مجھے مشیر بھی اچھے نہیں ملے


انتہائی اہم اور پکی خبر دے رہا ہوں۔ عمران نیازی صاحب کے وکیلوں نے نیازی صاحب کو بند گلی میں دھکیل دیا۔

آپ پوچھیں گے کہ کیسے؟ تو آئیے میں بتاؤں۔

عمران نیازی کا بیانیہ تھا کہ اپوزیشن نے امریکی سازش کے تحت پیسے پکڑے اور میری حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی۔ میری پارٹی کے بندے خریدے اور میری عددی اکثریت اقلیت میں بدلی۔

کل عدم اعتماد پر ووٹنگ تھی۔ اگر تو نیازی صاحب ووٹنگ ہونے دیتے۔ فیصلہ ان کے خلاف آ جاتا۔ ان کی حکومت ختم ہوجاتی تو اس کے بیانیے میں کافی جان ہوتی۔ مگر انہیں عوامی پذیرائی ملتی۔ لوگ ان کے بیانیے کو ہاتھوں ہاتھ لیتے۔

مگر اس کے برعکس نیازی صاحب نے ڈپٹی سپیکر سے ایسی رولنگ دلوا دی کہ وہ خود تو کچھ دن مزید بے اختیار وزیراعظم رہیں گے مگر حکومت کے لیے اپنے سازشی بیانیے کو عدالت میں ثابت کرنا ناممکن ہو جائے گا۔

اب کیا ہو گا۔ عدالت سازش اور پیسے لینے کے ثبوت مانگے گی۔ ثبوت ہوں گے تو نیازی صاحب دیں گے۔

لہٰذا عدالت پہلا کام یہ کرے گی کہ ڈپٹی سپیکر کی رولنگ خلاف آئین قرار دے کر دوبارہ ووٹنگ کا کہے گی۔ چار پانچ دن بعد عدم اعتماد پر ووٹنگ کے نتیجے میں نیازی صاحب کی حکومت ختم ہو جائے گی۔

لیکن عوامی سطح پر بھی نیازی صاحب کو بہت نقصان ہو گا کیونکہ عدالتی فیصلے کے مطابق امریکی سازش کی ساری کہانی نیازی اور اس کے شاطر مشیروں کے ذہنوں کی اختراع تھی۔

یوں نیازی صاحب عوامی سطح پر بھی جنگ ہار جائیں گے۔ عدالتی سطح پر تو پہلے ہی شکست خوردہ ہوں گے۔ اس ساری بے سود مشق کا صرف یہ فائدہ ہو گا کہ وہ کچھ دن بے اختیار وزیراعظم تو رہیں گے اور بعد میں اپنے ساتھ اپنے نااہل مشیروں کو بھی کوستے رہیں گے کہ مجھے مشیر بھی اچھے نہیں ملے۔

جنرل الیکشن کے بعد ”نیوٹرل“ کی وجہ سے اپوزیشن پارٹیاں الیکشن جیت کر اپنی حکومت بنا لیں گی اور نیازی صاحب بدقسمتی سے پاکستان کا پہلا سیاستدان ہوں گے جن پر آنے والی حکومت آرٹیکل سکس لگائے گی۔

مزے اور پتے کی ایک اور بات بتا دوں۔

اس وقت جسٹس قاضی فائز عیسٰی جیسا نڈر، بے باک، دبنگ اور آئین و قانون کا سچا محافظ سپریم کورٹ کا چیف جسٹس ہو گا۔ نیازی صاحب کی حکومت بھی گئی۔ بیانیہ بھی پٹا۔ عوام میں بھی رسوا ہوئے اور عدالت میں بھی اپنا کیس ثابت نہ کر سکے۔

لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا

Facebook Comments HS