سیاست کی وجہ سے اپنے بیوی بچوں کو تشدد کا نشانہ نہ بنائیں

گھریلو تشدد کی روک تھام میں کام کرنے والی بہت سی خواتین اور اداروں کا اندازہ ہے کہ موجودہ سیاسی حالات میں خواتین اور بچوں کے خلاف تشدد کے واقعات میں اضافہ ہو گا۔ تشدد پر مبنی سیاسی تقسیم اور سیاسی رہنماؤں کا عوام کو اشتعال دلانا اس نوعیت کے واقعات کو الگ سے ہوا دیتا ہے۔
ملک کی بگڑتی اور بنتی بحران زدہ سیاسی صورتحال میں اگر کوئی بے قصور ہے تو وہ گھروں میں دن رات ایک کرتی خواتین ہیں۔ ہمیں اس بات کا اچھے سے ادراک ہے کہ سیاسی کشیدگی ہو، کوئی بڑا میچ ہارا گیا ہو یا عالمی وبا کی بدولت گھروں میں مقید رہنا پڑا ہو تو گھریلو تشدد کے واقعات میں اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ اس کو یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ ایسے حالات گھریلو تشدد کے واقعات کی وجہ بنتے ہیں۔ ہمارے جیسے ملک میں گھریلو تشدد معمول کی بات ہے اور اس کو ملکی حالات کی کشیدگی کی ضرورت نہیں مگر یہ ضرور ہے کہ یہ ایک وجہ کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ موجودہ حالات اور رمضان کا مہینہ ہونے کی وجہ سے بہت ممکن ہے کہ تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہو گا۔ اگر آپ کی بیوی اس سیاسی جماعت کی حامی ہے جس کے آپ نہیں تو اس کا مطلب ہرگز نہیں کہ اس پر ہاتھ اٹھایا جائے یا زبانی زد و کوب کرنا آپ کا فریضہ ہے۔
آپ کی بیویاں یا بہنیں عورتیں ہیں جن کو ایک منفرد سیاسی نقطہ نظر رکھنے کا اتنا ہی حق ہے جتنا آپ کو۔ یقین کیجیئے کہ کسی بھی سیاسی جماعت کی محبت اور نفرت میں گھر بیٹھی صبح و شام سحری اور افطار بناتی آپ کی بیوی، بہن، بھابھی، بیٹی پر ہاتھ اٹھانا یا آواز اونچی کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ کے پسندیدہ رہنما کا اقتدار ختم کرانے میں گھر کی کسی عورت یا طفل کا کوئی کردار نہیں ہے۔ آپ کی زندگی اور گھر میں موجود عورتوں کا تو اپنی زندگی کے امور کی فیصلہ سازی میں کوئی کردار نہیں ہے تو ملک کے امور میں کیا ہو گا۔
اس لئے ہوش مندی سے کام لیں اور سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کا غصہ گھر کی خواتین اور بچوں پر نکالنے سے پرہیز کریں۔ اگر آپ کے من پسند رہنما کو اقتدار ملا ہے یا اس کا اقتدار چھینا گیا ہے، اس کا آپ کی بیوی کی سیاسی سوچ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس کے ساتھ بدزبانی سے باز رہیں۔ ہمیں احساس ہے کہ آپ دکھی ہیں، آپ کو لگتا ہے کہ آپ کا رہنما بھی دکھی ہے، آپ کے قومی نوعیت کے کچھ خواب ٹوٹے ہوں گے، مگر بیوی یا بیٹی پر غصہ کرنے اور ہاتھ اٹھانے کا آپ کے رہنما کے دکھ سے کوسوں دور کوئی تعلق ہے نہ وجہ۔
آپ کی بیوی کسی مخالف جماعت کی حامی ہے تو اس کا مطلب قطعی نہیں کہ ان حالات کے پیش نظر طلاق کی دھمکی دیں یا گھر سے نکالنے پر زور۔ اپنے غصے پر قابو رکھیں، آپ کا اقتدار گیا ہے نہ آپ کو اقتدار ملا ہے۔ جو کچھ گیا یا حاصل ہوا ہے وہ آپ کے ان ہردلعزیز رہنماؤں کو ملا ہے جن کو آپ کے وجود تک کا علم ہے نہ گماں۔ جن کو آپ کے ہونے یا نہ ہونے سے فرق پڑتا ہے وہ آپ کی وہ بیوی ہے جس کو آپ نے شاید اس لئے تھپڑ مارا کہ آپ کے رہنما کا اقتدار چلا گیا ہے۔
آج سے چند برسوں قبل، تحریک انصاف کے دھرنے میں لاہور سے اسلام آباد جانے والی ایک عزیزہ کو صرف اس لئے طلاق دے دی گئی کہ وہ عمران خان کے دھرنے میں گئی تھیں۔ کیونکہ عورت کی مجال ہی کیا جو اپنی مرضی سے کوئی قدم بھی اٹھائے اور وہ بھی شوہر کی ناپسندیدہ سیاسی جماعت کے حق میں۔
موجودہ حالات میں تحریک انصاف یا دیگر جماعتوں کے سیاسی ہمدردوں کو گھروں میں خواتین کے ساتھ بدزبانی اور تشدد کرنے کے واقعات بھی سننے کو ملے ہیں۔ اس کا تعلق اس اعصابی تناؤ سے ہے جو صرف عورت پر اتارا جاسکتا ہے، جو اس طرح کے مواقع پر تشدد سہنے پر ہی اکتفا کرتی ہے۔
سنہ نوے کی دہائی میں میری اماں کو سسرال کی جانب سے عندیہ دیا جاتا تھا کہ وہ ہرگز بھی اپنی پسند کی جماعت کو ووٹ نہیں دیں گی۔ وہ الگ بات ہے کہ شدید مخالفت اور دھمکیوں کے بعد بھی وہ اپنی سیاسی جماعت کو ووٹ دیتی رہیں۔
یہ بات بھی واضح ہے کہ شادی کے بعد اکثر لڑکیوں کی سیاسی جماعت ہی بدل جاتی ہے۔ عورتوں کا ایسا مقام ہے کہ شادی کے بعد سیاسی جماعت کی حمایت کیا، ان کا نام، مستقل پتہ، مسلک، یہاں تک کہ خدا بھی بدل جاتا ہے۔
پاکستان میں خواتین کی سیاست میں شمولیت یا عام خواتین کا حق رائے دہی کے حوالے سے جو حال ہے وہ پنہاں نہیں ہے۔ اس ملک میں وہ علاقے بھی ہیں جہاں تمام سیاسی جماعتیں مل کر خواتین کے ووٹ ڈالنے پر پابندی کا معاہدہ کرتی ہیں تو بڑے شہروں میں انتخابات یا کسی بھی سیاسی سرگرمی میں خواتین کی شرکت کو توہین آمیز نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔ مخصوص نشستوں پر خواتین کے چناؤ کی جو صورت حال ہے وہ عیاں بھی ہے، اسمبلیوں میں ان خواتین کے سیاسی وقار بارے مرد سیاست دان جیسی گفتگو کرتے ہیں وہ بھی سب کے سامنے ہے۔ یعنی عورت کو انتخابات میں ٹکٹ بھی نہیں دینی، اس کو سیاسی عمل کے قابل بھی نہیں سمجھنا اور مخصوص نشستوں یا منتخب ہو کر آنے والی خواتین اراکین کو خود سے سیاسی کمتر بھی سمجھنا ہے۔ یہ ہمارے نظام سیاست میں خواتین کی بہت عام سے شکل ہے۔
اب چونکہ ملک میں سیاسی ماحول خاصا ناگوار اور کشیدہ ہے۔ ملک کے ہر نظام کی طرح سیاسی روایات بھی تشدد اور توہین پر ہی مبنی ہیں، وہیں پر ملک میں گزشتہ کئی برسوں سے سیاسی جماعتوں کی حمایت اور مخالفت پر نا صرف معاشرے میں بلکہ گھریلو نوعیت کے مسائل بھی الگ سے سامنے آتے رہتے ہیں، جن کو مسائل گردانا بھی نہیں جاتا۔ صرف سیاسی اختلاف پر لوگ رشتے ناتے توڑتے ہیں تو کہیں گھر۔ یہاں میاں بیوی رہنماؤں پر جھگڑتے ہیں۔
جو روایات پولنگ اسٹیشنز کی تھیں، وہ اب گھر کے دالانوں کو پار کر کے بیٹھکوں تک آن پہنچی ہیں جو بگڑ کر گھریلو تشدد کے واقعات کے بڑھاؤ کی ایک کڑی ہے۔ کسی بھی اختلاف اور کشیدہ صورتحال میں خواتین اور بچے سب سے زیادہ نازک مرحلے سے دوچار ہوتے ہیں۔ لہذا، کچھ لحاظ کریں اور اپنوں کو محبت اور عزت دیں۔ ان کے خیالات اور نظریات کی حرمت بر لائیں اور اختلاف کو اشتعال میں تبدیل کرنے سے گریز کریں۔ رہنما اور حکمران بدلتے رہتے ہیں، کہیں اپنے بھی نہ بدل جائیں کیونکہ گھریلو تشدد کی روک تھام کے لئے کام کرنے والی رضاکار ضرور کوشاں ہیں کہ متشدد اپنوں کو تبدیل کیا جائے اور خواتین کی بہتر زندگی کے لئے دل سے کام کیے جائیں۔

