ڈونالڈ لو صاحب کون ہیں؟ ان کے نظریات کیا ہیں؟


تا دم تحریر ملک میں آئینی بحران جاری ہے۔ کچھ روز قبل عمران خان صاحب نے ایک جلسہ عام میں ایک کاغذ لہرا کر یہ اعلان کیا تھا کہ ان کے پاس تحریری ثبوت موجود ہے کہ ان کے خلاف پیش کی جانے والی تحریک اعتماد ایک بیرونی سازش کا نتیجہ ہے۔ کچھ روز تک تو یہ قیاس آرائیاں ہوئیں کہ وہ کون سی طاقت تھی جو کہ پاکستان میں حکومت کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ وہ کون سا سفارتکار تھا، جس نے یہ جسارت کی تھی کہ وہ پاکستان کے سفارت کار کو یہ دھمکی دے تھی۔

اب عمران خان صاحب نے اس پر اسرار عہدیدار کا نام ظاہر کر دیا ہے۔ جن صاحب پر یہ الزام لگایا گیا ہے وہ امریکہ کے اسسٹنٹ سیکریٹری آف سٹیٹ برائے وسطی اور جنوبی ایشیا ڈونالڈ لو صاحب ہیں۔ ان سے جب اس بارے میں معین سوال کیا گیا تو انہوں نے جواب دینے سے گریز کیا۔ لیکن واشنگٹن میں امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس الزام کی شد و مد سے تردید کی اور کہا کہ اس الزام میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ آج روس کی وزارت خارجہ نے امریکی حکومت پر تنقید کی کہ وہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر رہی ہے۔

کیا عمران خان صاحب کے یہ دعوے درست ہو سکتے ہیں کہ ان کی آزادانہ خارجہ پالیسی کی وجہ سے امریکہ کی حکومت نے یہ سازش کی کہ تحریک عدم اعتماد کے ذریعہ ان کی حکومت کو ختم کیا جائے؟ اس کالم میں اس پہلو پر کوئی تبصرہ نہیں کیا جائے گا۔ لیکن یہ حقیقت واضح ہے کہ ایک بار پھر پاکستان بڑی طاقتوں کے تنازعہ میں ملوث ہو گیا ہے۔ یہ جائزہ لینا ضروری ہے کہ ڈونالڈ لو صاحب کون ہیں؟ اور اس خطے کے بارے میں اور روس اور یوکرین کی جنگ کے پس منظر میں ان کے کیا نظریات ہیں؟

ڈونالڈ لو صاحب گزشتہ تیس سال سے زائد عرصہ سے امریکہ کے سفارتکار کے طور پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ وہ آذربائیجان، بھارت، پاکستان، سیرالیون، جارجیا، البانیہ اور کرغستان میں خدامت سر انجام دے چکے ہیں۔ انہوں نے 1992 اور 1994 کے دوران پشاور میں پولیٹیکل افسر کے طور پر کام کیا۔ اور کئی برس بھارت میں خدمات سرانجام دیں۔ 90 کی دہائی کے آخر می انہوں نے چھ مرتبہ کشمیر کا دورہ کیا اور اس دوران کارگل کی جنگ کے موقع پر بھی وہاں جا کر حالات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے ایبولا کی وبا کے دوران بھی کام کیا۔ وہ اردو اور ہندی سمیت سات زبانیں بول سکتے ہیں۔ بائیڈن حکومت نے انہیں 15 ستمبر 2021 کو اسسٹنٹ سیکریٹری آف سٹیٹ برائے وسطی و جنوبی ایشیا مقرر کیا۔ اس سے قبل وہ کرغستان میں سفیر کے فرائض سر انجام دے رہے تھے۔

ڈونالڈ لو صاحب کے ناقدین ان پر تنقید کر سکتے ہیں اور ان پر الزامات لگا سکتے ہیں لیکن یہ حقیقت پیش نظر رہنی چاہیے کہ یہ صاحب کوئی غیر ذمہ دار کھلنڈرے نہیں ہیں بلکہ عالمی سطح کے منجھے ہوئے سفارتکار ہیں۔

اب اس پہلو کا جائزہ لیتے ہیں کہ روس اور یوکرین کی جنگ کے پس منظر میں برصغیر پاک و ہند کی سیاست کے بارے میں ان کے نظریات کیا ہیں؟ اس کا جائزہ لینے کے لئے 2 مارچ 2022 کو سینٹ کی ایک کمیٹی کی کارروائی سننا ضروری ہے۔ اس اجلاس میں ڈونالڈ لو پیش ہوئے اور ایک گھنٹہ سے زائد انہوں نے اظہار خیال کیا اور سوالات کے جوابات دیے۔ اس اجلاس کا موضوع امریکہ اور بھارت کے تعلقات کی موجودہ صورت حال تھی۔ لیکن جیسا کہ توقع کی جا سکتی تھی اس دوران پاکستان بھی زیر بحث آیا۔

اس کمیٹی کے چیئرمین نے شروع میں ہی واضح کر دیا کہ بھارت اس وقت دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے اور پانچ سال میں دنیا کا سب سے بڑا ملک ہو گا۔ اس کی معیشت دنیا کی چھٹی بڑی معیشت ہے۔ اور ہتھیاروں کی درآمد کے اعتبار سے یہ دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے اور اتنی بڑی منڈی ہونے کے لحاظ اس کی ایک اہمیت ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے لحاظ سے بھارت کا ایک نمایاں مقام ہے۔ لہذا پاکستان میں یہ غلط فہمی اب دور ہو جانی چاہیے کہ مستقبل قریب میں امریکہ کی کوئی حکومت پاکستان کی خاطر بھارت سے اپنے تعلقات کو خراب کرنے کی غلطی کرے گی۔

اس کارروائی کے دوران مختلف سینیٹر حضرات نے اس حقیقت کی نشاندہی کی کہ اس وقت امریکہ کے لئے چین سب سے بڑا خطرہ بن چکا ہے اور چین کے ساتھ مقابلہ میں بھارت ایک صف اول کے ملک کی حیثیت رکھتا ہے۔ اور ڈونالڈ لو اور سینیٹر صاحبان اس بات کا برملا اظہار کر رہے تھے کہ بین الاقوامی سمندروں میں چین کی بڑھتی ہوئی پوزیشن کو چیک کرنے کے لئے بھارت ایک اہم کردار کر سکتا ہے۔ اور ڈونالڈ لو اس بات سے سو فیصد متفق تھے کہ اب بھارت امریکہ کا قدرتی اتحادی ہے اور چین کے خلاف صف اول کے اتحادی کی حیثیت رکھتا ہے۔ جس طرح کسی وقت پاکستان سوویت یونین کے خلاف جنگ میں صف اول کے ملک کی حیثیت رکھتا تھا۔

لیکن اس میٹنگ میں ڈونالڈ لو پر یہ اعتراض بھی کیا گیا کہ موجودہ انتظامیہ کے دور میں امریکہ اور بھارت کے درمیان تعلقات پہلے کی طرح بہتر نہیں رہے۔ اور کواڈ ڈائیلاگ کو جس میں امریکہ، بھارت، آسٹریلیا اور جاپان شامل ہیں، پہلے کی طرح ترجیح نہیں دی جا رہی۔ اور سینیٹر صاحبان نے اس بات پر برہمی کا اظہار کیا کہ بھارت نے روس اور یوکرین کے مسئلہ پر اقوام متحدہ میں غیر جانبدار رہنا پسند کیا اور امریکہ کی رائے کے حق میں ووٹ نہیں دیا۔ ڈونالڈ لو نے اس پر یہ عذر پیش کیا بھارت ابھی بھی روس سے بہت زیادہ اسلحہ خریدتا ہے۔ اور اس خرید کے سپیئر پارٹس کے لئے انہیں روس پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ اگرچہ 2011 کے بعد سے روس سے اسلحہ کی خرید میں 53 فیصد کمی ہوئی ہے۔ اور اب بھارت امریکہ سے کافی زیادہ اسلحہ خرید رہا۔

اس موقع پر سینیٹر وان ہالن [Van Hallen] نے اس بات کی نشاندہی کی کہ پاکستان اور سری لنکا جیسے ممالک نے بھی اس قرارداد میں امریکی موقف کے حق میں ووٹ دینے کی بجائے غیر جانبدار رہنا پسند کیا۔ اس پر ڈونالڈ لو نے کہا کہ ہمارے مختلف سفارتکار سری لنکا اور پاکستان کے عہدیداروں سے رابطہ کر کے انہیں اس قرارداد کے حق میں ووٹ دینے پر آمادہ کرتے رہے تھے۔ اس پر وان ہالن صاحب نے سوال کیا کہ کیا بائیڈن انتظامیہ میں کسی کو یہ خیال آیا کہ وہ فون اٹھا کر پاکستان کے وزیر اعظم یا وزیر خارجہ سے بات کرے۔ اس پر ڈونالڈ لو صاحب نے یہ اعتراف کیا کہ ایسا نہیں کیا گیا۔ اور کہا کہ حال ہی میں وزیر اعظم عمران خان صاحب نے روس کا دورہ کیا ہے، اب ہم جائزہ لیں گے کہ ان سے کس طرح بات کرنی ہے۔ انہوں نے عمران خان صاحب کے دورہ پر اس سے زیادہ کوئی تبصرہ نہیں کیا اور نہ ہی کسی غیر معمولی تشویش کا اظہار کیا۔

اس کارروائی سے یہ ظاہر تھا کہ گو ڈونالڈ لو صاحب بھارت کے ساتھ تعلقات کو خاص اہمیت دیتے ہیں لیکن پاکستان کے متعلق ان کے رویہ کو بالکل منفی نہیں قرار دیا جا سکتا کیونکہ اس کارروائی کے دوران انہوں اس بات کا ایک سے زائد مرتبہ اقرار کیا کہ گزشتہ دو سال کے دوران پاکستان کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں حملہ آوروں کی آمد میں خاطر خواہ کمی ہوئی ہے اور اگرچہ پاکستان میں لشکر طیبہ اور جیش محمد کی کارروائیاں قابل تشویش ہیں۔

لیکن پاکستان کی حکومت نے دہشت گردوں کو قابو کرنے کے لئے کافی اقدامات کیے ہیں۔ اس کے علاوہ دبی ہوئی زبان سے اس بات کا اقرار بھی کیا گیا کہ کشمیر کے لوگوں اور بھارت میں مسلمانوں کو ان کے حقوق حاصل ہونے چاہئیں۔ لیکن ڈونالڈ لو صاحب نے اس حقیقت کا بھی اقرار کیا کہ اس وقت بھارت میں کانگرس کی پوزیشن کمزور ہے لہذا مودی صاحب اور ان کی جماعت کے ساتھ ہی کام کرنا پڑے گا۔

خلاصہ کلام یہ کہ یقینی طور پر امریکہ اس بات پر خوش نہیں ہو گا کہ عمران خان صاحب نے ایسے موقع پر روس کا دورہ کیا تھا لیکن کم از کم 2 مارچ کو ہونے والی اس کارروائی میں اس بات بات کہ کوئی آثار ظاہر نہیں ہو رہے تھے کہ اس بنا پر امریکی انتظامیہ کوئی خاص رد عمل دکھائے گی۔ بلکہ اس کمیٹی کے اجلاس میں بھی ڈونالڈ لو صاحب نے پاکستان کی کئی کاوشوں کی نسبت مثبت رائے کا اظہار کیا تھا۔ سینیٹر صاحبان کی زیادہ تر پریشانی اس بات پر مرکوز تھی کہ بھارت نے امریکی رائے کے حق میں ووٹ دینے کی بجائے غیر جانبدار رہنا کیوں پسند کیا؟

اس حقیقت کے پیش نظر کہ بین الاقوامی منظر پر پاکستان کی پوزیشن بہت کمزور ہے، ہم کسی بھی بڑی طاقت سے ٹکر لینے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ موجودہ حالت میں چین اور روس کا قریب آنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ اور پاکستان چین سے اپنے تعلقات توڑ نہیں سکتا۔ اور دوسری طرف ہماری زیادہ تر برآمدات امریکہ برطانیہ اور یورپین یونین کو ہوتی ہیں۔ ہم اس گروہ سے بھی تعلقات خراب نہیں کر سکتے۔ اس پس منظر میں اس طرح جلسوں میں اور بیانات میں مختلف طاقتوں کو للکارنا دانشمندی نہیں ہو گی۔ عمران خان صاحب کے جو بھی الزامات ہیں ان پر تحقیقات ہونی چاہئیں۔ لیکن اس قسم کی تحقیقات صحیح فورم پر ہوتی ہیں۔ اس طرح کی غیر ذمہ داری سے پاکستان کے مفادات کو نا قابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

Facebook Comments HS