بارہواں کھلاڑی کھیلن کو مانگے چاند


ڈیئر پروفیسر، سلام

ہمیں علم ہے کہ آپ جواب دینے سے کتراتے ہیں کوشش تو یہی ہوتی ہے کہ کم سے کم سوال پوچھیں پر ہم بھی کیا کریں کہ یہ تمام سوال تو ہمیں ورثے میں ملے ہیں۔ سوال وہی ہیں پرانے گھسے پٹے۔ نہ ہماری آرزوئیں بدلتی ہیں نہ ہمارے سوال۔ سوالوں کی ان گتھیوں کو کوئی اہل علم ہی سلجھا سکتا ہے، آپ سے بڑھ کر اور کون ہو گا؟

ہم سے پہلی نسلیں بھی یہی سوال کرتی رہیں اور جواب نہیں ملے تو وہی محضر وقت بمع سوالوں کے ہم تک منتقل ہو گئی۔ اور اب تو یہ عالم ہے کہ ابھی ہم زندہ ہیں اور شرمندہ اس لیے کہ یہ محضر نامہ اگلی نسل کو منتقل ہو چکا ہے۔ وہ بھی ان ہی سوالوں کو دھرا رہی ہے۔ وقت کے اس ستم کو کیا کہا جائے؟ رفتگاں کی کوتاہ فہمی یا ہماری نا اہلی؟ کہ دیوار کے لکھے کو پڑھ نہیں پائے۔

دائروں کے اس سفر کا کوئی انت بھی ہے یا پھر ہم بھی دیگر اجسام کی طرح نسل در نسل ان ہی سیاہ دائروں میں گھومتے گھومتے آخر کار فنا ہو جائیں گے۔ اندھیروں کے اس سفر میں اب کس سے کہیں کہ کوئی چراغ جلاؤ بہت اندھیرا ہے۔

منزلیں کن کا مقدر ہوتی ہیں؟ کیا کاتب تقدیر اتنا بھول بھلکڑ ہے کہ وہ کچھ لوگوں کے نصیب میں منزل کا لفظ لکھنا بھول جائے یا اتنا ظالم کہ ہماری منزل کا اتا پتہ ہمارے بجائے کچھ ایسے لوگوں کے سپرد کر دے جو اپنی مرضی و منشا کے حساب سے ان ہی بھول بھلیوں میں کبھی یہاں تو کبھی وہاں گھماتے پھریں اور خود جہاں کہیں پڑاؤ ڈالیں اسی کو ہماری منزل قرار دیں۔ پھر کوئی دوسرا آئے اور کولہو کے ان بیلوں کو ہانکا دے کر کہے کہ یہ راستہ وہ نہیں ہے تم غلط سمت میں جا رہے ہو اور صعوبتوں کے مارے تھکے ماندے مسافر اپنی گدڑیاں سنبھالے گرتے پڑتے اس کے پیچھے چل پڑیں!

وہ بوڑھا قریباً پون صدی سے چل رہا ہے چلتے چلتے اتنا تھک گیا ہے کہ ہانپنے لگا ہے۔ بوجھل سانسیں لیے یہ کدھر جائے کہ اس کا زاد راہ ختم ہو رہا ہے۔ اس کڑی مسافت کے دوران وہ نوسر بازوں کے ہاتھوں اتنی بار لٹ چکا ہے کہ شمار ممکن نہیں۔ اس کی جھولی میں بوسیدہ خوابوں کے سوا اب کچھ بھی نہیں۔ اور افسوس کی بات تو یہ ہے کہ یہ خواب بھی اس کے اپنے نہیں۔ جو آتا ہے وہ کان میں چپکے سے کہہ دیتا ہے کہ گزری کل تم نے یہی خواب دیکھا تھا اور اس معصوم کی آنکھیں ہر کسی کی بات کو سچ سمجھ کر وہی خواب دیکھنا شروع کر دیتی ہیں۔ میں اکثر سوچتی ہوں کہ اس کے اپنے بھی تو کوئی خواب ہوں گے وہ کہاں چلے گئے؟

زمین زمینی خداؤں سے بھری پڑی ہے پر جس کشتی کا ناخدا کوئی نہ ہو وہ کب تک تیرتی رہے گی؟ اس کشتی میں کروڑوں مسافر سوار ہیں۔ اتنے انسانوں کا وزن یہ بوسیدہ کشتی کیسے اور کب تک اٹھائے گی؟ سواروں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے کبھی ایک حصہ میں سوراخ ہو جاتا ہے تو کبھی دوسرے میں۔ اب تو سوراخ اتنے بڑے ہو گئے ہیں کہ پانی اندر آنے لگا ہے مگر اسے نکالتا کوئی نہیں اگر یہ ڈوب گئی تو ان مسافروں کا مستقبل کیا ہو گا؟ یہ سوچ کر ہی جھرجھری سی آنے لگتی ہے۔ آپ سمجھیں گے کہ ہم یاسیت پسند ہیں مگر جان عزیز ایسا ہرگز نہیں۔ یہ تو حقیقت پسندی ہے۔

پون صدی پہلے وہ ننگے پیروں پھٹے حالوں اسی اسٹیشن پہ کھڑا لہو بھری جبین زمین پہ ٹکائے شکر خداوندی میں سجدہ ریز تھا۔ سجدے وہ اب بھی کرتا ہے مگر پیشانی سے مسلسل بہتا لہو ابھی تک تھما نہیں۔ ان لال سجدوں سے سجی یہ سرزمین اب اس کے لیے کم پڑتی جا رہی ہے۔ پنج وقتی پکار کی آواز سن کر بوقت نماز وہ کس مسجد میں جائے کہ تمام مساجد کا مسلک فرق ہے۔ دوسروں کو کافر کہتے کہتے ہم اک دوسرے کو کافر کہنے لگے ہیں۔ بات یہاں تک نہیں رہی بلکہ اب تو جو اپنے مسلک کا نہ ہو اسے مار دینا عین ثواب ہے۔ ان تازہ خداؤں سے نمٹنے کا ہنر اس غریب الوطن کو نہیں آتا۔

اسے بتایا گیا تھا کہ تم اپنی تقدیر اب خود لکھو گے مگر نہ تو اس کے ہاتھ میں قلم دیا گیا نہ کاغذ۔ کوئلے سے دیواروں پہ لکھتے لکھتے انگلیاں سیاہ پڑ چکی ہیں مگر اس کے لکھے کو کوئی نہیں پڑھتا البتہ مردانہ کمزوری کا علاج کرنے والے خود ساختہ حکیموں کے اشتہارات ذوق و شوق سے پڑھے جاتے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ یہاں کے رہنے والے تمام لوگ ان کمزوریوں کا شکار ہیں۔ جب دیواریں ہنسی ٹھٹہ اڑاتی ہیں تو نگاہیں شرم سے نیچی ہو جاتی ہیں۔

نجومیوں اور جعلی پیروں فقیروں کے آستانوں پہ ایک جم غفیر نظر آتا ہے لگتا ہی نہیں کہ ہم اکیسویں صدی میں جی رہے ہیں ان کی پہنچ اقتدار کے ایوانوں تک ہے اور یہ آج کی کہانی نہیں یہاں تو ہر صاحب اقتدار کا ایک پیر رہا ہے کسی کا ڈنڈے والا پیر تو کسی کا بلیوں والا پیر، یہ اتنا سودمند کاروبار ہے کہ اب تو پیرنیاں بھی اس میدان میں قدم رنجہ فرما چکیں ہیں۔ بقول شاعر محو حیرت ہوں یہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے کی؟ ان ہی کے الٹی سیدھے چلوں کی بدولت زمام اقتدار کو طول دینے کی آرزوئیں جاری رہتی ہیں۔ ہمارے مرشد فیض نے کہا تھا

یہ آرزو بھی بڑی چیز ہے مگر ہمدم
وصال یار فقط آرزو کی بات نہیں

مرشد کی تو کسی نے ایک نا سنی۔ بند دروازوں پہ دستک دیتے دیتے وہ ملک عدم سدھارے۔ آرزوؤں کے کوڑے کھاتے کھاتے اس غریب کا نحیف بدن نیل و نیل ہو چکا ہے مگر مرہم رکھنے والے ہاتھوں کو تسبیح کے دانے گھمانے سے اتنی بھی فرصت نہیں ہے جو اس کے بارے میں دو حرف سوچیں۔

روحانیت کا یہ کون سا درجہ ہے جسے سمجھنے سے سمجھ بھی قاصر ہے۔ اقتدار کی صاحبا تو ہمیشہ سے یہی چاہتی ہے کہ

گلیاں ہو جان سونجھیاں تے وچ مرزا یار پھرے۔

پر کون سا مرزا یہاں تو مرزا ہونے کے اتنے دعوے دار ہیں کہ صاحبا بھی پریشان ہے کہ کون سا اصلی ہے اور کون سا نقلی، مگر نہیں یہ بھی ہماری خوش فہمی ہے وہ تو اتنی چالاک ہے کہ اپنے بھائی بندوں کو بچانے کے لیے کچھ بھی کر سکتی ہے یہاں تک کہ مرزا کی بلی بھی چڑھا سکتی ہے۔ مرزا کا کردار کون ادا کرے گا کوئی نیا ایکٹر یا پرانا؟ یہ بھی صاحبا کی صوابدید پہ منحصر ہے اتنے آرزو مند ہیں کہ کوئی بھی ہو سکتا ہے۔

کوئی بھی آئے کوئی بھی جائے اس مفلوک الحال بوڑھے کا نہ پہلے کوئی پرسان حال تھا نہ اب ہے۔ ہر کسی کو اپنی کانپتی ٹانگوں کی فکر ہے پر اس کی کانپتی ٹانگوں کی پرواہ کسی کو نہیں۔ ہزاروں پل اور سڑکیں ہیں جن کا رخ محبوب کے گھر کی جانب تو ہو سکتا ہے مگر ان میں سے کوئی ایک بھی اس غریب کی کٹیا کی جانب نہیں جاتی اور یہ بیچارا فاقہ کش دوا دارو سے بے نیاز اپنی جھلنگی کھٹیا پہ پڑا کھانستا رہتا ہے۔ اس کی تنگ و تاریک گلیوں میں ایمبولنس بھی نہیں پہنچ پاتی۔ اس کی کھانسی ہماری نیند خراب کرتی ہے۔ اس بے وقتی جگار کے ہاتھوں مجبور ہو کر میں آپ کو ایک خط لکھ ڈالتی ہوں۔

عریض اور عرضیاں لکھتے اک عمر گزری مگر ان میں سے ایک بھی صحیح پتے پہ پہنچ نہیں پائی شاید ردی کی ٹوکری ان کو کہیں بیچ میں سے اچک لیتی تھی۔ یہ برقی خطوط کا زمانہ ضرور ہے مگر دفتری بابوؤں کی ذہنیت ابھی تک وہی ہے۔ یہ کسی بھی عرضی کو صاحب عالم تک پہنچنے ہی نہیں دیتے۔ مجمع میں لہرائے جانے والے خط میں کیا لکھا ہے، کچھ لکھا بھی ہے یا نہیں، کون جانے، یہ بھید تو آج سے پچاس ساٹھ سال کے بعد ہی کھلے گا جب دستاویز ڈی کلاسیفائی ہو گی۔ جب تک پل کے نیچے سے بہت سا پانی گزر چکا ہو گا۔ ویسے بھی بڑے کھلاڑی کسی بھی بارہویں کھلاڑی سے ایسی باتیں لکھ کر نہیں کرتے۔ تاریخ بھی یہی کہتی ہے کہ وہ تو آنکھ کے اشارے پر ہی بیگ اٹھانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

پروفیسر ڈیر یہ بارہواں کھلاڑی ذہن سے ایسا چپکا ہے کہ کمبخت پیچھا ہی نہیں چھوڑتا۔ تالیوں کے جھرمٹ میں کھیلنے کی آرزو انسان کو کیا کیا کھیل کھیلنے پر مجبور کرتی ہے کہ خدا کی پناہ۔ پہلے سے بارہواں کھلاڑی بننے میں دیر نہیں لگتی۔ ارے کوئی تو ان بارہویں کھلاڑیوں کو سمجھائے جو کھیلنے کو چاند مانگتے ہیں۔ ان کے اس کھیل میں کیا یہ بوڑھا اناڑی یونہی کھانستا رہے گا؟ یا اس حرماں نصیب کے درد کا درماں ہو گا؟ ہو سکے تو اس بات کا جواب ضرور دیجیئے گا کہ سوچ کے ان دھاگوں کو سلجھاتے ہماری عقل تو جواب دے چکی ہے۔

والسلام
غزالہ

Facebook Comments HS

One thought on “بارہواں کھلاڑی کھیلن کو مانگے چاند

  • 09/04/2022 at 2:57 شام
    Permalink

    بہت اچھے

Comments are closed.