ہیجان کے بعد


اب جبکہ ہیجان تھم چکا ہے تو کچھ متفرق باتیں عرض کرنی ہیں

ہمارا آئین اپنی ساخت میں بہترین ہے اور اس میں خود اپنی اصلاح کی لچکدار گنجائش بدرجہ اتم موجود ہے اور اس پر اس کی روح کے مطابق مکمل عملدرآمد سے یہ ہمیں ایک باقاعدہ اور عظیم قوم بنا سکتا ہے

عمران خان کی حکومت نہیں رہی لیکن وہ خود اور ان کی جماعت موجود ہیں اور پورے پاکستان میں اپنی موجودگی رکھتے ہیں اور گو کہ انہوں نے اپنی حکومت سے معزولی کے عمل کو باوقار نہیں رہنے دیا لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ انہوں نے اس پورے عمل کے دوران اور بعد میں بھی کوئی سندھ پنجاب یا پختون کارڈ وغیرہ استعمال نہیں کیا ان کا مخاطب ہمیشہ پاکستانی قوم رہی اور امید ہے آئندہ بھی رہے گی اور یہ عمل ازخود وفاقی روح اور قوم سازی میں ایک واضح سنگ میل ہے کہ ان کا مخالف سیاسی اتحاد بھی ایسے ہی کسی نعرے کے بل پر ان کی مخالفت نہیں کر سکا

پاکستان میں وفاقی سیاسی جماعتوں کی تعداد اور استعداد بڑھ رہی ہے اور علاقائی جماعتیں اب پریشر گروپس کے بجائے ملکی معاملات میں معاون کا کردار ادا کر رہی ہیں یہ بھی لوگوں کی شمولیت اور اشتراکی روئیے کی طرف واضح اشارہ ہے

پیپلز پارٹی کو اب پنجاب اور خیبر پختونخوا میں واضح موقف کے ساتھ آگے بڑھنے کی کوشش کرنی ہو گی جو اپنی سنانے کے بجائے وہاں کے مقامی مسائل کو سننے، سمجھنے اور ان کو حل کرنے کی آواز بننے کی حکمت عملی پر مشتمل ہو

مسلم لیگ (نون) کو پنجاب پر اکتفا کرنے کی بے نیازانہ کیفیت سے آگے بڑھنا ہو گا اور باقی صوبوں میں اتحادی تلاش کرنے کے بجائے خود اپنی تنظیم اور پیغام کے ساتھ وہاں اپنی موجودگی کو یقینی بنانا ہو گا

مذہبی جماعتوں میں جماعت اسلامی سب سے منظم لیکن اپنے محدود ووٹ بنک اور عوام کے مزاج کے مطابق نا ہونے کی وجہ سے ابھی کچھ غیر موثر ہے اگر وہ خود کو بالاتر اور دوسروں کو کمتر مسلمان سمجھنے کے تاثر کو زائل نہیں کرتے اور اپنے مزاج میں لچک لانے میں ناکام رہے تو ان کا کردار پاکستانی سماج میں مزید محدود ہو جائے گا

جے یو آئی نے کچھ انتخابی کامیابیاں ضرور حاصل کی ہیں لیکن آخرکار وہ ایک اقلیتی مسلک کے نمائندہ ٹھہرتے ہیں اور اس کی حمایت بھی ملک گیر سہی لیکن محدود اور غیر موثر ہے اور صرف مخصوص آبادی کے ارتکاز والے علاقوں میں نتیجہ خیز ہو پاتی ہے، ان کو اس امر میں کوئی مشورہ دینے سے قاصر ہوں اپنے اس محدود میدان میں بہتری اور توسیع کی جو تدبیر کرنی ہے وہ انہوں نے خود ہی کرنی ہے

باقی مسالک کی مذہبی جماعتیں اول تو قابل ذکر نہیں اور اگر کہیں ہیں بھی تو وہ فقط ”فطرت کے مقاصد کی نگہبانی“ کرتی نظر آتی ہیں

علاقائی اور لسانی جماعتوں کی اکثریت کے بارے میں میری یہ رائے ہے کہ یہ خود نہیں بنتیں بلکہ مختلف امور اور خدمات کی انجام دہی کے لئے بنائی جاتی ہیں اور ان کے ذریعے آبادی کے مختلف طبقات اور حقیقی سیاسی طاقتوں کو پٹہ ڈالنے اور دباؤ میں رکھنے کا کام کئی جہتوں سے اور بہت شاطرانہ انداز میں لیا جاتا ہے اور انہیں عوام دشمن مقاصد کے لئے بھرپور طور پر استعمال کیا جاتا ہے

ایک نئی اور ملک گیر سیاسی پارٹی کی ضرورت اور گنجائش ہر وقت موجود ہوتی ہے تاکہ عام لوگوں کو متبادل بیانیہ دستیاب رہے اور پہلے سے موجود سیاسی قوتوں پر کارکردگی کا دباؤ بڑھ سکے اور ایسی مسابقت کی فضاء قائم ہو سکے جس میں کارٹلائزیشن یا مناپلی کی گنجائش کم سے کم ہو سکے

اب جبکہ دنیا کافی آگے جا چکی ہے اس بات کی کافی زیادہ ضرورت ہے کہ ہماری سیاسی جماعتیں بھی سیٹھ کمپنیوں کے بجائے کارپوریٹ اداروں کی شکل اختیار کریں اس سے بین ال ادارہ جاتی مذاکرات میں بھی مدد ملتی ہے اور سیاسی کارکنوں کے استحصال کے امکان بھی کم ہو جاتے ہیں

اور آخر میں صرف یہ کہ جمہوریت صرف ایک نعرہ نہیں ہے جس کی تسبیح کی جاتی رہے اس پر عمل ہی اس کی افادیت کے ثمرات دکھا اور کھلا سکتا ہے

اور ہاں بہتا پانی زیادہ صاف رہتا ہے اور اپنا راستہ بھی خود ہی بناتا رہتا ہے، اسے بہتا رہنے دیں تو کئی معاملات بغیر اضافی محنت کے بھی خود ہی سیٹل ہو جائیں گے

Facebook Comments HS