نمرود کی خدائی


”نمرود کی خدائی“ ایک سو اٹھائیس صفحات پر مبنی سعادت حسن منٹو کے ان بارہ افسانوں کا مجموعہ ہے جو آزادی سے قبل اور جنگ عظیم دوم کے بعد ہندوستان میں برپا ہونے والے فسادات کے تناظر میں لکھے گئے ہیں۔ آج تک جتنے بھی افسانوی مجموعے نظر سے گزرے ان کا عنوان مجموعہ میں شامل نمائندہ افسانہ کا موضوع تھا مگر افسانوی مجموعہ ”نمرود کی خدائی“ میں اس عنوان کے تحت کوئی کہانی یا افسانہ موجود نہیں۔ پہلا افسانہ بعنوان ”کھول دو“ ہے جس میں آزادی کے دوران بپا ہونے والے فسادات کو موضوع بناتے ہوئے اس نقطہ کو عیاں کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ جنہیں آپ اپنی عزت و ناموس کے رکھوالے مقرر کر کے ان کی کامیابی کی خاطر دعاؤں میں مستغرق رہتے ہیں وہ کس طرح آپ کی عزت کو سر بازار نیلام کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ اس افسانہ میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ لوگ جنسی طور پر کس قدر وحشی ہیں کہ ایک ادنیٰ سی جنسی تسکین کی خاطر ایسی لڑکی کو مسلسل جنسی ہوس کا شکار بناتے رہتے ہیں جس کے جذبات و احساسات بے انتہا جنسی ستم کی بدولت مردہ ہو چکے ہوتے ہیں۔

دوسرا افسانہ بعنوان ”سوراج کے لئے“ ہے۔ اس افسانہ میں مذہب کے لبادے میں پنہاں اس چہرے سے نقاب اٹھانے کی سعی کی گئی ہے جو پس پردہ رہ کر سیاست کے مہا گرو کا کردار ادا کر رہے ہوتے ہیں۔ اور ساتھ ساتھ اس پنہاں سچ سے بھی پردہ اٹھایا گیا ہے کہ مہا گرو اپنے مفاد کی تکمیل کی خاطر کس طرح لوگوں کو اپنے سحر میں گرفتار کرتے ہوئے ان سے کٹھ پتلی کا سا کردار ادا کرواتے ہیں۔

چند افسانوں جن میں ”ڈرلنگ، بدتمیز، عزت کے لئے، اور شریفن“ وغیرہ شامل ہیں، میں منٹو نے خوبصورت چہروں سے نقاب اٹھاتے ہوئے اس ہوس کو بے نقاب کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے جو فسادات کے دنوں میں لوگوں کی نس نس میں سما چکی تھی۔ مصنف اس ہوس کا تعلق کبھی مادیت کے ساتھ تو کبھی جنسیت کے ساتھ قائم کرتے ہوئے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ دامن عصمت سے جب فریب کا نقاب اٹھایا جاتا ہے تو اندرونی کہانیاں وحشی حیوان کی روداد معلوم پڑتی ہیں۔

”شیر آیا، شیر آیا، دوڑنا“ ایک ایسی کہانی ہے جس میں منٹو کا مخصوص رنگ مفقود ہے مگر قدیمیت میں جدیدیت کا رنگ شامل کرتے ہوئے ایسا امتزاج بنایا گیا ہے جس کی ہر جھلک سے ایک ہی صدا بلند ہوتی ہے کہ کسی بھی ذی روح کو، اس کی بات کو سنے بغیر، اس کے آبا و اجداد کی غلطی کی بنا پر مجرم نہیں ٹھہرانا چاہیے، بلکہ تحمل سے اس کی بات کو درجہ سماعت عطا کرنے کے بعد ، حالات کے تناظر کو پیش نظر رکھے معاملہ کا تجزیہ کرنے کے بعد ، رائے قائم کرنی چاہیے کہ آیا وہ مجرم ہے یا محرم۔

والدین اپنی اولاد سے غلط توقعات کی امید لگائے انہیں وہ منزلیں، جو وہ خود حاصل نہیں کر پائے تھے، حاصل کرنے کی خاطر ایک خاص ڈگر پر چلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر جب ان کی اولاد مخصوص رستہ پر چلنے میں کامیاب نہیں ہو پاتی تو والدین کس طرح خود کو مایوسی کے جام کی اتھاہ گہرائیوں میں مدہوش کر لیتے ہیں کو منٹو نے افسانہ ”ہرنام کور“ میں بیان کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔

زمانہ چاہے کتنا ہی تاریک کیوں نہ ہو کچھ ایسے لوگ ضرور ہوتے ہیں جو مایوسی میں بھی امید کی کرن کو روشن رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں، چاہے انہیں اس مقصد کے حصول کے لیے حالات کے بے ڈھنگے پن پر قہقہے لگانا پڑیں یا حالات کی ستم گری پر واویلا کرنے کی نوبت آ پہنچے۔ وہ اپنے مقصد کو واضح اور روشن رکھے امید کی کرن سے راستہ ہموار کرنے کی جستجو میں سرگرداں رہتے ہیں۔ ایسے ہی ایک کردار، جو حالات کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے بہتری کی جستجو میں لگا رہتا ہے، کا حال منٹو نے افسانہ ”دیکھ کبیرا آیا“ میں بیان کیا ہے۔ اس کے علاوہ اس مجموعہ ہے میں کچھ ایسے بھی کردار ہیں جو ہمیں اپنے موجودہ معاشرے کے افراد معلوم پڑتے ہیں اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ راہ چلتے ہوئے ہمیں کہیں نہ کہیں یہ کردار ضرور مل جائیں گے، یا مل چکے ہیں۔ ان کرداروں میں شہید ساز، بی زمانی بیگم اور شہزادہ غلام علی کے کردار نمایاں ہیں۔

آخر میں اتنا ہی کہوں گا کہ اگر ہندوستانی آزادی کے دوران برپا ہونے والے فسادات اور فسادات کی بدولت ذہنیت کی تبدیلی کو سمجھنے کی تمنا ہو تو ایک بار اس افسانوی مجموعہ کو ضرور دیکھنا چاہیے۔

Facebook Comments HS

علی حسن اویس

علی حسن اُویس جی سی یونی ورسٹی، لاہور میں اُردو ادب کے طالب علم ہیں۔ ان کا تعلق پنجاب کے ضلع حافظ آباد سے ہے۔ مزاح نگاری، مضمون نویسی اور افسانہ نگاری کے ساتھ ساتھ تحقیقی آرٹیکل بھی لکھتے ہیں۔

ali-hassan-awais has 78 posts and counting.See all posts by ali-hassan-awais