پاکستان، منتخب اسمبلیوں کی مقتل گاہ


معلوم نہیں کیوں آج صبح سے ہی مجھے پاکستان کے تیسرے گورنر جنرل غلام محمد بہت یاد آ رہے ہیں اور مرحوم جسٹس منیر کے قدموں کی چاپ سنائی دے رہی ہے۔

داستان مقتل کی ابتدا ہوتی ہے اکتوبر 1951 میں جب پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان راولپنڈی کے کمپنی باغ میں ایک قاتل کی گولی کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ نوزائیدہ مملکت پاکستان میں بے یقینی کی فضا طاری ہو جاتی ہے۔ اس اتھل پتھل کے ماحول میں اقتدار کے ایوانوں میں ایک عجیب و غریب تبدیلی رونما ہوتی ہے۔ اس وقت کے گورنر جنرل خواجہ ناظم الدین وزیراعظم کا منصب سنبھال لیتے ہیں اور ان کی جگہ وزیر خزانہ غلام محمد کو پاکستان کے گورنر جنرل کا عہدہ تفویض کر دیا جاتا ہے۔ یہ سب کس کی ایماء پر کیا گیا؟ آج جب پاکستان کی سیاسی اور جمہوری تاریخ کا عمیق مطالعہ کیا جاتا ہے تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ اس کا ماسٹر مائنڈ جنرل ایوب ہی تھا اس کے ساتھ ایک فوجی ٹولا شامل تھا۔

قدرت اللہ شہاب نے اپنی کتاب ”شہاب نامہ“ میں لکھا ہے۔ مسٹر غلام محمد کے کردار میں کوئی آئیڈیل ازم نہیں تھا۔ ان کے مقاصد میں اولیت کا شرف ہوس اقتدار کو حاصل تھا۔ ’صنف نازک کی طرف ان کا شدید رجحان تھا جو اکثر مریضانہ حد تک پہنچ جایا کرتا تھا۔‘ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے وہ خود غرضی خود سری، ہٹ دھرمی، دھونس، دھاندلی اور ایچ پیچ کے سمیت ہر قسم کا حربہ استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔

مسٹر غلام محمد کافی عرصہ سے فالج کے مریض تھے۔ وہ چند قدم سے زیادہ چلنے پھرنے سے قطعاً معذور تھے۔ ان کے ہاتھوں میں رعشہ تھا اور وہ اپنے دستخطوں کے علاوہ مزید کچھ لکھنے کے قابل نہیں تھے۔ فالج نے ان کے منہ کے عضلاتی نظام کو اس حد تک کمزور کر دیا تھا کہ جب وہ کھانے پینے کی کوئی چیز منہ میں ڈالتے تھے تو اس کا کچھ حصہ دونوں کونوں سے باہر گرتا رہتا تھا یہ سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے بھی انہیں بستر علالت سے اٹھا کر گورنر جنرل کی کرسی پر بٹھا دیا گیا

اس معذور مفلوج اور مغرور شخص نے اپنے دور اقتدار کو سیاہ کارناموں سے بھر دیا۔ اپریل 1953 میں اس نے وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین کو برطرف کر دیا۔ پاکستان کے جمہوری نظام پر یہ پہلا کاری وار تھا۔ آگے پیش قدمی کرتے ہوئے، 24 اکتوبر 1954 کو گورنر جنرل غلام محمد نے دستور ساز اسمبلی کو توڑنے اور ملک میں ہنگامی حالت نافذ کرنے کا اعلان کر دیا

11 نومبر 1954 کو چیف کورٹ سندھ نے گورنر جنرل کے فرمان کے خلاف مقدمہ کی سماعت کی درخواست منظور کر لی۔ بعد ازاں گورنر جنرل کے فرمان کو غیر قانونی قرار دے دیا اور دستور ساز اسمبلی کو بحال کر دیا

اسکے باوجود 27 مارچ 1955 کو گورنر جنرل پاکستان جناب غلام محمد نے ایک بار پھر ملک میں ہنگامی حالت کا اعلان کر کے وسیع اختیارات سنبھال لیے

10 مئی 1955 کو فیڈرل کورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس محمد منیر کی سربراہی میں فیڈرل کورٹ کی مکمل بنچ نے کثرت رائے سے چیف کورٹ کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا جو انھوں نے دستور ساز اسمبلی کی بحالی کے سلسلہ میں سنایا تھا۔

فیڈرل کورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس محمد منیر، جسٹس ابو صالح محمد اکرم، جسٹس محمد شریف اور جسٹس ایس اے رحمن نے بعض قانونی ابہام کا دانستہ یا نادانستہ سہارا لیتے ہوئے گورنر جنرل کے اسمبلی توڑنے کے حکم کو برقرار رکھا

1956 کے اوائل میں غلام محمد پر نئی نئی بیماریوں کے حملے شروع ہو گئے۔ کبھی تیز بخار، کبھی نمونیہ، کبھی پلورسی، کبھی بلڈ پریشر۔ اب انھیں علاج کے لیے سوئٹزر لینڈ لے جایا گیا۔ سوئٹزر لینڈ میں علاج معالجے کے بعد ان کی طبیعت کچھ سنبھلی تو وہ وطن واپس آئے مگر اب ان کی دماغی حالت اور بھی بگڑ چکی تھی۔ ’ان کی گفتگو تو پہلے ہی کوئی سمجھ نہ پاتا تھا اب وہ قوت فیصلہ سے بھی محروم ہو چکے تھے۔ ایسے میں اسکندر مرزا اور جنرل ایوب خان نے گورنر جنرل کو رخصت پر جانے کے لیے آمادہ کیا اور پھر ان سے استعفیٰ طلب کر لیا۔

19 ستمبر 1955 کو کیبنٹ سیکریٹریٹ نے اعلان کیا کہ گورنر جنرل ملک غلام محمد نے چھ اکتوبر 1955 سے جب ان کی رخصت ختم ہوگی اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا ہے اور حکومت پاکستان کی سفارش پر اسی تاریخ سے قائم مقام گورنر جنرل اسکندر

مرزا کو گورنر جنرل مقرر کرنا منظور کر لیا۔ اس کے بعد پاکستان میں سیاست اور جمہوریت کے ایک ایسے سیاہ دور کا آغاز ہوا جو ستر سال گزرنے کے باوجود آج بھی ختم نہیں ہوا

سپریم کورٹ کا نظریہ ضرورت کے تحت مذکورہ فیصلہ پاکستان میں جمہوریت کے استحکام اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے ارفع مقاصد کے لیے زہر قاتل کا درجہ رکھتا ہے۔ یہ سوال سالہا سال سے موضوع بحث بنا ہوا ہے کہ عدالت عالیہ کا یہ فیصلہ محض ایک قانونی فیصلہ تھا یا اس کے پیچھے سیاسی محرکات بھی کار فرما تھے۔ جوں جوں حقائق سامنے آتے جا رہے ہیں ویسے ویسے اس فیصلے کی سیاسی نوعیت، اس میں بیان کردہ قانونی موشگافیوں کو بے معنی اور ناقابل اعتبار ثابت کرتی جا رہی ہے۔

اس فیصلے کے سیاسی ہونے کے ضمن میں سب سے اہم شہادت کسی اور نے نہیں بلکہ خود چیف جسٹس، جسٹس محمد منیر نے ہی فراہم کی۔ انھوں نے اپنی ریٹائرمنٹ پر لاہور بار ایسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے 22 اپریل 1960 کو اعتراف کیا تھا کہ فیڈرل کورٹ کا فیصلہ حالات کے دباؤ کا نتیجہ تھا اور یہ کہ سندھ چیف کورٹ نے اسمبلی کی بحالی کا جو حکم دیا تھا اس حکم پر حکومت کو خون خرابے کے بعد ہی عملدرآمد پر مجبور کیا جا سکتا تھا۔

یہ کتنی الم ناک بات ہے کہ آج سے ستر سال پہلے پاکستان میں منتخب اسمبلیوں کو توڑنے اور جمہوری عمل کو عدم استحکام سے دو چار کرنے کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا وہ آج بھی جاری ہے۔ اور پاکستان آج بھی پارلیمنٹ کی مقتل گاہ بنا ہوا ہے

Facebook Comments HS