پاکستان میں اردو الفاظ کے غلط ہجے اور تلفظ


جب ایک تقریب میں ایک انتہائی پڑھے لکھے شخص کی زبان سے لفظ ”صفت“ میں ”ف“ کو جزم کے ساتھ بولتے سنا اور تسلسل سے سنا تو حیرت ہوئی۔ حالاں کہ ”ف“ کو زبر کے ساتھ پڑھنا درست تھا۔ یعنی صف۔ ت کی بجائے ص۔ فت

اہل پنجاب ”زبر“ کے ساتھ بہت جبر کرتے ہیں۔ اسے اکثر مقامات پر زیر اور پیش کی جگہ لے آتے ہیں۔ اس ”گناہ“ میں دیہاتی لوگوں کے علاوہ شہروں میں رہنے والے لوگوں کی بھی اچھی خاصی تعداد شامل ہے۔ مثلاً آپ ذیل کے الفاظ اپنے ساتھ روانی میں دہرائیے (اگر آپ کا تعلق پنجاب سے ہے )

مطابق، اکسیر، عامل، اکرام، مناسب، توازن، تدارک۔ آپ کو محسوس ہو گا کہ آپ نے بے اختیاری میں ہر ”زیر“ اور ”پیش“ کی جگہ ”زبر“ کا استعمال کیا ہے۔

حروف تہجی کا ایک حرف ”ژ“ جسے زائے فارسی بھی کہتے ہیں، کو زبان سے درست ادا کرنا بھی اکثر لوگوں کے لیے مشکل ہوتا ہے۔ مثلاً یہ جملہ دیکھیے اور اپنے ساتھ دہرائیے۔ ”ایک واژوں بخت ژند ژولیدہ مو نے کبھی ژاژ خائی نہیں کی“

آپ دیکھیں گے کہ کچھ لوگوں نے ”ژ“ کے ہجے کو ”ی“ کی صورت دی ہوگی۔ اور جملہ یوں بنا ہو گا۔ ”ایک وایوں بخت یند یولیدہ مو نے کبھی یای خائی نہیں کی“ ۔

حالاں کہ اس حرف کا درست تلفظ ”ش“ سے ملتا جلتا ہے، فرق ان میں یہ ہے کہ ”ش“ بولتے ہوئے زبان، دندان سازی کی اصطلاح میں upper pre۔ molar دانتوں کے ساتھ نرمی سے جڑتی ہے جب کہ ”ژ“ بولتے ہوئے منہ کو گولائی کی سمت سختی سے بھینچنا پڑتا ہے۔

ایک مسئلہ ”ح“ اور ”خ“ کے ساتھ بھی ہے۔ اس کی لپیٹ میں پنجاب کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخوا کے بھی کافی سارے علاقے آتے ہیں، جن میں صوابی اور کرک سرفہرست ہیں۔ خرگوش کو حرگوش اور خلوص کو حلوص بولتے اور پڑھتے ہیں۔ مردان کے لوگ ان سے دو قدم آگے ہیں۔ وہ ”ح“ حتیٰ کہ ”ہ“ کو بھی ”خ“ میں بدل دیتے ہیں۔ حمید کو خمید اور حلوائی کو خلوائی۔ حد ہمارے ایک دوست نے تب کردی تھی جب ہدیٰ نامی لڑکے کو اس نے ”خدا بھائی“ کہہ کر پکارا تھا۔

پختونخوا کے شمالی اضلاع مثلاً صوابی، مردان، چارسدہ، مالاکنڈ اور دیر وغیرہ کے بہت کم لوگ ”ف“ اور ”پ“ میں فرق کر سکتے ہیں۔ میرے ایک شوخ دوست نے کاغذ پر ایک جملہ لکھا ”ڈاکٹر فواد نے فہیم کو فروٹ کے فوائد گنوائے“ اور پھر باری باری کئی لڑکوں کو پڑھنے کے لیے دیا، مذکورہ علاقوں کے دوست اس جملے کو ایک جیسا ہی پڑھتے رہے یعنی ”ڈاکٹر پواد نے پہیم کو پروٹ کے پوائد گنوائے“ چارسدہ کے لوگ زیادہ احتیاط اور تمسخر سے بچنے کے لیے اصلی ”پ“ کو بھی ”ف“ سے تبدیل کر دیتے ہیں۔ ٹوتھ پیسٹ کو ٹوتھ فیسٹ اور سٹاپ کو سٹاف بنا لیتے ہیں۔ مردان سے رستم جاتے ہوئے راستے میں ایک مقام آتا ہے جہاں جلی حروف میں ”ہوسئی بس سٹاف“ لکھا ہوا ہے۔

اہل پنیاب (پنجاب) بھی تلفظ کے معاملے میں کسی سے پیچھے نہیں۔ ”س“ اور ”ش“ جس لفظ کے شروع میں آئیں تو میرے دوست اس ”س“ یا ”ش“ کو ساکن بنا لیتے ہیں۔ آپ ان الفاظ کو دیکھیں ”سکون، شکور، نیک شگون وغیرہ“ انگریزی کا ایک لفظ Support ہے، اس میں ”س“ اور ”پ“ کے بیچ خفیف سا وقفہ ہے، جسے میرے پنجاب کے دوست اکثر نظرانداز کرلیتے ہیں، جس سے اس لفظ کی صورت تبدیل ہو کر sport بن جاتی ہے۔ سال دو ہزار دس کے سیلاب کے دنوں کا ایک بینر اب تک میرے حافظے میں محفوظ ہے جس پر لکھا تھا کہ Sported by ABC۔

دور، اور، چوک۔ ان الفاظ میں پہلا حرف زبر کے ساتھ اور دوسرا حرف واوٴ معمولی آواز کے ساتھ ایک دوسرے سے جڑتے ہیں، مگر دیر اور مردان کے کچھ لوگ بالعموم اس واوٴ کو کچھ زیادہ ہی کھینچ کر زبر کے ساتھ پڑھتے ہیں، جس سے یہ الفاظ اور، دور اور چوک بن جاتے ہیں۔

چونکہ پشتو اور فارسی میں مرکب حروف ”بھ، پھ، جھ، کھ، گھ،“ وغیرہ موجود نہیں ہیں، اس لیے فارسی یا پشتو بولنے والوں کو ایسے الفاظ بولنے میں مشکل پیش آتی ہے۔

مثلاً ایک جملہ دیکھیے :
تھاکوٹ کے تھانیدار نے دھونس جما کر دھوبی گھاٹ کے اٹھارہ دھوبیوں کو دھوتیاں دھوتے وقت دھر لیا ”
اب اس جملے کو مذکورہ لوگ کیسے پڑھیں گے، دیکھیے!
تاکوٹ کے تانیدار نے دونس جماکر دوبی گاٹ کے اٹارہ دوبیوں کو دوتیاں دوتے وقت در لیا۔

کراچی کے کچھ لوگ ”غ“ کو ”گ“ اور ”خ“ کو ”کھ“ بولتے اور پڑھتے ہیں۔ کھرگوش گبارے کے ساتھ کھیل رہا تھا (خرگوش غبارے کے ساتھ کھیل رہا تھا)

Facebook Comments HS