ایک غلام نظام میں سانس لینے والی آزاد شہری کا چیف جسٹس کے نام احتجاجی خط
محترم چیف جسٹس صاحب
بصد احترام۔ میں ”اب تک“ آزاد ملک کے آزاد شہری کی حیثیت سے آپ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں۔ یقین کریں کہ میرے پاس الفاظ کے پٹارے میں آپ کے آج کے ”تاریکی“ فیصلے کو سراہنے کے لئے لفظوں کی شدید کمی ہے۔ آپ اندازہ نہیں کر سکتے کہ یہ سب لکھتے ہوئے میرے آنسو نہیں رک رہے کہ آپ نے وہ کر دیا جو یہ قوم سوچ ہی نہیں سکتی تھی۔
چیف جسٹس صاحب! یہ اب تک کی آزاد قوم ہمیشہ آپ کی شکر گزار رہے گی کہ آپ نے دیوانے کا خواب توڑ دیا۔ آپ نے ایک ہی جھٹکے میں بتا دیا کہ بابائے قوم کا گوروں سے آزادی لینے کا فیصلہ غلط تھا لہٰذا اس قوم کی باگ ڈور چوروں کے حوالے کی جاتی ہے۔ ہم شکر گزار ہیں آپ نے پاکستان کو ایک عظیم قوم ہونے سے بچا لیا۔ مجھے نہیں معلوم کہ یہ قوم آپ کا یہ احسان کس طرح اتار سکے گی کہ آپ نے قوم کو اس خواب سے بیدار کرنے کی ساری کوشش کی کہ مدینہ کی ریاست، بدنیتوں کے وطن میں قائم نہیں ہو سکتی، ”وکونومع الصدقین“ پر عمل کرنے والے بیوقوف اور ”امر بالمعروف“ پر ڈٹ جانے والے پاگل ہوتے ہیں۔ اگر ایمان زندہ رکھنا ہے تو ”و نہی عن المنکر“ پر عملی قدم نہیں اٹھایا جاتا بلکہ ”بھکاریوں“ کو چاہیے کہ بس دل میں برا جانیں۔
ہم شکر گزار ہیں کہ ہمیں پتہ چل گیا کہ ڈالرز کی آنکھوں خیرہ کردینے والی چمک، مادر وطن کے ماتھے پر لگے وطن فروشوں اور دامن میں چھپے ضمیر فروشوں کی کالک کو ماند کر دیتی ہے۔ مجھے نہیں پتہ کہ آپ کا شکریہ کن الفاظ میں ادا کیا جائے کہ جناب آپ نے قوم پر احسان کیا کہ آپ نے :بھکاری ”قوم کے مانگنے والے لیڈر کا خواب اللہ کے نام پر اسمبلی بحال کر کے پورا کر دیا۔ ورنہ اسے پاک وطن پر حکمرانی کا خواب اپنے بھائی اور بھتیجی کے ہوتے ہوئے کبھی پورا ہوتا نظر نہیں آتا تھا، یہی نہیں بلکہ گزشتہ ساڑھے تین برس سے منسٹر انکلیو کو حسرت بھری للچائی نگاہوں سے دیکھتے، ترستے شخص کی دیرینہ خواہش بھی پوری ہونے میں بھرپور معاونت کی۔ آپ نے بتایا کہ یہ ذہنی آزادی نام کی کوئی بلا اس ملک میں پروان نہیں چڑھ سکتی یہاں صرف غلامی کا راج رہ سکتا ہے۔
خدا کے بعد آپ کا شکریہ کہ ہمیں بحیثیت شہری پتہ تو چلا کہ وطن فروشی، مفاد پرستی، ضمیر کا سودا مفادات کی سیاست اور غیرت پر سمجھوتہ کوئی بری بات نہیں ہوتی بلکہ ”نظریہ ضرورت“ کے تحت جب جس کا دل چاہے وہ باہر بیٹھے لوگوں کی مدد سے اپنی ملکی بقاء اور سلامتی کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ اور عظمیٰ کے پاس کوئی فالتو وقت نہیں کہ ان بے ضمیروں کو کٹہرے میں لائے اور ان کا احتساب کرے۔ ملک کے اعلی عہدیدار کی حیثیت سے یہ قوم آپ کی احسان مند رہے گی کہ آپ کی وجہ سے ہمیں آگاہی ملی جھک جانا اور بک جانا، لڑ جانے سے بہتر ہے، ہم غلام قوم ہیں ہماری آزادی ایک سراب ہے جسے باہر بیٹھے دیوتا، اندر بیٹھے کٹھ پتلیوں کی مدد سے جب چاہیں پتلی تماشے میں بدل سکتے ہیں۔
آپ نے بالکل صحیح کیا کہ جب گھر میں آگ لگی ہو تو جو بچے اسے بچا لو کا سوچتے ہوئے خود کو بچا لیا کیونکہ اگر آپ ہی نہیں ہوں گے تو ایسے سنہرے فیصلے کون دے گا۔ ورنہ خدانخواستہ قوم ایک ایسے شخص کے پیچھے بھاگنے لگتی جس کے پاس کھونے کو کچھ بچا ہی نہیں اور وہ اپنا سب کچھ اس وطن پر لٹانے کے بعد خود کو بھی نچھاور کردینے پر تلا ہوا ہے تو ان معصوم ”کھانے اور لگانے“ والوں کے خواب کون پورے کرے گا؟ ہاں البتہ ایک شکوہ ہے آپ سے کہ بڑے بے مروت ہیں آپ، آپ تین نسلوں سے جمہوریت کی بقاء کے لئے قربانی دینے والے کی مسکراہٹ میں ایسا کھوئے کہ آپ نے حال تک نہ پوچھا، بیچارہ ہر بار ایمبولینس میں آنے والا، ہر بار پیشی پر استثنا لینے والا بھاگ بھاگ کر روسٹرم پر آ رہا ہے تو اس کی کمر کا درد کیسا ہے؟
چیف جسٹس صاحب! جہنم میں جائیں 22 کروڑ لوگ مگر 222 لوگوں کے خواب نہ ٹوٹنے پائیں۔ وہ وفادار لوگ ہیں جو جن سے پیسے لیتے ہیں ان سے غداری نہیں کرتے۔ پاکستان کا کیا ہے یہاں تو ہم نے رہنا ہے بڑے لوگوں کو تو بڑے پیسوں والے بڑے ملک جاکر اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کے بڑے بڑے خواب پورے کرنے ہیں۔ آپ کو ان کو مایوس نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے خواب سلامت رہیں باقی آزادی تو آنی جانی چیز ہے۔ اس ملک کا اللہ حافظ ہو گا۔ مجھے یقین ہے کہ یہ قوم کم از کم اس زندگی میں تو آپ کا یہ احسان نہیں اتار سکے گی۔
شکریہ
”اب تک“ آزاد ملک کے غلام نظام میں سانس لینے والی ایک آزاد شہری۔


یہ رنڈی کون ہے۔آزاد رنڈی
سبحان اللہ ماشااللہ وراثت میں ملا آپ کا خوبصورت لہجہ۔
قابلِ غور