریت، عوامی فلاح، ملکی سالمیت، امر بالمعروف، خود داری، اور مذہب کا چورن بیچ کر بدلے میں اپنے اقتدار کی چند سانسیں اور مانگ رہا ہے۔

یہ سب فیس سیونگ کے سٹنٹ ہیں۔ سب کھوکھلی، بے بنیاد اور بے سند باتیں ہیں۔ خط کا ایک ایسا شوشہ چھوڑا ہے کہ خان صاحب کی ذہنی حالت پر شک ہونے لگا ہے۔

چار سالہ دور حکومت میں عوام کی فلاح کا کوئی ایک کام بھی نہیں کیا۔ کوئی پراجیکٹ نہیں لگایا بلکہ سی پیک جیسے گرینڈ پراجیکٹ کو اپنی نالائقیوں اور نا اہلیوں سے رول بیک کر دیا۔ سٹیٹ بینک جیسے ملکی سالمیت کے حامل ادارے آئی ایم ایف کو گروی رکھ دیے۔ 26 ہزار 7 سو ارب روپے کا قرضہ لیا۔ کرپشن کا بازار اتنا گرم کیا کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے آفیشل خط لکھ کر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ ملک کے اداروں کو کھوکھلا اور معیشت کو دیوالیہ کر دیا۔

بزدار جیسا نا اہل شخص 11 کروڑ عوام پر ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا۔ چوروں، ڈاکوؤں، دہشتگردوں، ذخیرہ اندوزوں اور مافیا کے سرکردہ لوگوں کو وزیر اور مشیر مقرر کیا۔ کشمیر کے سٹریٹیجک معاملات پر مجرمانہ خاموشی اختیار کی۔ قادیانیت کو پروموٹ کیا۔ 2021 میں کلمہ چوک لاہور میں گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر فرانسیسی سفیر کو نکالنے کا مطالبہ کرنے والے عوام پر آپریشن کر کے 40 بے گناہ مسلمانوں کو شہید کرا دیا۔ اس وقت خان صاحب کا مذہب کہاں تھا۔

ان کے سیاہ دور اقتدار میں مسجدیں شہید ہوتی رہیں، کشمیر بھارت کی گرفت میں چلا گیا، مہنگائی کا طوفان برپا ہوا، کسانوں کا استحصال ہوتا رہا، بیروزگاری کا سونامی آیا، مزدور کے بچے فاقہ کشی پر مجبور ہو گئے لیکن ان کے مذہبی، فلاحی اور خود داری والا جذبہ کبھی بیدار نہ ہوا اور اب جبکہ پانی سر سے گزر گیا ہے تو حب الوطنی اور مذہب کارڈ کھیلا جا رہا ہے۔

یاد رکھیں! جو شخص بھی مذہب اور حب الوطنی کی آڑ لے کر سیاست کرے وہ جھوٹا اور دھوکہ باز ہے۔ پہلے ایوب، ضیاء اور مشرف جیسے لوگ بھی مذہب، ملکی سالمیت اور حب الوطنی کے نام پر عوام کو دھوکہ دے چکے ہیں۔

پاکستان کی باشعور عوام سے درخواست ہے کہ خدارا ایسے شعبدہ بازوں اور دھوکہ بازوں کو پہچانیں اور ان کی کھوکھلی باتوں میں کبھی نہ آئیں۔ اللہ کرے کہ عمران خان اس قوم کی آخری مایوسی اور آخری دھوکہ ہو! آمین

Facebook Comments HS