سازش ہو رہی ہے

پہلی دفعہ محسوس ہو رہا ہے کہ واقعی کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی سازش ضرور ہو رہی ہے۔ یوں محسوس ہو رہا ہے جیسے سازش کا جال بچھانے والے نہایت مہارت سے اپنے مقاصد کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ کیا سازش ہو رہی ہے؟ اس سوال جواب انتہائی گنجلک ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ جو سازش سازش کی گردان ہو رہی ہے، اصل سازش اس کے بالکل برعکس کچھ اور ہے؟ وہ جو سازش کا رونا رو رہے ہیں، کہیں وہی لوگ اسی مبینہ سازش کے پردے میں کوئی اور سازش تو نہیں کر رہے ہیں
یادش بخیر، عمران خان کی حکومت لانے کے لئے کیا کیا جتن کرنے پڑے تھے۔ پاکستان مسلم لیگ نون کی حکومت کوئی مثالی حکومت نہیں تھی جس کا سب سے بڑا ثبوت تمام تر اختیارات کا ایک خاندان اور اس خاندان کے قریبی لوگوں کے ہاتھوں میں سنا تھا لیکن اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ حکومت نہایت کامیابی سے عام آدمی کی زندگی میں آسانیاں پیدا کر رہی تھی۔ ملک میں کئی بڑے منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچ چکے تھے اور کئی منصوبوں پر کام رواں دواں تھا۔
مسلم لیگ نون کی حکومت آئی تو ملک بھر میں لوڈ شیڈنگ اپنے عروج پر تھی۔ حکومت نے جانے سے پہلے بجلی سر پلس کر دی تھی یعنی ضرورت سے زیادہ بجلی پیدا ہو رہی تھی۔ ملک میں سڑکوں کا جال نہایت تیزی سے بچھا جا رہا تھا اور پاکستانی معیشت کی شرح نمو نہایت حوصلہ افزاء تھی۔ نواز شریف کی حکومت میں لاکھ کمزوریاں صحیح لیکن عام آدمی کو مشرف کے آخری تین سال اور پیپلز پارٹی کے پانچ سالوں کے برعکس پہلی مرتبہ اپنی زندگی میں مثبت تبدیلی محسوس ہو رہی تھی۔
اتنے میں اچانک طاہر القادری اور عمران خان کو فعال کیا گیا اور دونوں اپنے اپنے قافلے لے کر اسلام آباد پر یلغار کے لئے روانہ ہو گئے۔ عمران خان ایک لاکھ موٹر سائیکل اسلام آباد لانے کے دعوے کر رہے تھے لیکن جب اسلام آباد پہنچے تو تعداد لاکھوں تو کیا ہزاروں میں بھی نہیں تھی۔
طاہر القادری کے مریدوں نے البتہ کپتان کی لاج رکھ لی اور مشہور زمانہ دھرنے شروع ہو گئے۔ خالی کرسیوں میں شام کے بعد زندگی کے آثار دکھائی دیتے۔ کپتان اور طاہر القادری اپنے کنٹینرز سے خطاب کے جوہر دکھا رہے تھے۔ قبریں کھودیں گئیں، کفن پہنے گئے، سپریم کورٹ پر شلواریں آویزاں کی گئیں۔ ایمپائر کی انگلی کھڑی ہونے کی امید پر دونوں قافلے آہستہ آہستہ پارلیمنٹ ہاؤس کی طرف بڑھ رہے تھے۔ بالآخر پارلیمنٹ پر دھاوا بولنے کی کوشش کی گئی جسے سختی سے کچل دیا گیا۔
دونوں جماعتوں کے کارکنان ڈنڈے ہاتھوں میں پکڑے پی ٹی وی پر حملہ آور ہوئے۔ پولیس افسران اور جوانوں پر کھلے عام تشدد ہوا۔ اس سارے کھیل تماشے میں چین کے صدر کا دورہ منسوخ ہوا۔ طاہر القادری نے دھرنا ختم کر دیا لیکن عمران خان کنٹینر سے اترنے کو تیار نہیں ہوئے۔ اے پی ایس کے بچوں پر وحشتناک حملہ ہوا تو کپتان نے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا۔
پانامہ لیکس آئیں تو عمران ایک دفعہ پھر بیدار ہوئے اور اب کہ اسلام آباد لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیا۔ کپتان ایک مرتبہ پھر عوام کو ساتھ ملانے میں کامیاب نہ ہو سکے اور اسلام آباد بند کرنے کے بجائے خود بنی گالا میں بند ہو گئے۔ سپریم کورٹ اس مرتبہ فیس سیونگ کو آئی اور معاملہ اپنے ہاتھوں میں لے کر جے آئی ٹی بنا دی۔ جے آئی ٹی کو بیرونی دنیا سے ’ثبوتوں‘ کے انبار مہیا ہونے شروع ہوئے اور بالآخر پانامہ ایک طرف رکھ کر نواز شریف کو اقامے کی بنیاد پر تاحیات نا اہل کر دیا گیا۔
مریم نواز نے پارٹی کی کمان سنبھالی اور جب دیکھا کہ مریم نواز خلق خدا کو اپنی جانب کھینچنے میں کامیاب ہو رہی تھی تو باپ کی طرح انہیں بھی الیکشن سے آؤٹ کر دیا گیا۔ کپتان کو خالی میدان اور الیکٹیبلز کی کمک فراہم کی گئی۔ اتنی تگ و دو کے بعد بھی سادہ اکثریت حاصل نہ ہو سکی تو جہانگیر ترین کے جہاز کے کمالات شروع ہوئے۔ لوگ پکڑ پکڑ کر لائے گئے۔ آزاد حیثیت میں منتخب ہونے والے ارکان کے علاوہ اتحادیوں کی مدد سے کپتان کو وزیراعظم بنا دیا گیا۔
کپتان سے حکومت نہ چلی تو اسٹیبلشمنٹ نے کپتان کی راہوں سے کانٹے چننے شروع کیے اور اب سے دو تین مہینے قبل تک اسٹیبلشمنٹ کی مکمل تائید اور سپورٹ کپتان کو حاصل تھی۔ کپتان معاملات بگاڑتا رہا اور اسٹیبلشمنٹ از سر نو ٹھیک کرتی رہی حتیٰ کہ کپتان نے اسٹیبلشمنٹ کو آنکھیں دکھانی شروع کیں۔ آئی ایس آئی چیف کی تقرری پر کپتان نے فوج کے ساتھ پنگا لیا اور یوں بہ ظاہر سیم پیج پھٹ گیا
جیسا کہ شروع میں عرض کیا خلق خدا مہنگائی کے ہاتھوں پریشان تھی اور عمران خان کی حکومت کی مقبولیت پستیوں میں پڑی کہیں کراہ رہی تھی۔ ایک چھابڑی فروش کے ساتھ میری گپ شپ ہے۔ زندہ دل آدمی ہے۔ وہ کبھی کبھار ترنگ میں آ کر اپنے موبائل پر بلند آواز ’جب آئے گا عمران‘ لگا دیتا، حالت یہ تھی کہ پی ٹی آئی کے ورکرز اس کے ساتھ لڑنے لگ جاتے کہ کیوں انہیں شرمندہ کر رہا ہے۔ اس صورتحال میں اپوزیشن کو کیا سوجھی کہ تحریک عدم اعتماد لانے کے لئے سرگرم ہوئی۔ ایک توجیح اس کہ یہ کی جاتی ہے کہ اپوزیشن نومبر میں نئے آرمی چیف کی تقرری سے پہلے معاملات اپنے ہاتھ میں لینا چاہتی تھی۔ لیکن کیا یہ اتنا بڑا مسئلہ تھا کہ اپوزیشن اس کے بدلے دم توڑتی حکومت میں نئی جان ڈالنے کے لئے تیار ہوئی۔
تحریک عدم اعتماد کے لئے اپوزیشن نے رابطے شروع کیے تو وزیراعظم کمال مہارت سے اپنے پتے کھیلنے لگے۔ پہلے تو خود کو پاکستان کے مظلوم مسیحا کے طور پر پیش کیا جس کے خلاف پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں متحد ہو گئیں۔ اپنے ناراض ووٹر اور سپورٹرز کی ہمدردیاں اپنی جانب آتے دیکھیں تو اس کو اپنی ’آزاد‘ خارجہ پالیسی کے باعث امریکی مخالفت کا تڑکا دینا دے دیا۔ اسلام آباد میں پانچ ہزار کرسیوں پر لاکھوں لوگوں کو کامیابی سے بٹھانے کے بعد کاغذ کا ایک ٹکڑا لہرایا جو مبینہ طور پر ایک خط تھا۔ بقول وزیراعظم خط امریکیوں نے لکھا تھا جو اس بات کا ”ثبوت“ ہے کہ تحریک عدم اعتماد کے لئے سرگرم پارٹیاں حکومت گرانے کی امریکی سازش میں شریک ہو چکی ہیں۔
اسی سازش کی بنیاد پر عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ نہ ہونے دی اور اب یہ معاملہ سپریم کورٹ میں ہے۔ دس منٹ کی سماعت جس معاملے کو نمٹانے کے لئے کافی تھی، تین روز سے اس کا فیصلہ نہیں ہو رہا۔ سپریم کورٹ کے محترم ججز کے ریمارکس سے قطع نظر لگتا یوں ہے کہ سپریم کورٹ سپیکر کی رولنگ کو بنیاد بنا کر معاملات کو جوں کا توں رکھنے کی موڈ میں ہے۔ سپریم کورٹ اگر سپیکر کی رولنگ کو غیر آئینی قرار نہیں دیتی اور حکومتی خواہش کے عین مطابق نئے الیکشن کی طرف جاتی ہے تو آئندہ الیکشن پاکستان کے نجات دہندہ (عمران خان) اور پاکستان کے غداروں (اپوزیشن) کے درمیان لڑا جائے گا۔ اس صورتحال میں پاکستان کے جذباتی اور سادہ لوح عوام غداروں کو مسترد کر کے اپنے نجات دہندہ کو دو تہائی اکثریت کے ساتھ اسمبلی بھیج دے گی اور پھر اس ملک کے آئین کے ساتھ جو ہو گا اس کے تصور سے ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔
پہلی دفعہ محسوس ہو رہا ہے کہ واقعی کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی سازش ضرور ہو رہی ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ جو سازش سازش کی گردان ہو رہی ہے، اصل سازش اس کے بالکل برعکس کچھ اور ہے؟ وہ جو سازش کا رونا رو رہے ہیں، کہیں وہی لوگ اسی مبینہ سازش کے پردے میں کوئی اور سازش تو نہیں کر رہے ہیں

