کیا جھوٹ کسی کے باپ کی ملکیت ہے ؟دل کھول کے بولو


اس جملے کا حوالہ ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی سردار دوست مزاری نے پروفیسر شہباز گل کے حوالے سے دیا، ان کا کہنا تھا کہ شہباز گل انتہائی جھوٹا آدمی ہے۔ مگر اب یہ تاریخی جملہ پوری تحریک انصاف کی عکاسی کر رہا ہے اور خان صاحب کو مسیحا ثابت کرنے کے لیے پوری ایڑی چوٹی کا زور لگا کر جھوٹ پر جھوٹ بولے جا رہے ہیں تاکہ اس تاریخی حقیقت کو سچ بنانے میں اپنا بھرپور حصہ ڈالا جا سکے، جس کے مطابق کہا جاتا ہے کہ ”جھوٹ اتنے تسلسل سے بولو کہ وہ سچ لگنے لگے“ ۔

بات یہاں تک رہتی تو کوئی حرج نہیں تھا کیونکہ تاریخی جھوٹ کو جتنا بھی چھپا لو زیادہ دیر تک چھپے نہیں رہتے، جیسے جیسے شعور کی سطح بلند ہوتی جاتی ہے جھوٹ ننگا ہوتا چلا جاتا ہے۔ لیکن یہاں تو بات انتہائی خطرناک سطح تک پہنچ چکی ہے سندھ اسمبلی کے باہر تحریک انصاف کے ایک ایم پی اے ویڈیو کلپ بنا رہے ہیں اور ان کے پیچھے کچھ پتلے جن پر غدار لکھا ہوا ہے لٹکے ہوئے ہیں۔ اور موصوف چیخ چیخ کر یہ بتانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ہم نے غدار وطن کو علامتی پھانسی دے دی ہے۔

اگلا تماشا ڈی چوک میں ”مجسمہ مبالغہ آ رائی“ مراد سعید نے لگایا اور اپنے خطاب میں یہ تک کہہ ڈالا کہ ان غداروں کو ڈی چوک میں کھڑا کر کے پھانسی دے دی جائے اور سامنے کھڑا ہجوم اس پر تالیاں پیٹنے لگتا ہے۔ وطن عزیز میں یہ کیسی رسم چل نکلی ہے کہ ”چونکہ ہم نے آپ کو غدار ڈکلیئر کر دیا ہے اس بنیاد پر تم غدار ٹھہرائے جاتے ہو“ کیا ہمیں اس بات کا اندازہ ہے کہ اگر یہ رسم چل نکلی تو بات کہاں تک پہنچ سکتی ہے؟ غدار غدار کا ڈھنڈورا پیٹنے کے بعد یہ رویے سندھ اسمبلی کے سامنے پتلوں کو علامتی پھانسی دینے تک جا پہنچے، اس کے بعد یہ رویے موب لنچنگ تک بھی جا سکتے ہیں، اگر ایسا ہوتا ہے تو پھر کون محفوظ رہے گا؟

مذہبی جنونیت اب تک کئی بے گناہوں کو بے دردی سے ذبح کر چکی ہے۔ تصور کریں اس وقت کا جب وطن عزیز میں سیاسی جنونیت کی خوفناک شکل سامنے آنے لگے گی اور لوگ اپنے سیاسی مسیحا کی خاطر دوسرے سیاسی مخالفین کی گردنیں اتارنے لگیں گے تو اس وقت ہم کسے مورد الزام ٹھہرائیں گے؟ غدار کارڈ کا یہ سلسلہ محض الزام تراشی تک نہیں رکے گا بلکہ ایک دوسرے کو کافر قرار دینے تک پہنچ جائے گا۔ ہمارے بادشاہ سلامت اور ان کے ساتھ شامل چند محب وطن مذہبی کارڈ کا بے دریغ استعمال کر کے ایک ایسی جنونی قوم کو اکسا رہے ہیں جو محض خواب میں بشارت ملنے پر دوسرے کا گلا کاٹ دیتے ہیں اور محض الزام کی بنیاد پر لاش کو آگ لگا کر راکھ میں تبدیل کر دیتے ہیں۔

المیہ یہ ہے کہ نفرت کی یہ آگ غریبوں کو جھلسائے گی اور جو گیم کرنے والے ہوتے ہیں وہ ہمیشہ محفوظ رہتے ہیں۔ ان کا کچھ نہیں بگڑتا کیونکہ ہمیشہ بستیاں جلتی ہیں محل کبھی نہیں جلتے۔ محل والوں کے پاس بچ نکلنے کے بہت سے راستے ہوتے ہیں، جھونپڑیوں والے تو ہمیشہ سے بند گلی کے اسیر ہوتے ہیں۔ موجودہ وقت میں عمران خان کو مسیحا پینٹ کرنے کے لیے تمام آپشن استعمال کیے جا رہے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ شعبدہ بازیاں، گھٹیا زبانیاں یا غدار غدار کا یہ کھیل کہیں پری پلان حکمت عملی کا شاخسانہ تو نہیں ہے؟

جھوٹ بار بار بولو اور مل کر بولو کہ سچ لگنے لگے کہیں اس بیانیہ کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش تو نہیں کی جا رہی ہے؟ ایک آئینی سیاسی میچ کو شاوٹنگ گیم کی طرف موڑنے کا مقصد کیا ہے؟ اس کنونسنگ گیم سے بادشاہ سلامت کے چند وفادار تو کنونس ہو جائیں گے مگر باقیوں کا کیا؟ کیا انہیں کنفیوز رکھنے کے لیے یہ مائنڈ گیم کھیلی جا رہی ہے تاکہ راشن کارڈ، انصاف کارڈ یا صحت کارڈ پر ٹرخائی ہوئی یہ قوم الیکشن تک کنفیوژن میں ہی رہے تاکہ بیلٹ باکس کسی نہ کسی طرح بھرنے کا بندوبست بنا رہے۔

مزے کی بات یہ ہے کہ ہر وہ کارڈ کھیلنے کی کوشش کی جا رہی ہے جس سے کسی نہ کسی طرح بادشاہ سلامت کی مقبولیت قائم رہ سکے۔ بیرونی سازش کے ماسٹر سٹروک کے بعد اب مذہب کارڈ بھی خوب کھیلا جا رہا ہے۔ بادشاہ سلامت کا اقبال بلند رکھنے کے لیے پروفیسر شہباز گل موجودہ سیاسی رسہ کشی کو امام حسین اور یزید کا یدھ قرار دے رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف بادشاہ سلامت بقلم خود میر جعفروں اور میر صادقوں کا مقابلہ کرنے کے لیے عوام کو باہر نکلنے کی دعوت دینے میں مصروف ہیں۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ بدتہذیبی کا یہ وائرس بچی کھچی تقریباً ساری تحریک انصاف میں پھیل چکا ہے اور اب سوشل میڈیا کے ذریعے سے اس وائرس کو پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ ”عمرانی چورن“ کب تک بکتا ہے اور اس میں کتنا دم ہے۔ ایک بات تو طے ہے کہ یہ جتنے بھی بادشاہ سلامت کے وارے جا رہے ہیں ان میں اتنی بھی اخلاقی جرات نہیں ہے کہ یہ اس ملک کا گرین کارڈ ہی جلا ڈالیں جس ملک نے ان کے امیر المومنین کے خلاف سازش کی ہے اور بریکنگ نیوز یہ ہے کہ پروفیسر شہباز گل نے بھی اپنا گرین کارڈ جلانے سے انکار کر دیا ہے۔

Facebook Comments HS