رونگٹے کھڑے کرنے والی داستان

ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کی تاریخ میں ایک ایسا لیڈر جو پہلے کبھی نہیں آیا تھا اور نہ بعد میں آئے گا لیکن اس پر جو جعلی مقدمہ بنایا گیا اس کی تفصیل ( بھٹو کے عدالتی قتل) میں درج ہے۔ اور ضیاالحق کی بھٹو کے خلاف مزاحمت کی تفصیل ( اور لائن کٹ گئی ) کوثر نیازی کی کتاب میں دیکھ سکتے ہیں۔ جس میں عجیب و غریب راز ظاہر کیے گئے ہیں جیسا کہ ضیاالحق کا پانچواں نمبر تھا امریکہ نے اس کو جنرل بنایا۔ یہ تفصیل لمبی ہے اور سب سے دل کو دہلا دینے والی کتاب ( بھٹو کے آخری 323 دن ) ہے جس میں کرنل رفیع الدین نے جو جیل کے سیکورٹی سپرنٹینڈنٹ تھے سارا آنکھوں دیکھا حال بیان کیا ہے۔
کرنل رفیع الدین کہتے ہیں کہ جب بھٹو جیل میں تھے تو آخری رات افسران نے تین اپریل شام چھ بجے مسٹر بھٹو کو پھانسی کی اطلاع دینی تھی جب وہ اندر داخل ہوئے تو بھٹو کو دیکھا جو گدے کے اوپر لیٹے ہوئے تھے ان کو پھانسی کا حکم سنایا گیا۔ بھٹو مسکرا رہے تھے میں نے دل میں کہا کہ ہم ایسے شخص کو پھانسی لگا رہے ہیں جو موت کی خبر سن کر مسکرا رہا ہے۔ اور اس کو وصیت کے لیے کاغذ اور قلم دے دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ میں شیو کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے کہا رفیع یہ کیا ڈرامہ کھیلا جا رہا ہے میں نے جواب دیا کہ میں نے کبھی آپ کے ساتھ مذاق کیا ہے؟ بھٹو نے کہا کیا مطلب میں نے کہا کہ آج آپ کو پھانسی دی جا رہی ہے۔ بھٹو نے کہا بس ختم بس ختم۔
ان کے چہرے پر پیلاہٹ اور خشکی آ گئی میں اس حالت کو صحیح بیان نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کس وقت؟ میں نے کہا 7 گھنٹے بعد ۔ پھر کہا کہ میری پارٹی کو مردہ بھٹو کی ضرورت تھی زندہ بھٹو کی نہیں۔ شام آٹھ بج کر پانچ منٹ پر ان کے کہنے پر کافی کا کپ ان کو پیش کیا گیا۔ بھٹو کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اور کہا کہ میں صرف چند گھنٹوں کے لیے تیرا مہمان ہوں۔ انہوں نے اپنا وصیت نامہ لکھا پھر جلا ڈالا۔ انہوں نے سنتری سے کہا کتنا وقت باقی ہے۔ سنتری نے کہا کافی وقت ہے پھر خود ہی کہا ایک دو گھنٹے سو سکتا ہوں؟ پھر خاموشی سے لیٹ گئے۔ رات ایک بجکر دس منٹ پر اٹھ گئے۔ چار وارڈن اندر داخل ہوئے اور دو نے بازو اور دو نے ٹانگیں پکڑ کر ان کو اوپر اٹھا لیا جب ان کو نکالا جا رہا تھا تو ان کی کمر فرش کے ساتھ لگ رہی تھی۔
ان کی قمیص کا پچھلا حصہ وارڈنز کے پاؤں کے نیچے آیا اور قمیص پھٹنے کی آواز آئی ان کے دونوں ہاتھوں میں پیٹ کے سامنے ہتھکڑی لگا دی گئی۔ اسی وقت ان کے لئے چائے کا پیالہ لایا گیا۔ لیکن نہیں دیا گیا۔ میں نے دل میں کہا کہ اس نے دنیا میں جو چاہا مل رہا تھا لیکن آخری خواہش ایک چائے کی پیالی نصیب نہیں ہوئی۔ ان کو سٹریچر پر لٹا دیا گیا اور پھانسی گھاٹ تقریباً 250 گز دور تھا وہاں سٹریچر کو رکھا۔ ہتھکڑی کھول کر ہاتھ کو کمر کے پیچھے رکھ کر پھر ہتھکڑی لگا دی گئی۔ تارا مسیح نے ان کے سر اور چہرے پر ماسک چڑھا دیا۔
جس کی وجہ سے ان کو سانس لینے میں تکلیف ہوئی۔ ٹھیک 2 بجکر چار منٹ پر چار اپریل 1979 کو جلاد نے لیور دبایا اور بھٹو صاحب ایک جھٹکے کے ساتھ پھانسی کے کنویں میں گر پڑے۔ ان کا جسم معمولی ہل رہا تھا۔ اور بھٹو کا سر ان کی گردن پر بائیں طرف جھک گیا۔ اللہ تعالیٰ ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے آمین۔

