وفاق اور صوبے میں حکومت

پہلی دفعہ حکومت میں آنے والی جماعت نے گزشتہ ساڑھے تین سالوں میں یہ ثابت کر دیا کہ وہ نا اہل اور نا تجربہ کار ہے۔ اپنے دور حکومت میں معیشت کا بیڑا غرق کر دیا، کمر توڑ مہنگائی عوام پہ مسلط کر دی ڈالر، کے نئے ریکارڈ، پیٹرول دو گنا مہنگا، سٹیٹ بینک کی خود مختاری اور ایڈمنسٹریشن میں مکمل فیل۔ غرض کہ ہر میدان میں پی ٹی آئی نے ثابت کیا کہ وہ نا تجربہ کار ہیں اور حکومت کرنے کے اہل نہیں ہیں اور جس طرح عوام نے انہیں سپورٹ کیا ووٹ دیے ان کی امیدوں پہ پانی پھیر دیا اور آخر میں عدم اعتماد کا جمہوری انداز میں سامنا کرنے کی بجائے پچھتر سالہ تاریخ میں پہلی بار اتنا شدید بحران کھڑا کیا کہ وہ کسی صورت حل ہونے کو ہی نہیں ہے۔ اور پھر بنا کسی حکمت عملی کے قومی اسمبلی تحلیل کر دی اور ملک کو لاوارث چھوڑ دیا۔
صوبے میں بھی اپوزیشن کی طرف سے تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی اور وہاں بھی ایسا کھیل کھیلا جا رہا ہے جس سے لگ رہا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت سے الگ نہیں ہونا چاہتی۔ خاتون اول کی دوست فرح خان کی کرپشن کے سکینڈل کے علاوہ بھی بہت سی کہانیاں زیر گردش ہیں۔
اگر دوسری طرف اپوزیشن کی طرف دیکھا جائے تو انہوں نے بھی ماضی کے تلخ تجربات سے کچھ نہیں سیکھا اور پی ٹی آئی کی طرح وہاں بھی طاقت حاصل کرنے کا لالچ ہے۔ پارٹیاں کارکنان کی تربیت کرتی ہیں مگر یہاں سیاسی کارکن کم اور سیاسی مرید زیادہ ہیں۔ اپنی حمایت والی پارٹی کے متعلق کوئی بات نے کو ہرگز تیار نہیں۔ سوشل میڈیا پہ ایک دوسرے سے لڑ جھگڑ رہے ہیں اور اب یہ لڑائی سوشل میڈیا سے نکل کر حقیقت کا روپ دھار چکی ہے۔ ابھی کسی دوست نے ویڈیو بھیجی لندن میں میاں نواز شریف کے گھر کے باہر سیاسی مریدین آپس میں دست و گریباں تھے ایک دوسرے کو گالیاں دے رہے تھے۔ افسوس ہوا سیاسی کارکنان کی گفتگو سن کے کیا یہ تربیت کی ہے سیاسی پارٹیوں نے اپنے کارکنان کی؟
اپوزیشن نے جس طرح قومی اسمبلی میں اپنا سپیکر بٹھا کے غیر قانونی کارروائی چلائی قابل مذمت ہے آج بھی اسی طرح لاہور کے ایک ہوٹل میں بیٹھ کے اپنی حکومت بنا لی اور اپنا وزیراعلیٰ منتخب کر لیا۔ قومی اسمبلی میں بھی وزیراعظم بنا کے کیا ملا؟ اور اسی طرح پنجاب میں وزیراعظم بنا کے کیا بنے گا؟ سیاسی پارٹیوں کی یہ طاقت حاصل کرنے کی کشمکش ملک کو نقصان دے گی۔ اپوزیشن نے کوئی معاشی ایجنڈا نہیں دیا بجٹ سر پہ ہے صرف حکومت بنانے اور طاقت حاصل کرنے کی جلدی ہے۔ اگر اسی طرح تمام سیاسی پارٹیوں کے درمیان پاور حاصل کرنے اور دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش جاری رہی تو ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
کسی بھی سیاسی جماعت کو ملک میں کوئی واضح اکثریت حاصل نہیں ہے کسی ایک صوبے میں کسی ایک سیاسی جماعت کی اکثریت ہے تو دوسرے صوبے میں کسی دوسری جماعت کی۔ اگر اس طرح ہی چلتا رہا تو خاکم بدہن ملک کی اکائی کا کیا بنے گا؟
اگر اسی طرح سیاسی جماعتوں کی آپا دھاپی چلتی رہی تو غیر جمہوری قوتوں کو موقع ملے گا پھر بیٹھے رہیں سب اپنے اپنے گھروں میں۔ ملک فری فال کی حالت میں ہے ہر سیاسی پارٹی اپنی ذاتی جنگ لڑ رہی ہے کہ کسی طرح حکومت حاصل کر لی جائے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ابھی ملک میں کوئی حکومت نہیں ہے اور جب تک عوام سے مینڈیٹ حاصل نا کیا جائے کسی سیاسی پارٹی کی حکومت کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ خان صاحب بھی آئینی اور سیاسی بحران پیدا کر کے ایک نکڑ میں بیٹھے تماشا دیکھ رہے ہیں۔ وہ حکومت چھوڑنے کو تیار نہیں وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ملک چلا ہی صرف وہ سکتے ہین حالانکہ گزشتہ ساڑھے تین سال میں وہ کچھ نہیں کر سکے نا معاشی میدان میں نا سفارتی میدان میں۔
سیاسی کارکنان سے گزارش ہے کہ سیاسی کارکن بنیں خواہ کسی بھی پارٹی سے ان کی وابستگی ہے خدارا سیاسی مرید نا بنیں۔ تنقید سنیں اور تحمل سے ان کا لاجیکل جواب دیں۔ دوسری صورت میں سیاسی کارکنان کے درمیان گلیوں اور سڑکوں پہ لڑائیاں شروع ہو جائیں گی۔ جو کہ کسی بھی پارٹی کے مفاد میں نہیں ہیں۔
تمام سیاسی پارٹیوں سے بھی گزارش ہے کہ اس آئینی بحران کو مل بیٹھ کے دور کریں۔ اور سپریم کورٹ کے فیصلہ کا انتظار کریں۔ سوشل میڈیا پہ لوگ روزانہ ہونے والی عدالتی کارروائی کا مذاق اڑا رہے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ خان صاحب کا پیدا کیا گیا آئینی اور سیاسی بحران حل کرنا سپریم کورٹ کے لیے اتنا آسان نہیں ہے۔ اس کے لیے تمام سیاسی پنڈتوں کو کام کرنا ہو گا تاکہ ملک میں انتخابات ہوں اور جو بھی حکومت آئے وہ ملک کی ترقی کے لیے کام کر سکے۔ ہردم دعا ہے کہ پروردگار اس ملک کے لیے ہر لحاظ سے بہتر کرے۔
پاکستان زندہ آباد
پاکستان پائندہ آباد

