نظریہ ضرورت دفن ہوگیا
جمہوری ملکوں میں محض جمہوریت ہی پروان نہیں چڑھتی اس کے ساتھ ساتھ معاشرہ بھی فکری طور پر ترقی کر رہا ہوتا ہے۔ باہمی گفتگو تلخی کی بجائے دلیلوں کے ساتھ ہونے لگتی ہے۔ ایک دوسرے کا نقطہ نظر سننے اور سمجھنے کے لیے سازگار ماحول بن جاتا ہے۔ اختلاف رائے کو ذاتی توہین نہیں سمجھا جاتا اور نا ہی گستاخی تصور کیا جاتا ہے بلکہ اختلاف رائے کو خندہ پیشانی سے قبول کیا جاتا ہے۔ نئی روایات تشکیل پاتی ہیں جس میں مختلف الخیال لوگ مل کر مسائل کا مناسب اور پائیدار حل تلاش کرتے ہیں۔ باہمی مشاورت سے قومی سطح پر فیصلے کیے جاتے ہیں قوم کو ایک سیدھی راہ پر ڈالا جاتا ہے۔
یہی نہیں بلکہ اس طرح کے جمہوری معاشرے میں سیاسی جماعتیں بھی مسلسل اپنی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے بہتر سے بہتر پرفارم کرنے کی کوشش کرتی ہیں اس لیے ان کی کارکردگی پہلے سے بہتر ہوتی جاتی ہے۔ سیاسی جماعتوں کا حجم اور پھیلاؤ بڑھتا جاتا ہے اور وہ چند حلقوں یا چند شہروں سے نکل کر قومی سطح پر اپنا کردار ادا کرنے لگتی ہیں۔ یہ جمہوریت کا حسن ہے جہاں ہر پارٹی اور ہر شخص کو ترقی کرنے کا آگے بڑھنے کا موقع ملتا ہے۔ اپنے منشور پر عمل کرتی ہوئی سیاسی جماعتیں کسی بھی جمہوری معاشرے کا سب سے لازمی اور حسین جزو ہوتی ہیں۔
جمہوریت ایک لگا بندھا اصول نہیں ہے یہ کسی مخصوص فارمولے اور ضابطے کے تحت نہیں ہوتی۔ آئے روز ملک و قوم کو نئے مسائل درپیش ہوتے ہیں اور ان کو جمہوری انداز میں حل کرنے کے لیے باہمی مشاورت سے راستے نکالے جاتے ہیں۔ ملک و قوم کی بہتری کے لیے بنیادی اصول ایک ہی ہے کہ اپنی ذات سے بالاتر ہو کر پارٹی مفادات سے بالاتر ہو کر ملک و قوم کے لیے سوچا جائے۔ جہاں پر ملکی مفاد سامنے آ جائے ہر سیاسی جماعت اور سیاسی قائدین اپنی بات سے پیچھے ہٹتے ہوئے ایک نقطے پر اکٹھے ہوجائیں۔
بدقسمتی سے وطن عزیز کو ایسا جمہوری ماحول میسر نہیں آ سکا یا ایسا ماحول بننے ہی نہیں دیا گیا۔ ہر جمہوری دور کے بعد ایک طویل مدت کے لیے غیرجمہوری قوتوں نے ملک و قوم کی باگ ڈور سنبھال لی اور جب معاملات ان کی دسترس سے باہر ہونے لگے تو با امر مجبوری سیاسی جماعتوں کو سامنے لانا پڑا۔ جو تھوڑے بہت وقت کے لیے جمہوریت میسر آئی بھی تو اس میں بھی ہمارے جمہوری رویے ہماری ذاتی پسند نا پسند کے محتاج تھے۔ لہذا کئی بار تو ایسا محسوس ہوا کہ شاید ہم جمہوریت کے لائق ہی نہیں ہیں۔ تند و تیز لہجے اور کھردرے رویے لیے ہم بحیثیت قوم نا تو کوئی بات سننے کو تیار ہوتے ہیں اور نا ہی سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں جمہوریت کا پودا پھل پھول نہیں سکا۔ جمہوریت پروان نہیں چڑھ سکی تاہم کچھ روشن دماغ ایسے بھی تھے جو بار بار یہ کہتے رہے کہ بہترین آمریت سے بدترین جمہوریت بہتر ہے۔ ایسے لوگوں کا جمہوریت پر یقین اور ایمان ایسا تھا کہ ہم آہستہ آہستہ جمہوری مزاج اپنانے لگے۔ اپنی غلطیوں سے سیکھا تو پہلی بار میثاق جمہوریت کی دستاویز پر دستخط کیے۔ 73 کے آئین کے بعد میثاق جمہوریت ایک ایسی دستاویز ہے جو ہماری جمہوری سوچ اور پختہ فکری اور شعوری ترقی کی عکاسی کرتی ہے۔
جہاں تک آئین کی بات ہے تو کوئی شک نہیں کہ یہ ریاست اور اس ریاست کی حدود کے اندر بسنے والے افراد کے مابین ایک ایسا معاہدہ ہے ایک ایسی دستاویز ہے کہ جس کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں ہے۔ آئین معاشرے کے ہر فرد کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرتا ہے۔ زندگی گزارنے کا ایک اصول اور ضابطہ اخلاق دیتا ہے۔ یہی آئین ہی ہے جس کی وجہ سے مختلف اقوام اور نسلوں کے لوگ ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کر قوم بنے ہوئے ہیں۔ بلاشبہ آئین مقدس ہے یہ آئین ہر چیز سے مقدم، بالاتر ہے کسی بھی شخص، کسی بھی سیاسی جماعت اور کسی بھی مکتبہ فکر سے سپریم ہے۔
عمران خان کے تین اپریل کے اقدامات سے جہاں دیگر بہت سے مسائل نے جنم لیا وہاں پر آئین کی سپرمیسی بھی چیلنج ہوئی۔ کیا کسی بھی حکومت کے اقدامات آئین سے بالاتر ہوسکتے ہیں۔ کیا آئین کو اصول و ضوابط سے ہٹ کر اپنی مرضی سے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ کیا آئین کی تشریح اپنی مرضی سے کی جا سکتی ہے۔ یہی وہ سوال تھے جن کے جواب کی تلاش میں متحدہ اپوزیشن سپریم کورٹ گئی۔ اپوزیشن کا موقف تھا کہ عمران خان کے اقدامات آئین کے منافی ہیں جبکہ حکومت کا موقف تھا کہ جو کچھ انہوں نے کیا اس کی اجازت آئین دیتا ہے۔
7 اپریل کو سپریم کورٹ کے پانچ ججز نے متفقہ فیصلہ دیتے ہوئے حکومتی اقدامات کو غیر آئینی قرار دیا اور معاملات کو آئینی انداز میں حل کرنے کے احکامات جاری کیے۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی ملک میں چار دنوں سے جاری سیاسی بحران کا خاتمہ ہوا اور قوم نے سکھ کا سانس لیا۔ ایسے موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا بیان کہ یہ نا تو اپوزیشن کی جیت ہے اور نا ہی حکومت کی ہار ہے بلکہ یہ فیصلہ آئین کی جیت ہے نے دل جیت لیے ۔
جمہوریت بہت شاندار طرز حکمرانی ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ ذاتی تعصبات سے ہٹ کر ملک و قوم کی بہتری کے لیے مل جل کر کوشش کی جائے۔ اپوزیشن سے بات نہیں کروں گا آخری بال تک لڑوں گا میرے پاس سرپرائز ہے جیسے بیانات سے جمہوریت کی خدمت نہیں ہو سکتی ملک و قوم کی بھلائی نہیں ہو سکتی۔ عمران خان نے اگر سیاست کرنی ہے تو اس کو کنٹینر سے اترنا پڑے گا اور جمہوری رویے اپنانے ہوں گے جمہوری سوچ اپنانی ہوگی۔ ضد، ہٹ دھرمی سے عمران خان اکیلا رہ جائے گا اور اکیلا بندہ جمہوریت میں زیادہ دیر نہیں چل سکتا۔
اب بھی وقت ہے کچھ نہیں بگڑا اگر حکومت اچھی نہیں کرپائے تو کوئی بات نہیں بطور اپوزیشن لیڈر ایک ذمہ دار رویہ اپنا کر عوام کا دل جیتا جاسکتا ہے۔ مسائل کے حل کے لیے سیاسی جماعتوں سے مشاورت کی جا سکتی ہے ملک و قوم کی ترقی میں اپنا مثبت کردار ادا کیا جاسکتا ہے۔ اور حرف آخر یہ کہ خراج تحسین پیش کرتے ہیں معزز عدلیہ کو جس نے بالآخر نظریہ ضرورت کو دفن کرتے ہوئے قانون کے مطابق فیصلہ دیا۔


