عدم اعتماد کامیاب ہو گئی تو کیا صدر عمران خان کو ذمہ داری جاری رکھنے کو کہہ سکتے ہیں؟


عمران خان، عارف علوی
پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے سنیچر کی شام قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’آپ دیکھیں کہ کل میں کیسے کامیاب ہوتا ہوں۔‘

وہ اس تحریکِ عدم اعتماد کی ووٹنگ کی بات کر رہے تھے جس کا سامنا وہ اتوار کی دوپہر کو کریں گے۔

اپنے خطاب میں انھوں نے پر امن احتجاج کی کال بھی دی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اگر تحریک عدم اعتماد میں عمران خان ناکام ہو گئے تو کیا ہو گا اور کیا انھیں فوری طور پر گھر جانا ہو گا یا صدرِ پاکستان انھیں کام جاری رکھنے کی ہدایات دے سکتے ہیں؟

بقول شیخ رشید ’آئندہ 24 گھنٹوں میں آپ دیکھیں گے کہ لمحہ بہ لمحہ سیاسی صورتحال بدلے گی تو اسلام آباد میں اس وقت ایسی ہی کچھ صورتحال ہے۔‘

کنٹینرز ریڈ زون میں موجود ہیں اور سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔

ٹی وی پر خبریں آ رہی ہیں کہ اٹارنی جنرل نے وزیرِ اعظم کو کوئی بھی غیر آئینی اقدام اٹھانے سے باز رہنے کا مشورہ دیا ہے جبکہ اب وزیرِ اعظم نے اپنے حامی ارکانِ اسمبلی سے کہا ہے کہ وہ عدم اعتماد کی تحریک کے خلاف ووٹ ڈالیں۔

لیکن یہ بحث بھی چل رہی ہے کہ اگر عمران خان ووٹ میں شکست کھا جاتے ہیں تو فوری طور پر چیف ایگزیکٹو کے عہدے کا کیا ہو گا۔

وزیر داخلہ شیخ رشید نے سنیچر کی صبح کہا کہ جب تک نیا وزیرِ اعظم نہیں آ جائے گا تب تک عمران خان ہی وزیرِ اعظم کے عہدے پر رہیں گے اور صدر انھیں کام جاری رکھنے کا کہیں گے پھر چاہے وہ جتنے بھی دن ہوں۔

سوال یہ کیا جا رہا ہے کہ جب ان کے پاس وزیر اعظم کی ذمہ داری کے لیے ایوان کا اعتماد نہیں رہے گا تو پھر وہ کیسے وزیر اعظم کے عہدے پر رہیں گے؟

یہاں بحث آئین کی شق 94 اور 95 پر ہے۔

شق 94 کے تحت صدر وزیر اعظم کو اپنا کام جاری رکھنے کو کہہ سکتے ہیں جبکہ 95 میں اپوزیشن کے عدم اعتماد کی صورت میں وزیر اعظم کو دفتر فوری طور پر چھوڑنا ہوتا ہے۔

پارلیمانی امور کے ماہر اور پلڈاٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب کہتے ہیں کہ ’آئین میں جو بات لکھی گئی ہے وہی بالاتر ہو گی، یہ پارلیمنٹ کی بالادستی کا معاملہ نہیں بلکہ ریاستی امور کا معاملہ ہے تاکہ وزیراعظم کی عدم موجودگی میں خلا پیدا نہ ہو۔‘

وہ کہتے ہیں کہ آئین کا آرٹیکل 94 کہتا ہے کہ صدر وزیر اعظم کو کہہ سکتا ہے کہ آپ اپنا کام جاری رکھیں جب تک نیا وزیر اعظم نہ آ جائے۔

تاہم احمد بلال نے کہا کہ ہمارے ملک میں ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا اور اپوزیشن اور حکومت کے درمیان اختلاف بہت زیادہ ہے۔ اگرچہ وزیر اعظم کے پاس تب کوئی اختیار نہیں رہتا لیکن کچھ بھی بلیک اینڈ وائٹ میں لکھا ہوا نہیں اس لیے لوگ (ان کو کام جاری رکھنے کی صورت) پر اعتبار نہیں کر رہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگلے وزیراعظم کے چناؤ کے لیے کوئی ٹائم فریم نہیں لکھا ہوا لیکن میرا خیال ہے کہ تحریک عدم اعتماد کے اگلے روز ہی فوری طور پر اسمبلی کا اجلاس بلوا کر وزیراعظم کو منتخب کرنا چاہیے۔

‘زیادہ سے زیادہ عدم اعتماد کی تحریک پانچ اپریل تک مؤخر ہو سکتا ہے۔ تین دن سے پہلے ووٹنگ نہیں ہو سکتی اور سات دن کے بعد نہیں ہو سکتی جتنی بھی ٹالیں تو پانچ تک تو کروانی ہی پڑے گی۔’

اس حوالے سے وہ پنجاب اسمبلی کی مثال دیتے ہیں جہاں وزیراعلیٰ کو کام کرنے سے نہیں روکا گیا ان کے استعفے کے بعد بھی۔

لیکن دوسری جانب قانونی امور کے ماہرین کی رائے آرٹیکل 94 اور 95 کے حوالے سے منقسم دکھائی دے رہی ہے۔

سابق اٹارنی جنرل انور منصور خان نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ ’نہیں، یہ ممکن نہیں کہ وزیراعظم اپنا کام جاری رکھ سکیں۔‘

انھوں نے کہا ‘ آرٹیکل میں لکھا ہے کہ وہ اپنا آفس چھوڑ دیں گے۔’

سندھ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس، جسٹس ریٹائرڈ شائق عثمانی کے مطابق سیکشن 95 کے تحت جو کہ ہے ہی عدم اعتماد سے متعلق تو ’اس میں سیزز کا لفظ استعمال کیا گیا ہے تو قانونی طور پر وہ وزیراعظم نہیں رہ سکتے انھیں اپنا دفتر چھوڑنا ہو گا۔ ‘

وہ آرٹیکل 94 کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ آرٹیکل صدر کو اختیار دیتا ہے کہ وہ مستعفی ہونے والے وزیراعظم کو کہہ سکتے ہیں کہ وہ اپنی ذمہ داری جاری رکھیں جب تک نئے وزیراعظم کا چناؤ ہوتا ہے۔

بینر

وزیر اعظم عمران خان کا تقریر میں امریکہ کا نام لینا، ’غلطی‘ یا ’شرارت‘؟

تحریک عدم اعتماد: کیا ارکانِ اسمبلی کو پارٹی کے خلاف ووٹ دینے سے روکا جا سکتا ہے؟

مذہب کارڈ: کیا عمران خان اقتدار بچانے کے لیے مذہب کا استعمال کر رہے ہیں؟

دھمکی آمیز خط کا معمہ: قومی سلامتی کا معاملہ یا سیاسی ہتھیار؟

وہ کہتے ہیں کہ صدر کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ایوان نئے وزیراعظم کا چناؤ کریں۔ وہ کہتے ہیں ’ایک دن یا آدھا دن تو جانے والا شخص وزیراعظم کے دفتر میں ہو سکتا ہے لیکن اس سے زیادہ نہیں کیونکہ انھیں دفتر چھوڑنا ہو گا یہ آئین کے الفاظ ہیں۔‘

منصور انور خان کہتے ہیں کہ سپیکر فوری طور پر صدر کو بتائیں گے اور صدر کو اسمبلی اجلاس بلوانا ہو گا وزیراعظم کے چناؤ کے لیے اور وہ بیٹھیں گے بے شک انھیں ساری رات بیٹھنا پڑے، یہ کرنا ہو گا ان کو۔’

سینئیر ماہر قانون شاہ خاور کہتے ہیں کہ ’میں قانون کو ترتیب سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ آرٹیکل 94 کہتا ہے کہ صدر وزیراعظم سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ اپنی ذمہ داریاں جاری رکھیں۔ یہ آپشنل ہے اور یہ آئینی خلا کو پُر کرنے کے لیے کیا جا سکتا ہے۔‘وہ کہتے ہیں کہ ’ وزیراعظم تب ہی تو کام جاری رکھنے کا کہا جا سکتا ہے ناں جب وہ عہدہ کھو چکا ہو، میرے خیال میں یہ ممکن ہے کہ تسلسل برقرار رکھنے کے لیے صدر انھیں یہ کہہ سکتے ہیں۔‘

شاہ خاور کہتے ہیں کہ اگر وزیراعظم 58 آرٹیکل کے تحت اسمبلی تحلیل کرتے ہیں تو پھر تو لکھا ہوا ہے کہ ایک کیئر ٹیکر حکومت آئے گی۔ وہ استعفیٰ دیں ایک صورت یہ ہے اور دوسرا عدم اعتماد ان کے خلاف آئے اور کامیاب ہو جائے تو دونوں ہی ایسی صورتیں ہیں کہ ان کا عہدہ ان کے ہاتھوں سے چلا جائے گا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’یہ اصل میں آئین کی شقوں کی تشریح ہے لیکن 94 کے بعد 95 میں ہی یہ چیز بیان کی گئی ہے اور مجھے لگتا ہے یہ ہو سکتا ہے۔ اور جیسے ہی نئے وزیراعظم آئیں گے تو کام جاری رکھنے والے وزیراعظم اپنے عہدے سے فارغ ہو جائیں گے۔ ‘

شاہ خاور کہتے ہیں ’جس طرح عمران خان اور ان کے وزرا کے مزاج دکھائی دے رہے ہیں تو اس میں اگر بحرانی صورتحال پیدا ہوئی اور صدر کے کہنے پر وزیراعظم اپنا کام جاری بھی رکھتے ہیں تو وہ کوئی اہم کام نہیں کر سکتے نہ کوئی فیصلہ کر سکتے ہیں۔ اس بارے میں سپریم کورٹ آف پاکستان کا فیصلہ موجود ہے کہ کیئر ٹیکر حکومت نے کوئی اہم فیصلہ نہیں کرنا ہوتا نہ کوئی پوسٹنگ اور ٹرانسفر کرنی ہوتی ہے۔ یہ سٹاپ گیپ ارینجمنٹ ہوتی ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر حکومت چلانے کے لیے آپ ہوتے ہیں اہم فیصلہ نہیں کر سکتے اور میرا خیال ہے اس موجودہ ممکنہ صورت میں بھی ایسا ہی ہو۔‘

کون مداخلت کر سکتا ہے؟

اگر اسمبلی کا اجلاس نہ بلوایا گیا اور بحرانی صورتحال ہوئی تو کیا ہو سکتا ہے؟

بلاول

عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی کامیابی کی صورت میں وزیراعظم کے عہدے کے لیے اپوزیشن نے شہباز شریف کے نام پر اتفاق رائے کیا ہے

منصور انور خان نے بتایا کہ ’تکینکی طور پر تو کوئی بھی مداحلت نہیں کر سکتا۔ اگر نہیں کرتے ہیں تو آئینی بحران پیدا ہو جائے گا۔ لیکن صدر کے پاس ان کے پاس اختیار نہیں کہ انھیں قانونی طور پر کام جاری رکھنے کو کہیں۔ ‘

وہ کہتے ہیں ’صدر نے ایسا کیا تو یہ قانون سے انحراف ہو گا اور اگر اسمبلی اجلاس میں دیر ہوئی تو اس میں تو عدالت کچھ نہیں کر سکتی اسمبلی کو خود کرنا ہو گا جیسے بھی وہ اسے دیکھیں لیکن اگر صدر نے وزیراعظم کو کام جاری رکھنے کو کہا تو اس میں عدالتی مداخلت ہو سکتی ہے۔‘

جسٹس ریٹائرڈ شائق عثمانی کہتے ہیں کہ ’اپوزیشن تو بتا چکی ہے اس نے کس کو وزیراعظم بنانا ہے لیکن اگر پھر بھی آئینی بحران پیدا ہوا تو میرا خیال ہے کہ پھر فوج آگے بڑھے گی۔‘

‘فوج موجودہ سیاسی صورتحال کو بہت قریب سے دیکھ رہی ہے، ابھی بھی باجوہ صاحب نے جو امریکہ کے حوالے سے بیان دیا وہ عمران خان کے برعکس بیان دیا ہے اور اگر بحرانی صورتحال پیدا ہوئی تو فوج فوری مداخلت کرے گی اور کہے گی کہ وزیراعظم کا چناؤ کریں۔ ‘

وہ کہتے ہیں کہ ایسی صورت میں پارلیمنٹ کے کسی بھی کام میں سپریم کورٹ مداخلت نہیں کر سکتی۔

سینئیر ماہر قانون شاہ خاور کہتے ہیں کہ ’آرمی کا اس میں کوئی کردار نہیں یہ ریاست کا کام ہے اور میرا نہیں خیال کہ کوئی ایسا ایڈوینچر ہو گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’سپریم کورٹ میں پہلے ہی بار ایسوسی ایشن کی درخواست پر اٹارنی جنرل حلفیہ بیان وفاقی حکومت کی طرف سے دے چکے ہیں کہ کسی کو بھی عدم اعتماد کے روز نہ تو وہاں اجتماع کرنے کی اجازت دی جائے گی اور نہ ہی اس پراسس کو روکنے کرنے کی اجازت دی جائے گی۔‘

لیکن سابق اٹارنی جنرل اشتر اوصاف کہتے ہیں کہ کسی بھی قسم کا خلا نہ پیدا ہو اس لیے آئین صدر کو اختیار دیتا ہے کہ وہ وزیراعظم کو اپنا کام جاری رکھنے کا کہیں۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’آئین کو مکمل پڑھنا چاہیے اگر ایک وزیراعظم کو عہدہ چھوڑنا پڑے تو یہ تو ہوتا ہے کہ ان کی کابینہ تحلیل ہو جائے گی ضروری ہے کہ فوری طور پر الیکشن ہو جائیں۔ لیکن کوئی خلا نہ پیدا ہو تو جب تک نیا وزیراعظم چنا جاتا ہے تب تک وہ آئینی تقاضے کی وجہ سے اپنا کام جاری رکھیں۔ ‘

تاہم اشتر اوصاف نے کہا کہ ’اعتماد کے ووٹ میں ناکامی کے بعد جب تک عمران خان وزیراعظم رہے اگر صدر نے انھیں اپنے عہدے پر کام جاری رکھنے کو کہا تو تب ان کے پاس کوئی بھی بڑا فیصلہ لینے کا اختیار نہیں ہوگا۔ ‘

انھوں نے کہا کہ جب اتحادی بھی عمران خان کو وزیراعظم نہیں کہتے تو اس صورت میں ان کے پاس نہ آئنی نہ قانونی نا اخلاقی جواز باقی رہ جاتا ہے کہ وہ اس عہدے پر رہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس وقت وزیراعظم جو بیانات دے رہے ہیں اس سے وہ اپنی ساکھ کھو رہے ہیں۔

سینئر صحافی کہتے ہیں کہ اگر اسمبلیاں تحلیل ہوں تو تو صدر وزیراعظم کو کہہ سکتے ہیں کہ آپ اپنا کام نئے وزیراعظم کے چناؤ تک جاری رکھیں تاہم عدم اعتماد ایسے ہی ہے کہ وزیراعظم کا دفتر خالی ہو گیا وزیراعظم کے عہدے پر وہ نہیں رہے۔

تاہم وہ کہتے ہیں کہ ابھی چونکہ اسمبلیاں موجود ہیں تو جیسے ہی ان کے حلاف عدم اعتماد کامیاب ہوتی ہے تو 24 گھنٹوں کے اندر ہی نئے وزیراعظم کا چناؤ ہو سکتا ہے کوئی مسئلہ نہیں۔

وہ کہتے ہیں ’قانونی اور آئینی طور پر ابھی تک حکومت نے کوئی غلطی نہیں کی ہاں اجلاس لیٹ بلوایا لیکن اتوار کی چھٹی کے روز بھی اجلاس کو بلوایا ہے ووٹنگ کے لیے۔ ہاں بحران یہ ہو سکتا ہے کہ وزیراعظم کے الیکشن میں ہی ووٹ پورے نہ ہوں اتحادیوں کے اگر ایسا ہو گیا تو بھی ایک بحران پیدا ہو گا۔ کہ جیسے پی پی پی کہے مجھے دس وزارتیں چاہیے فضل الرحمان کہیں مجھے اتنی وزارتیں چاہیے پی ٹی آئی سے آئے لوگ کچھ مانگ لیں اور کہا جائے پہلے یہ دیں پھر ووٹ ڈالیں گے تو کچھ بھی ہو سکتا ہے۔‘

ہو گا گیا اس حوالے سے آنے والے گھنٹے اور دن بہت اہم ہیں ٹی وی پر وزیراعظم عشائیے سے خطاب کر رہے ہیں اور ان کے الفاظ ہیں ’جب تک آخری گیند نہیں ہوتی میچ کا فیصلہ نہیں ہوتا۔‘

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp