جنسی شناخت کا مسئلہ: مریم کی ماما اور چند بچے


السلام علیکم! ”میں مریم کی ماما ہوں“ ۔ میں نے چونک کر سر اوپر اٹھایا اور سامنے کھڑے شخص کو دیکھا جو ڈریس پینٹ شرٹ میں ملبوس ہاتھ بڑھائے کھڑا تھا۔ چہرے پر داڑھی مونچھوں کے ساتھ آواز میں بھی بھاری پن نمایاں تھا۔ میں نے اس کے ہاتھ کی طرف دیکھا جو یقیناً مصافحے کی نیت سے بڑھایا گیا تھا۔ اس کے حلیے اور جملے کے تضاد نے مجھے زمین اور آسمان کے درمیان کہیں معلق کر دیا تھا۔ کتنے لمحات گزرے یاد نہیں۔ ”میں مریم کی ماما ہوں“ وہ دوبارہ گویا ہوا میری سماعتوں نے شاید اس کی آواز میرے ذہن تک پہنچائی جو گومگو کی کیفیت میں شل تھا۔

اس کا ہاتھ ابھی بھی بڑھا ہوا تھا۔ خبر نہیں میرے چہرے پر اڑتی ہوائیاں اور احمقانہ تاثرات نے اس پر کیا اثر کیا تھا مگر میری حالت اس گل محمد جیسی تھی جو زمین کی جنبد کے باوجود بے جنبد تھا (زمیں جنبد نا جنبد گل محمد) ۔ خبر طوعاً و کرہاً میں نے ہاتھ بڑھایا اور انگلیوں کی پوروں کو بمشکل چھو کر فورا ہاتھ پیچھے کر لیا اور اسے کرسی پر بیٹھنے کو کہا۔ اگر وہ کہتا میں مریم کا باپ ہوں تو اچنبھے کی کوئی بات نہ ہوتی مگر یہاں تو معاملہ بالکل الٹ تھا۔

یہ سکول کی پی ٹی ایم تھی جہاں ہر طرح کے طلباء کے ہر طرح کے والدین سے واسطہ پڑتا ہے۔ اس ملاقات میں اس سے مریم کی پڑھائی کے بارے میں بات چیت ہوئی اور تھوڑی دیر میں یہ کہہ کر روانہ ہوا کہ ابھی آپ مصروف ہیں میں کسی دن آپ سے دوبارہ ملنا چاہتی ہوں تاکہ کچھ باتیں تفصیل سے کر سکوں۔ میں نے اسے پرنسپل سے ملنے کا مشورہ دیا اور کہا سکول کے دورانیے میں آپ آفس میں جب چاہیں میں بات کرنے کو تیار ہوں۔ ایک مصروف دن کے اختتام نے میرے ذہن میں کئی سوالات اٹھا دیے تھے۔

یہ شخص جو خود کو مریم کی ماں کہہ رہا تھا یہ مریم کی ماں ہے یا باپ۔ شاید میری سماعتوں کو کوئی عارضہ لاحق ہوا ہو اور میں بات غلط سمجھی ہوں بہرحال بات آئی گئی ہو گئی۔ اگلے ہفتے پرنسپل نے مجھ سے کہا آج چھٹی کے بعد مریم کی والدہ آپ سے ملنا چاہتی ہیں آپ میرے آفس میں آجائیں۔ آفس میں وہ شخص بھرپور مردانہ حلیے میں موجود تھا۔ میں جو خود کو بہت پراعتماد اور خاصی رعب دار سمجھتی آئی ہوں ٹھیک ٹھاک پریشان ہو چکی تھی محاورتاً نہیں حقیقتا میری سٹی گم تھی۔

پرنسپل نے ابتدائی تعارفی جملے ادا کرنے کے بعد خاموشی اختیار کر لی۔ وہ بولا مریم میری اکلوتی بیٹی ہے مگر وہ مجھ سے نفرت کرتی ہے۔ وہ چاہتی ہے میں کسی سے نہ ملوں۔ سکول نہ آؤں نہ ہی کسی کو بتاؤں کہ میں اس کی ماں ہوں۔ آپ بتائیں یہ کیسے ممکن ہے۔ میں اپنی بیٹی سے بہت پیار کرتی ہوں۔ وہ میری زندگی کا واحد سہارا ہے یہ کہتے ہوئے اس کی آنکھوں میں آنسو اور لہجے میں حسرت تھی۔ پھر بولا وہ آپ کی بہت عزت کرتی ہے اور بات مانتی ہے آپ اسے سمجھائیں کہ وہ اپنا رویہ درست کرے۔

میں نے اسے تسلی دی کہ آپ پریشان نہ ہوں میں مریم سے بات کروں گی اور اسے سمجھاؤں گی۔ اس کے چہرے پر شکرگزاری کے تاثرات ابھرے اور اجازت لے کر رخصت ہوا۔ اس کے جانے کے بعد میں نے پرنسپل سے کہا کہ پہلے تو آپ میری کنفیوژن دور کریں کہ یہ مریم کی ماما ہیں یا بابا۔ وہ مسکرائیں اور کہا ماما۔ یا وحشت مجھے اس شہر میں آئے زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا۔ یہ ایک بڑا صنعتی شہر تھا۔ صنعت اور سرمایہ داری کی اپنی اساطیر ہوتی ہیں۔ زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانے اور اسے کھپانے کے لیے سرمایہ دار اسطورہ ساز بھی ڈھونڈ لاتا ہے اور فنکار بھی مجھے یہ بھی کوئی ایسا کردار لگا۔ ذہن کے کسی گوشے میں منٹو کے مسٹر حمیدہ نے بھی انگڑائی لی مگر عقل نے سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ تو غیر شادی شدہ تھی اور یہ ایک بیٹی کی ماں ہے۔

اگلے روز میں نے کچھ کولیگز جو اس کیمپس میں بہت عرصے سے کام کر رہی تھیں سے بات کی اور اس معاملے کو سمجھنے کی کوشش کی۔ ایک دن مریم کو لائبریری میں بٹھا کر اس سے بات کی تو اس کے تاثرات نے مجھے پریشان کر ڈالا۔ اس کا چہرہ بالکل سپاٹ تھا اور آنکھیں ویران آہستہ آہستہ بات چیت شروع کی تو وہ کھلنے لگی۔ آپ نے دیکھا ہے آپ بتائیں یہ میری ماما لگتی ہیں یا بابا۔ میں نے کہا وہ ماما کہتی ہیں تو پھر ماما ہیں۔ مریم بولی آپ نے ان کا حلیہ دیکھا ہے میں نے جواب دیا کہ یہ ان کی اپنی چوائس ہے خیر بچی کو تو سمجھا بجھا کر رخصت کر دیا مگر میرے اپنے دل میں جو کانٹا کھٹک رہا تھا اسے تو نکالنا تھا۔

مریم کی ماما سے اگلی ملاقات بہتر ماحول میں ہوئی کیوں کہ اب تک میں اپنے تاثرات پر بھی قابو پا چکی تھی اور حالات کو سمجھنے پر بھی مائل تھی۔ میں نے نوٹ کیا تھا کہ وہ مصافحے کے لیے ہاتھ ضرور بڑھاتی ہے حالانکہ یہ کوئی اتنا ضروری امر نہیں تھا شاید اس طرح وہ اپنی تسلی کرنا چاہتی تھی کہ وہ ایک عورت ہے اور عورتوں سے ہاتھ ملانے میں حرج نہیں۔ اس ملاقات میں اس نے بتایا کہ مریم کی پیدائش کے بعد اس کے جسم میں ہارمونز کی ایسی اتھل پتھل ہوئی کہ دنوں میں چہرے پر بال آنے لگے اور آواز میں بھاری پن۔ جسم ہر طرح کے زنانہ اثرات و تاثرات سے بیگانہ ہونے لگا۔ کافی عرصہ ذہنی پریشانی اور ڈپریشن نے اپنے کمرے میں مقید رکھا۔ سسرال کی نفرت و حقارت کو شوہر نے مہمیز دی جب اس نے یہ کہہ کر گھر چھوڑنے کا حکم دیا کہ میں ایک مرد کے ساتھ زندگی نہیں گزار سکتا۔ ننھی سی جان کو سینے سے لگائے میکے آ گئی

بھائی پڑھے لکھے اور روشن خیال تھے انہوں نے علاج اور توجہ میں کوئی کمی نہیں آنے دی۔ بڑی بھابی بہت شفیق خاتون ہیں انہوں نے اس دور ابتلا میں مریم اور اسے سنبھالا۔

بچپن تک سب ٹھیک رہا۔ مریم کو ایک ہی شخصیت میں ماں اور باپ دونوں میسر تھے وقت گزرنے کے ساتھ میں نے خود کو سنبھالا۔ اب اس معاشرے میں جینا اور خودداری کے ساتھ جینا تھا۔ راہ میں بڑی رکاوٹیں تھیں۔ مردانہ چہرے اور زنانہ لباس کا کوئی تال میل نہیں تھا۔ سماج آوازیں کستا۔ معاشرہ گالی دیتا اور روایات کندھا مار کر گزرنے کی کوشش کرتیں۔ میں نے اس مسئلے کا حل نکالا اور مکمل مردانہ حلیہ اپنا لیا۔ چہرے کے بال صاف کرانے کی بجائے خط بنوانا شروع کر دیا اور مردانہ لباس میں نئی زندگی کو اعتماد سے خوش آمدید کہا جس میں میرے بھائیوں اور بھابیوں کا بڑا ہاتھ ہے۔ میں اپنی زندگی سے مطمئن ہوں مگر اب مریم بے اطمینانی کا شکار ہے کیوں کہ اسے اس حلیے کے ساتھ لوگوں کو سمجھانا مشکل ہے کہ میں اس کی ماں ہوں۔ اس کہانی کو ڈاکٹرز پر چھوڑ کر آگے چلتے ہیں کہ وہ کون سی وجوہات ہو سکتی ہیں جن کے باعث ایک مکمل عورت نامکمل مرد میں تبدیل ہو جائے۔

یہ پاکستان کا بڑا صنعتی شہر ہے۔ لوگ خوش حال ہیں۔ یہ خوش حالی ان کے رہن سہن اور مزاج میں نظر آتی ہے۔ بلند و بالا عمارتیں، اعلی ریستوران، مہنگے برینڈز سے بھرے شاپنگ مال ہی سرمایہ داری کی علامت نہیں تعلیمی ادارے بھی اس دوڑ میں شامل ہیں۔ ہر بڑا سکول سسٹم جو کیمبرج اور بیرون ملک دوسرے اداروں سے جڑا ہے کے بڑے بڑے کیمپس موجود ہیں جن کے گیٹ سے داخل ہوتے ہی آپ خود کو کسی اور دنیا میں پاتے ہیں اور گیٹ سے باہر کا پاکستان آپ کو ان اداروں کی کالونی نظر آتا ہے۔

یہاں مل مالکان اپنے بچوں کو یہ سوچ کر داخل کرواتے ہیں کہ بچے اور کچھ سیکھیں نہ سیکھیں کم از کم چھ گھنٹے آوارہ گردی سے تو بچیں گے وہاں بچے والدین سے تقاضا کرتے ہیں کہ آپ کے مل مینجر کا بچہ ہمارے سکول میں پڑھتا ہے جو ہماری توہین ہے لہذا ہمارا سکول تبدیل کروائیں اور والدین ترنت بچے کا سرٹیفکیٹ لے کر اسے مزید مہنگے سکول میں داخل کروا دیتے ہیں۔ اسی طرح کے ایک سکول کے اے لیول سیکشن میں دو ایسے لڑکے موجود ہیں جو کلاس کے لڑکوں کے ہاتھوں خوب ستائے جاتے ہیں وجہ آواز و انداز کا زنانہ پن، لچکیلی کمر اور چلنے کا نسوانی انداز۔

ایک لڑکا ہر وقت گلے میں سکارف لئے رکھتا ہے اور جب شرارتاً کوئی دوسرا لڑکا سکارف کھینچ لے تو دونوں ہاتھ سینے پر باندھ کر شکایت کرتا ہے میڈم دیکھیں اس نے میرا دوپٹہ کھینچ لیا۔ دوسرا معمولی فرق کے ساتھ اسی جیسا ہے دونوں دوست نہیں سہیلیاں ہیں۔ مریم کی ماما سے ملاقات سے پہلے ان کو محض بچے سمجھ کر نظر انداز کر دیا کرتی تھی مگر اب احساس ہوا کہ حالات سازگار نہیں تھے۔ ان سکولوں میں پڑھنے کا ایک فائدہ تو ہے کہ بچے پراعتماد ہیں اور وقت کے تقاضوں کو سمجھتے ہیں۔ سو پہلا بچہ بڑے اعتماد سے کہا کرتا باہر پڑھنے جاؤں گا اور اپنی سرجری کراؤں گا۔ ایسے میں سکالر شپ ملا تو سب کی دعائیں سمیٹ کر امریکہ چلا گیا۔ کئی سال بیت گئے خدا جانے صبیح رہ کر پاکستان واپس آیا یا صبیحہ بن کر امریکی زندگی میں رچ بس گیا۔ جہاں ہو سلامت ہو۔

اریب نہایت خوب رو لڑکا ہے۔ قدرت بناتے سمے کہیں کوئی کھیل کھیل گئی۔ انسان بنانا یاد رہا عورت یا مرد کا فیصلہ نہ ہوسکا۔ بچہ تو وقت پر دنیا میں آ گیا مگر ماں باپ کی کڑی آزمائش بن کر۔ پیدائش کے بعد اسے باقی بہن بھائیوں کی طرح پالا جانے لگا۔ ہمارے سماج میں انوکھی بات کب چھپتی ہے۔ ایک دن بڑے گرو کو جانے کیسے خوش بو پہنچی کہ آدم بو، آدم بو کرتے آن دھمکا اور دعوٰی کیا کہ ایسے بچے خدا کی طرف سے ہمارا انعام ہوتے ہیں۔

اس کے والدین اور خاص طور پر دادا نے بڑی سختی سے گرو کو گھر سے چلے جانے کو کہا کہ اگر یہ بچہ ہماری آزمائش ہے تو ہم اس آزمائش پر پورا اترنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔ یہ ہمارا بچہ ہے اس پر سوائے ہمارے کسی کا کوئی حق نہیں۔ اس وقت تو گرو اور اس کے چیلے چلے گئے مگر جاتے ہوئے دھمکی دے گئے کہ ہم یہ بچہ ہر صورت حاصل کریں گے۔ دن رات اریب میاں کڑی نگرانی اور پہرے میں پلنے لگے۔ سکول جانے کی عمر آئی تو دادا نے کمر کس لی اور ڈرائیور اور دوسرے بچوں کے ساتھ خود سکول لانے لے جانے کی ذمہ داری اٹھا لی۔

ایک دن اریب میاں دوسرے بچوں ساتھ گھر سے باہر کھیل رہے تھے کہ گرو اور چیلوں نے چیل کی طرح جھپٹا مارا اور ننھی سی جان کو لے اڑے۔ پولیس رپورٹ کرائی گئی جگہ جگہ چھاپے مارے گئے مگر کوئی خبر نہ ملی آخر دادا نے عدالت میں مقدمہ کیا۔ عدالت کی سختی سے پولیس نے اریب کو برآمد کیا۔ کیس کا فیصلہ تو اریب میاں کے حق میں ہوا مگر اب اس پر آزادی کے راستے مسدود ہو گئے۔ گھر والے تعلیم یافتہ تھے مگر معاشرہ تو ان پڑھ ہے۔ سمجھ دار ہونے تک اس کی تعلیم گھر میں مکمل کروائی گئی پھر کالج اور یونیورسٹی کی شکل دکھائی گئی۔ اب اریب میاں ایک بڑے سکول میں پڑھاتے ہیں۔ رزق حلال کماتے ہیں اور اپنے پاؤں پر کھڑے ہیں۔ نہ بھائی بہنوں پر بار ہیں اور نہ ہی پیٹ کا ایندھن کمانے کے لیے کوئی غلط راہ اختیار کی۔

یہ سب لکھنے کا مقصد کہانی لکھنا نہیں بلکہ اس امر کی طرف توجہ دلانا ہے کہ ہم ٹرانس جینڈرز کے بارے میں عموما ایک ہی سوچ رکھتے ہیں کہ انہیں معاشرہ قبول نہیں کرتا۔ معاشرہ بے شک قبول نہ کرے اگر والدین قبول کر لیں تو کس کی مجال ہے کہ کوئی انہیں ستائے۔ وہ عام لوگوں کی طرح معاشرے کا کارآمد شہری بن سکتے ہیں جیسے باقی سب ہیں۔ بس اتنی سی کہانی ہے اتنا سا فسانہ ہے۔

Facebook Comments HS

One thought on “جنسی شناخت کا مسئلہ: مریم کی ماما اور چند بچے

  • 07/04/2022 at 12:46 شام
    Permalink

    میڈم آپ نے بہت خوبصورت تجزیاتی پوسٹ تحریر کی ہے۔ یہ موضوع بہت کچھ چاہتا ہے لکھنے کےلیئے۔ پلیز اسی موضوع کو اپنا موٹو بنالیں تاکہ آگاہی پھیلتی رہے۔ بہت شکریہ

Comments are closed.